’پہلے 15 سال جو کردار ملا، وہ کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سنہ 80 کی دہائی میں مہیش بھٹ کی فلم ’سارانش‘ آئی تھی جس میں اپنے جوان بیٹے کی باقیات حاصل کرتے ایک عمر رسیدہ شخص کی جدوجہد کو پیش کیا گیا تھا۔ اٹھائیس برس قبل اس بوڑھے شخص کا کردار معروف اداکار انوپم کھیر نےادا کیا تھا۔

حال ہی میں انوپم کھیر لندن کے دورے پر تھے جہاں انھوں نے بتایا کہ فلمی پردے پر وہ پہلی بار 1973 میں یش چوپڑا کی فلم داغ میں نظر آئے تھے۔ کہانی کچھ ایسی ہے کہ یش چوپڑا 70 کے عشرے میں شملہ میں اپنی فلم ’داغ‘ کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ شوٹنگ دیکھنے والوں کی بھیڑ میں انوپم کھیر بھی تھے، تب وہ چھوٹے ہی تھے۔ بھیڑ کے ایک شاٹ میں انوپم کا بھی چہرہ نظر آتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ اکثر یش چوپڑا کو داغ کا وہ شاٹ پاز (روک) کر کے دکھاتے تھے۔ بالی وڈ کے معروف ہدایت کار یش چوپڑا کی یاد میں ہونے والی ایک تقریب سے پہلے انوپم کھیر نے بی بی سی سے بات کی۔

سوال : آپ یش چوپڑا کی تقریباً ہر فلم میں نظر آتے تھے۔ ذاتی زندگی میں ان کی شخصیت کیسی تھی؟

جواب: یش چوپڑا کے ساتھ فلمیں تو میں نے بہت سي کی ہیں لیکن گذشتہ 15 برسوں میں ذاتی طور پر میری ان سے زیادہ جان پہچان ہوئی۔ ہم دونوں بریک فاسٹ فرینڈ تھے۔ اگر میں ممبئی میں ہوتا تھا تو ہفتے میں تین یا چار روز تو صبح کا ناشتہ ان کے ساتھ کرتا تھا۔ ان پندرہ سولہ برسوں میں مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کے پاس معلومات کا خزانہ ہوتا تھا۔ زندگی کے تئیں ان کا نظریہ بہت خوبصورت ہوتا تھا۔ وہ بہت خوش مزاج اور زندہ دل انسان تھے۔ مٹی سے جڑے ہوئے انسان تھے۔ جتنے پیشنیٹ وہ فلموں کو لے کر تھے، اتنے ہی پیشینٹ کھانے اور شاعری کے حوالے سے بھی تھے۔ دراصل کچھ چیزوں کو الفاظ کا جامہ پہنانا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ بعض لمحے صرف خاموشی سے دل میں اتر جانے کے لیے ہوتے ہیں۔

سوال : آپ کے ٹی وی شو پر کافی بحث ہو رہی ہے۔ شاہ رخ خان کے ساتھ آپ نے ایپیسوڈ شوٹ کیا ہے۔ تو ٹی وی شو کرنے کا خیال ذہن میں کیسے آيا؟

دراصل میں اپنی زندگی پر مبنی ایک ڈرامہ کرتا ہوں، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ زندگی کی ناکامیوں کے متعلق ہے، جو چیزیں زندگی میں نہیں حاصل ہوسکیں، ان کے بارے میں ہے۔ ڈھائی گھنٹے کے اس ڈرامے میں، میں ان سب چیزوں کے بارے میں ہنستا ہوں۔

یہ ڈرامہ کرتے ہوئے مجھے لگا کہ اگر آپ دوسروں کو اپنی ناکامیوں کے بارے میں بتا دیتے ہیں تو لوگوں کے پاس آپ کو ڈرانے کا کوئی ہتھیار نہیں بچتا۔ مجھے لگا کہ کیوں نہ میں ایسا ٹی وی شو کروں جس میں ایسے لوگوں سے باتیں ہوں جو اپنی زندگی میں کامیاب ہیں لیکن ان کے دل میں بھی ڈر ہوتا ہے، گھبراہٹ ہوتی ہے، تنہائی ہوتی ہے! تو ان کی زندگی دوسرے لوگوں کے لیے تحریک بن جاتی ہے۔ کئی بار شو کا مقصد ہوتا ہے کہ کس طرح ٹی آر پی میں اضافے کے لیے الٹے سیدھے سوال کریں۔ لیکن اچھے طریقے سے بھی ٹی آر پی بڑھائی جا سکتی ہے۔

