رپورٹر نے ایم ايچ 17 طیارے کی کوریج میں غلطی کی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سکائی کے نامہ نگار کولن بریزیئرکا کہنا ہے کہ یوکرین کے حالات عجیب اور مختلف تھے

برطانیہ کے ٹی وی چینل سکائی کے نیوز رپورٹر کولن بریزیئر نے تسلیم کیا ہے کہ یوکرین میں تباہ ہونے والے طیارے ایم ایچ 17 کے مسافروں کے سامان کو چھونے اور دکھانے کے بارے میں ان سے غلطی ہوئی ہے۔

انھوں نے برطانوی اخبار گارڈین میں لکھا ہے کہ جہاں یہ طیارہ تباہ ہو کر گرا تھا اس علاقے میں جانے پر کسی قسم کی پابندی نہیں تھی اور وہ اپنی ’مرضی کے مطابق ہر جگہ آ جا سکتے تھے۔‘

لیکن انھوں نے اپنی ’فاش غلطی‘ کو ’سنگین بھول‘ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بچے کا فلاسک دیکھ کر پرواز کے دوران روتے رہے۔

واضح رہے کہ اتوار کو بریزیئر کی وہاں سے براہ راست نشریات کے بارے میں سو سے زیادہ افراد نے میڈیا کے نگراں ادارے آفکوم میں طیارے کے سامان کے ساتھ ’چھیڑچھاڑ‘ کی شکایت درج کی تھی۔

اس سے پہلے کہ براڈکاسٹنگ کی ضابطہ کار کمیٹی تحقیقات کا فیصلہ کرے، ابھی شکایات کی جانچ کی جا رہی ہے۔

اس دن پیش کی جانے والے براہ راست رپورٹ میں بریزیئر کو ایک کھلے ہوئے سوٹ کیس سے سامان نکالتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

تاہم انھوں نے اسے یہ کہتے ہوئے واپس رکھ دیا تھا کہ ’میرے خیال میں ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ یہ مناسب نہیں ہے۔‘

ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سکائی اور بریزیئر دونوں نے ’اس عمل سے پہنچنے والے صدمے کے لیے بہت معافی مانگی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حادثے کا شکار ملائشیا کے طیارے ایم ایچ 17 کے مسافروں کے سامان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ پر بہت سے لوگوں نے شکایت کی ہے

سوشل میڈیا پر اس کے متعلق زبردست مخالفت کے بعد انھوں نے واقعات کی اپنی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ دوسرے صحافی اپنی مرضی سے اس تباہ شدہ طیارے کی جگہ جو چاہ رہے تھے کر رہے تھے لیکن انھوں نے ’میرے عمل کو بے وقوفی میں مثال مان لیا۔‘

انھوں نے لکھا کہ انھیں ’یہ احساس ذرا دیر سے ہوا‘ کہ ان سے غلطی سرزد ہو رہی ہے اور اس کے بعد انھوں رونا شروع کردیا جو انٹرنیٹ کی خراب کوالٹی کی وجہ سے ان کی رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔

انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا: ’ہفتے کو مجھ سے غلطیاں سرزد ہوئیں اور اگر کوئی شخص ہے جس سے میں بذات خود معافی مانگوں تو میں ایسا ضرور کروں گا۔‘

بریزیئر نے یہ بھی کہا کہ نشریات کے دوران ان کی ’معافی کو صرف چند جگہوں پر ہی نقل کیا گیا ہے اور وہ بھی ان لوگوں نے جو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ صحافتی لالچ کی زبردست مثال ہے۔‘

یوکرین سے انھوں نے براہ راست پروگرام میں کہا: ’یہاں کوئی واضح متعلقہ چیز نہیں ہے۔‘ تاہم کیمرہ مین نے ’ایسی کسی جگہ کو دکھانے سے پرہیز کیا جہاں کوئی لاش ہو سکتی تھی۔‘

انھوں نے اس سے قبل سنہ 2004 میں لیک کونسٹانس میں حادثے کا شکار ہونے والے ایک طیارے کی خبر دینے کے اپنے تجربے کا ذکر کیا جس میں پولیس نے حادثے کے فورا بعد علاقے کو قبضے میں لے لیا اور تفتیشی عملے کی آمد سے قبل کسی بھی صحافی کو وہاں جانے سے باز رکھا۔

واضح رہے کہ طیارہ ایم ایچ 17 مشرقی یوکرین میں باغیوں کے کنٹرول والے علاقے میں تباہ ہوا تھا اور اس پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں