’زہرا آپا کوگراؤنڈ فلور پر دو کمرے بھی نہ مل سکے‘

تصویر کے کاپی رائٹ pr
Image caption زہرا سہگل کو چلنے پھرنے میں مشکل پیش آتی تھی

بھارتی فلموں کی معروف اداکارہ اور تھیئٹر کی مشہور شخصیت زہرا سہگل کے انتقال پر ملال و افسوس کا اظہار کیا گيا ہے اور انھیں خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے زہرا سہگل کے لیے اپنے تعزیتی پیغام میں ٹویٹ کیا: ’زہرا سہگل نے اداکاری سے اپنی پہچان بنائی جسے نسلیں پسند کرتی ہیں۔ ان کی موت سے بہت دکھ ہوا۔‘

اداکارہ زہرا سہگل کا فن اور زندگی: آڈیو رپورٹ

امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان جیسی فلمی ہستیوں نے بھی زہرا کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیغامات میں ان کے لیے دعائیں کی ہیں۔

اداکارہ پرینکا چوپڑا ہوں یا پھر مورّخ عرفان حبیب، سب نے اپنے اپنے انداز سے انھیں سراہا ہے اور ان کی مختلف النّوع طرز زندگی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

زہرا سہگل ایک ایسی فنکارہ تھیں جنہوں نے تھیٹر اور فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور اس کے اعتراف میں بھارتی حکومت نے انھیں پدم وبھوشن جیسے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا تھا۔

لیکن زہرا کے ایک بہت قریبی ساتھی اور بھارت کی معروف تھیٹر ہستی ایم کے رائنا کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا اس پر وہ بہت شرمندہ ہیں۔

بی بی سی سے بات چیت میں ایم کے رائنا نے کہا: ’زہرا سے میرے ذاتي تعلقات تھے۔ وہ ہندوستان میں تھیٹر کی گرینڈ مدر کی طرح تھیں۔‘

انھوں نے بتایا: ’دہلی میں منداکنی کے علاقے میں جس ڈی ڈی اے فلیٹ میں وہ تیسری منزل پر رہتی تھیں اس کی چھت ٹوٹ رہی تھی۔ اس حالت میں ہم نے حکومت سے گزارش کی ہے کہ انھیں گراؤنڈ فلور مہیا کیا جائے لیکن کسی نے بھی کوئی مدد نہیں کی۔‘

ایم کے رائنا نے کہا: ’زہرا آپا کی مالی حالت تو بہت خراب نہیں تھی لیکن انھیں چلنے پھرنے میں بہت مشکل پیش آتی تھی۔ گذشتہ برس فروری میں لیفٹیننٹ گورنر کو بھی اس سلسلے میں خط لکھا گیا تھا لیکن آج تک کوئی جواب نہیں آیا۔‘

مسٹر رائنا نے کہا: ’مجھے شرم آتی ہے کہ میرا ملک اتنا بھی کنگال نہیں ہے کہ ایک فنکار کی اتنی سی مدد بھی نہیں کر سکے۔ زہرا آپا کا جدید ہندوستانی تھیئٹر میں اہم کردار رہا ہے اور انھوں نے بین الاقوامی سطح پر نام کمایا ہے۔‘

مسٹر رائنا نے بتایا کہ زہرا آپا کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ ان کی یادداشت غضب کی تھی۔

’میں ان کے انتقال کو جھٹکا تو نہیں کہوں گا کیونکہ ہر انسان کو ایک دن تو جانا ہی ہے۔ لیکن مجھے اس بات کا افسوس ہمیشہ رہے گا کہ ہم اتنے بڑے فنکاروں کو رہنے کے لیےگراؤنڈ فلور پر دو کمرے بھی نہیں دے سکے۔‘

اسی بارے میں