سوال : کلاسک فلموں کے ریمیک بنتے رہے ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ ’سارانش‘ کا ریمیک بھی بن سکتا ہے۔ آپ کا کیا کہنا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’شروع کے 15 سالوں میں میرے پاس جو بھی کام آیا میں نے ہر رول کیا۔‘

مجھے نہیں لگتا کہ ’سارانش‘ کا ریمیک بننا چاہیے۔ اس کا اپنا ایک جادو تھا۔ اس وقت 1984 میں حالات دوسرے تھے، مشترکہ خاندان ہوتے تھے۔ اب چیزیں بدل چکی ہیں۔ اور ویسی کئی فلمیں بن چکی ہیں۔ لیکن لوگوں کی اپنی خواہش ہے، جو بنانا چاہتے ہیں انھیں بنانا چاہیے۔ اس میں کچھ حد تک نئے موضوعات کا دیوالیہ پن بھی نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بھی ہے کہ میں خود ’شوقین‘ کے ریمیک میں کام کر رہا ہوں۔ میں نے فلم شوقین کبھی دیکھی نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آج کل کی نسل کے لیے ٹھیک ہے۔

سوال: آپ نے ہر طرح کے کردار کیے ہیں سنجیدہ، مزاحیہ، منفی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ آپ نے کن بنیادوں پر اتنے برسوں میں اپنے کردار کے انتخاب میں تبدیلیاں کی ہیں؟

یش چوپڑا جیسے ڈائریکٹر ہوتے تھے تو میں کبھی ذکر تک نہیں کرتا تھا کہ کیا رول ہے کیونکہ وہ میرے خاندان کی طرح تھے۔ دراصل میں رشتوں کو بہت اہمیت دیتا ہوں۔ اگر کسی ڈائریکٹر کے ساتھ میرا رشتہ بن جاتا ہے تو میں رول سے زیادہ اس فلمساز کے ساتھ کام کرنے کے تجربے سے گزرنا چاہتا ہوں۔ رول کی بات کریں، تو شروع کے 15 سالوں میں میرے پاس جو بھی کام آیا میں نے ہر رول کیا۔ لیکن اب میں ضرور سوچتا ہوں۔ اب میرے لیے کردار اور ڈائریکٹر سب سے زیادہ معنی رکھتے ہیں، پیسہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔

سوال: آپ کی اہلیہ کرن کھیر اب رکن پارلیمان ہوگئی ہیں۔ تو اب گھر میں ایک ممبر آف پارلیمنٹ کا ہونا کیسا لگ رہا ہے؟

میں مودی جی کی حلف برداری کی تقریب میں گیا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ ایم پی منتخب ہونے کے بعد کرن سے میری ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ لیکن میں بہت خوش ہوں۔ كرن چندی گڑھ کے لیے کافی کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ وہ سیاست میں بطور پروفیشن نہیں آئیں بلکہ انھیں ضرورت محسوس ہوئی۔ نئے ارکان پارلیمان سے سبھی کی بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔

سوال: ٹوئٹر پر فلموں، سماج، سیاست سبھی موضوعات پر آپ خوب بات کرتے ہیں۔ لوگوں کے سوالوں کے جواب بھی دیتے ہیں۔ آپ کے لیے یہ میڈیم کیوں ضروری ہے؟

سنیما میری زندگی کا حصہ ہے، میری زندگی نہیں ہے۔ میں بطور انسان کیا کرنا چاہتا ہوں یہ میں ٹوئٹر پر لکھتا ہوں۔ اس پورے عمل سے مجھے لوگوں کی شخصیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ اور ان مسائل پر بات کرنا بہت ضروری بھی ہے۔ مجھے لوگوں کے ساتھ انٹرایكٹ کرنا پسند ہے۔

سوال: بھارت سے باہر آپ نے ’بینڈ اٹ لائیک بیہكم‘ یا آسکر جیتنے والی ’سلور لائنگ بوکس‘ جیسی فلموں میں کام کیا ہے۔ بیرونی ممالک میں بھارت کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟

ہندوستانی سنیما اپنے بہترین دور سے گزر رہا ہے۔ ناظرین سنیما کو بہتر سمجھنے لگے ہیں، ان کا علم پہلے سے کہیں زیادہ ہے، اور بہتر فلمیں بن رہی ہیں۔ اس لیے لوگوں کو ہندوستانی سنیما کو پہچاننا ضروری ہو جائےگا۔ دنیا کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں