ودیا کی ٹوائلٹس کی تعمیر کو فروغ دینے کی مہم

ودیا بالن
Image caption ودیا بالن کو مختلف کردار کرنا اچھا لگتا ہے

بالی وڈ کی نامور اداکارہ ودیا بالن کا خیال ہے کہ بھارت میں خواتین کی حالت بہت خراب ہے۔

ان کی نئی آنے والی فلم ’بابی جاسوس ‘ کی تشہیر کے دوران جب ان سے خواتین کی حالت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میں بڑے شہر میں رہتی ہوں، فلموں میں کام کرتی ہوں تو شاید میں اس بات کا جواب ٹھیک سے نہ دے پاؤں۔

’سچ تو یہ ہے کہ چھوٹے شہروں اور دیہات میں اب بھی حالات تشویش ناک ہیں۔ خواتین اب بھی مشکل حالات سےدوچار ہیں اور چھوٹے کیا بڑے شہروں میں بھی خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بڑی شرمناک بات ہے۔‘

ودیا مکمل طور پر مایوس بھی نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اب لوگوں میں بیداری پیدا ہو رہی ہے اور اس جانب چھوٹے چھوٹے قدم ہی بہتری کی کوشش ہوگی۔

ودیا بالن گاؤں میں بیت الخلاؤں کی تعمیر کو فروغ دینے کی مہم سے وابستہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PR
Image caption ودیا بالن نے ’بابی جاسوس‘ میں مرد کا روپ دھارا ہے

جب ان سے پوچھا گیا کہ گاؤں میں خواتین کی حالت بہتر بنانے کے لیے کیا کرنا چاہیے تو انھوں نے فوراً کہا: ’گھروں میں بیت الخلا بنانے کی سمت میں تیزی سے کام کرنا چاہیے۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ عورت ہی گھر کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اور اسے اس طرح سے کھلے میں رفع حاجت کرنے جانا پڑتا ہے۔‘

ودیا حکومت ہند کی ایک مہم سے وابستہ ہیں جس کے تحت دیہی علاقوں میں گھروں میں بیت الخلا بنانے کے لیے لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ودیا دعوٰی کرتی ہیں کہ ان کی یہ مہم بہت کامیاب رہی ہے۔

ودیا بالن کی فلم ’بابی جاسوس‘چار جولائی کو ریلیز ہو رہی ہے جس میں ودیا بالن جاسوس بنی ہیں، جس میں انھوں نے کئی روپ اختیار کیے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’ایک مرتبہ شوٹنگ کے دوران انھوں نے ایک مرد کا روپ اختیار کیا تو ان کے اپنے عملے کا ایک شخص انھیں پہچان نہیں پایا اور اس نے بہت بُری طرح سے انھیں ڈانٹے ہوئے کہا: ’’اوئے ہٹ یہاں سے،‘‘ لیکن جب اسے پتہ چلا کہ یہ میں ہوں تو وہ بیچارہ بڑا شرمندہ ہوا۔‘

ودیا بالن فلموں میں اپنے مختلف کرداروں کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ بہت جلدی ایک طرح کے کرداروں سے بور ہو جاتی ہیں اسی لیے الگ الگ کردار نبھاتی ہیں۔

اسی بارے میں