’نائن الیون کے پوسٹر‘ پر فلم کمپنی کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ننجا ٹرٹل سیریز پہلے کامکس بک کی شکل میں آئی تھی جسے 1990 میں فلم میں ڈھالا گیا

امریکی فلم کمپنی پیراماؤنٹ پکچرز نے اپنی قلم ’ٹین ایج میوٹنٹ ننجا ٹرٹلز‘ کے ایک پوسٹر کے بارے میں معافی مانگی ہے۔ اس پوسٹر میں حادثاتی طور پر 9/11 کے حادثے کا حوالے دیا گیا تھا۔

پوسٹر میں فلم کے کرداروں کو ایک اونچی عمارت سے چھلانگ لگا کر جان بچاتے دیکھایا گیا ہے اور اس تصویر کے بالکل نیچے فلم کی آسٹریلیا میں ریلیز کی تاریخ لکھی ہے جو 11 ستمبر ہے۔

انٹرنیٹ پر ایک پوسٹر پر تنقید کے بعد کمپنی نے اس پوسٹر کو اپنے فیس بک اور ٹوئٹر کے صفحے سے اتار دیا۔

پیراماؤنٹ آسٹریلیا نے ایک بیان میں کہا کہ اس تصویر اور تاریخ کا ملایا جانا غلطی کا نتیجہ تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فلم کی آسٹریلیا میں ریلیز کی تشہیر کے لیے اس تصویر کے استعمال کے لیے ہم انتہائی معذرت خواہ ہیں۔‘

’ہم کسی کے جذبات کو مجروح نہیں کرنا چاہتے تھے اور ہم نے فوری طور پر اس کا استعمال روک دیا ہے۔‘

یاد رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکہ کے شہر نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملے میں لوگوں کو عمارت کی مختلف منزلوں سے چھلانگیں لگاتے دیکھا گیا تھا۔

لوگوں کے ٹویٹس

سٹیون سکاٹ: بری فلم، برا ذوق

راس او ڈوون: مارکیٹنگ ٹیم نے اس غلطی کو کس طرح جانے دیا؟

سوزین کاربن: واقعی؟ 11 ستمبر کو ریلیز ہونے والی فلم کے پوسٹر میں ننجا ٹرٹلز نیویارک کی جلتی ہوئی عمارت سے چھلانگ رہے ہیں۔

تاہم کچھ لوگوں کا رویہ نسبتاً معتدل تھا۔ ایلیکس شوبا نے لکھا: فلم کے متوقع ناظرین یا تو بہت چھوٹے ہیں جنھیں یاد ہی نہیں ہو گیا کہ نائن الیون کو کیا ہوا تھا یا وہ اس واقعے کے بعد پیدا ہوئے ہوں گے۔ اور ویسے بھی یہ پوسٹر بیرونی مارکیٹ کے لیے ہے۔ میں انھیں معاف کرتا ہوں۔

اسی بارے میں