’پاپ میوزک کی مقبولیت کا سہرا راجیو گاندھی کے سر‘

تصویر کے کاپی رائٹ alisha chinai
Image caption الیشا نے بھارتی فلم اور پاپ موسیقی کے چند مشہور ترین نغموں کو آواز دی ہے

بھارت میں سنہ 1990 کی دہائی میں سرکاری ٹی چینل دور درشن کے علاوہ نجی ٹی وی چینلوں کا دور آیا، فلمی گانوں سے علیحدہ میوزک البمز اور پاپ ویڈیوز کا زبردست کریز ہوا۔

ایسا ہی ایک البم ’میڈ ان انڈیا‘ تھا جس کی گلوکارہ الیشا چینائے تھیں، جنھیں اس البم سے خاصی شہرت ملی۔ کشور کمار کے ساتھ فلم ’مسٹر انڈیا‘ میں گانے والی اليشا نے ‘كجرارے‘ جیسے ہٹ گیت بھی گائے۔ بی بی سی کے ساتھ الیشا چینائے نے اپنے اور موسیقی کے بارے میں گفتگو کی۔

اپنے نئے نغمے ’بابل مورا‘ کے بارے میں انھوں نے کہا: ’بابل مورا ہندوستانی كلاسیكل گیت ہے جسے میں نے اپنے ابو کے ساتھ گایا ہے۔ اسے اودھ کے نواب واجد علی شاہ نے لکھا تھا، میں کلاسیکی گلوکار تو نہیں ہوں لیکن تھوڑی بہت کوشش کی ہے۔‘

موسیقی سے وابستگی کے بارے میں انھوں نے کہا: ’بہت بچپن سے ہی موسیقی کا شوق تھا۔ میرے پاپا کلاسیکی گلوکار ہیں اور ماں بیشتر مغربی طرز کے گیت گاتی تھیں۔ میں شاید دونوں کا مرکب ہوں۔ مجھے پاپ کا چسكا لگ گیا۔ جب میں نے پاپ گانا شروع کیا تو میرے پاپا بہت خوش نہیں تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ کیا گاتی رہتی ہو؟ میں ان سے کہتی تھی کہ پاپا آج کے بچوں کو یہی پسند ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’بہر حال جب کسی فیلڈ میں نام ہو جاتا ہے تو تعریف بھی ہونے لگتی ہے۔ یہ سب دیکھ کر پاپا بعد میں خوش ہوتے تھے اور کہتے تھے: ’’ناٹ بیڈ،‘‘ بطور خاص جب میڈ ان انڈیا اور كجرارے جیسے نغمے ہٹ ہو ئے۔‘

میڈ ان انڈیا کے بارے میں ایک سوال کے جوب میں انھوں نے کہا: ’جب میں نے میڈ ان انڈیا گایا تھا، اس زمانے میں میوزک ویڈیوز نہیں ہوتے تھے۔ موسیقار یہ گانا پہلے نازیہ حسن کی آواز میں چاہتے تھے لیکن قسمت سے وہ مجھے مل گیا۔ جب موسیقار بڈّو نے مجھے یہ گانا سنایا تبھی مجھے احساس ہو گیا کہ یہ ہٹ ہونے والا ہے۔ پھر میں نے یہ گانا ہندی میں لکھا کیونکہ بڈّو جی کو تو ہندی آتی نہیں تھی۔ انھوں نے صرف دھن سنائی تھی اور دھن میں نے لکھ لی۔ ہم نے لندن میں اسے ریکارڈ کیا تھا۔ میڈ ان انڈیا اس وقت پاپ اینتھم کی طرح ہو گیا تھا۔‘

فلموں میں پلے بیک گلوکاری کے بارے میں انھوں نے کہا: ’مجھے نہیں لگتا کہ پلے بیک گلوکاروں کو مناسب مقام ملتا ہے۔ یہ بھارت میں ہی ہوتا ہے کہ گانا کسی اور نے گایا اور فلمایا کسی اور پر۔ پلے بیک گلوکاری کو اس لیے میں نے صرف ایک متوازی کریئر کے طور پر ہی رکھا ہے۔ مجھے بھی کمائی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ بالآخر میں پاپ سنگر اور سولو آرٹسٹ ہی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ alisha chinai
Image caption الیشا نے ایشوریہ رائے پر فلمائے جانے والے آئٹم سانگ کجرارے کو آواز دی ہے

اپنی گائیکی کے بارے میں انھوں نے بتایا: ’جب میں گاتی ہوں تو پہلے کئی بار مشق کرتی ہوں۔ مجھے پتہ رہتا ہے کہ کس ہیروئن پر فلمایا جائے گا اور اسی نسبت سے میں آواز میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتی ہوں۔ مجھے پتہ تھا کہ کجرارے مستی والا گانا ہے اور ایشوریہ رائے پر فلمایا جائے گا۔ یہ گانا گلزار صاحب نے لکھا ہے اور ریکارڈنگ کے وقت وہ وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔‘

کشور کمار کے ساتھ گانے کے احساس کے بارے میں الیشا نے کہا: ’کشور جی کے ساتھ گانا کوئی آسان کام نہیں تھا اور میں اس وقت بالکل نئی نئی تھی۔ کشور جی تو ہر وقت ہنسی مذاق کر رہے تھے اور میں گھبرائی ہوئی تھی۔ گیت تھا ’’کاٹے نہیں کٹتے یہ دن یہ رات۔‘‘ ہمیں وہ گانا ایک ٹیک میں کرنا تھا اور اس کے لیے تقریباً 100 سازندے وہاں موجود تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ alisha chinai
Image caption الیشا کا کہنا ہے کہ بھارت میں پاپ میوزک کو مقبول بنانے میں راجیو گاندھی کا اہم کردار ہے

موسیقاروں اور گلوکاروں میں اپنی پسند کے بارے میں الیشا کا کہنا تھا: ’بچپن میں تو بيٹلز کا بہت اثر رہا ہے اور نورجہاں کا۔ ذرا غور کریں کہ میڈ ان انڈیا میں میں نے جو طرح لی ہیں وہ کس کی طرح ہیں۔ میں تو نورجہاں کو ذہن میں رکھ کر گاتی تھی۔ میں ان کے گانے کے انداز سے بہت متاثر رہی ہوں۔‘

ٹوئٹر پر سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ ان کی تصویر پر ایک سوال کے جواب میں الیشا نے کہا: ’جب وہ وزیر اعظم تھے تو انھوں نے چند لوگوں کو ہائی ٹی پر بلایا تھا۔ ان میں میں بھی تھی کیونکہ میرے کچھ نئے نغمے ریلیز ہوئے تھے۔ یہ 88-89 کی بات ہوگی۔ انھیں موسیقی میں بہت دلچسپی تھی اور ٹی وی کے متعلق ان کا بڑا وژن تھا۔

’اس وقت تو زیادہ کچھ تھا نہیں ٹی وی کے نام پر۔ وہ بھارت میں بڑے پیمانے پر ٹی وی، پاپ موسیقی لانا چاہتے تھے۔ بلکہ میں تو ٹی وی اور پاپ میوزک کو مقبول کرنے کا سہرا راجیو گاندھی کو ہی دیتی ہوں۔ میں نے انھیں اپنے دو انگریزی نغمے سنائے تھے اور انھوں نے تعریف میں مجھے ایک خط بھی ارسال کیا تھا۔‘

اسی بارے میں