جونسن: ووگ کے کور پر آنے والی پہلی سیاہ فام خاتون

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بورلے جاہنسن وکیل بننا چاہتی تھیں

ماڈلز کے ایجنٹوں نے انھیں بتایا کہ وہ کبھی اس مقام پر نہیں پہنچ سکتی، ہیئر ڈریسروں نے ان کے بالوں کو چھونے سے بھی انکار کیا اور کوڈک کمپنی ایسی فلم ریل بناتی ہی نہیں جو ان کی جلد کی رنگت کے حساب سے ہو۔ لیکن پھر بھی 40 سال پہلے بیورلے جونسن پہلی سیاہ فام خاتون بن گئی تھی جن کی تصویر امریکن ووگ میگزین کے کور پر شائع ہوئی اور اس کی پہلی ’بلیک کور گرل‘ بن گئیں۔

’آپ کا مطلب ہے کہ ابھی تک ووگ میگزین کے کور پر کسی بھی غیر سفید فام خاتون کی تصویر شائع نہیں ہوئی؟ کیا آپ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟ ہم 1970 کی دہائی میں جی رہے ہیں۔‘

جب بیورلے جونسن کو معلوم ہوا کہ ان کی تصویر فیشن کا بائبل کہلانے والے رسالے کے اگست سنہ 1974 کے شمارے کے کور پر شائع ہوئی ہے تو وہ انتہائی خوش ہوئیں لیکن انھیں یہ پتہ چلنے پر شدید غصہ بھی آیا کہ کور پر ان کی تصویر آنے سے وہ ایک نسلی تعصب کے رواج کو بھی پہلی دفعہ تھوڑ رہی ہیں۔

جب وہ 21 سال کی تھی تو انھیں ماڈلنگ کرتے ہوئے چند سال ہی ہوئے تھے اور وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ ووگ کے کور پر آنے کا مقصد انھیں تاریخ کے کتابوں میں بھی رقم کر دے گا۔

کور تصویر میں جونسن کے بال کالے تھے اور انھوں نے موسم کے برعکس انگورا کارڈیگان یا گرم کپڑوں کے ساتھ بلگاری کی بالیاں پہنی ہوئی تھیں۔ جب ان کی تصویر والا میگزین مارکیٹ میں آیا تو انھیں دنیا بھر سے ٹیلیفون کالز آنا شروع ہو گئیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے تو مجھے تب پتہ چلا کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘

’مجھے افریقہ اور یورپ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے انٹرویو کیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ یہ وہ وقت ہے کہ امریکہ جاگ گیا ہے۔ یہ زندگی بدل دینے والے لمحے تھے۔‘

جونسن نیویارک کے شہر بفلو میں ایک مکمل طور پر سفید فام رہائشی علاقے میں پلی بڑھی تھیں اور انھیں ملک کے دیگر علاقوں میں نسلی تعصب کی بنیاد پر تناؤ کا کم ہی اندازہ تھا۔

ان کی ماں افریقی نژاد امریکی تھی جن کا تعلق لوئیزیانہ سے تھا اور ان کے والد نسلی یا نیٹیو امریکی تھے۔ ان کے والدین نے کبھی بھی نسل پرستی کی بات نہیں کی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے صرف یہ سیکھا تھا کہ سب اچھے اور ایک جیسے ہیں اور ہمیں باہر کی دنیا میں موجود نسلی تصب کا علم نہیں تھا۔‘

جونسن کو پہلی دفعہ نسلی تعصب کا تجربہ نوجوانی میں اس وقت ہوا جب وہ اپنی ایک دوست کے ساتھ سائیکل پر کینیڈا کی سرحد پر واقع ایک دوسرے قصبے میں گئیں۔

’انھوں نے ہمیں نسلی تعصب کا نشانہ بنایا اور ہمارے اوپر بوتلیں پھینکنے لگے۔ اس پر ہم دنگ رہ گئے۔‘

یہ سنہ 1960 کی دہائی کا زمانہ تھا جب افریقی نژاد امریکیوں کی احتجاج کی وجہ سے شہری حقوق کا ایکٹ 1964 پاس ہوا جس کے تحت نسل، رنگ، مذہب، جنس یا قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

جونسن کے خاندان کو فکر تھی کہ سیاہ فاموں کی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے مارٹن لوتھر کنگ ’عدم استحکام پھیلا رہے ہیں۔‘ لیکن جونسن جو سنہ 1965 میں نوجوانی میں داخل ہوئیں مارٹن لوتھر کنگ کو ٹی پر دیکھ کر اس کے سحر میں آ گئی۔

وہ وکیل بننا چاہتی تھیں اور پولیٹیکل سائنس پڑھنے کے لیے بوسٹن میں نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی چلی گئیں۔وہاں ان کی دوستوں نے انھیں مشورہ دیا کہ اپنی تعلیم کے اخراجات پورا کرنے کے لیے اسے ماڈلنگ کا شعبہ اختیار کر لینا چاہیے۔

انھیں گلیمر میگزین سے فری لانس کام ملنا شروع ہوگیا۔ یہ میگزین زیادہ تر سفید فام خواتین ہی خریدتی تھیں لیکن اسے پھر بھی ایک ایجنٹ ملنے میں دقت ہو رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہم نے صرف یہ سیکھا تھا کہ سب اچھے اور ایک جیسے ہیں:جاہنسن

’ہر کسی نے مجھے ٹھکرا دیا۔ ایلین فورڈ ماڈل ایجنسی نے کہا کہ میری وزن زیادہ ہے۔ لیکن تین دن بعد انھوں نے مجھے بلا کر کہا کہ آپ نے تو کافی وزن کم کیا ہے۔ لیکن حقیقت میں میرا ایک پاؤنڈ وزن بھی کم نہیں ہوا تھا۔‘

ایلین فورڈ نے جونسن کو اس وقت لیا جب اسے اندازہ ہوا کہ انھیں گلیمر کی طرف سے کافی کام مل رہا ہے لیکن ساتھ ہی ایلین فورڈ نے انھیں خبر دار بھی کیا کہ ’آپ کبھی بھی ووگ کے کور پر نہیں آ سکتیں۔ آپ گلیمر کے لیے جو کام کر رہی ہیں یہ اپ کی بڑی خوش قسمتی ہے۔‘

اس پر جونسن نے ہمت نہیں ہاری اور ایلین فورڈ کی طرف سے کام کرنے کے پیشکش کو مسترد کر دیا۔

جونسن کی ماڈلنگ کا سفر جاری ہے اور پھر سنہ 1974 میں ووگ کے فوٹوگرافر فرانسیسکو سکاویولو نے جونسن کی تصویریں کھینچی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ ووگ کے کور کے لیے ہے۔

اس زمانے میں ماڈل لڑکیوں کو اس وقت تک معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ان کی تصویر کسی رسالے کے کور کے لیے بنائی جا رہی ہیں جب تک میگزین شائع ہوکر مارکیٹ میں نہ آتی۔

اسی بارے میں