شاہ رخ خان کو 555 سے پیار کیوں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ KKR Official Page
Image caption خود کو فلمی دنیا کا ’بادشاہ‘ کہنے والے شاہ رخ خان اتنے توہم پرست ہیں کہ وہ اپنی تمام گاڑیوں کا نمبر 555 ہی لینا چاہتے ہیں

کیا آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو اس بات پر انحصار کرتے ہیں کہ کسی ٹوٹکے، توہم پرستی یا پھر تھوڑے بہت ہیرپھیر سے تقدیر کا پہیہ اپنے حق میں کیا جا سکتا ہے؟

اگر اس کا جواب ہاں ہے تو آپ بھی اپنے آپ کو ان سب ’بڑے‘ لوگوں کی قطار میں شمار کر سکتے ہیں جو کامیابی حاصل کرنے کے لیے توہم پرستی کی تمام حدیں عبور کر جاتے ہیں اور ٹوٹكے یا جادو ٹونے پر کچھ زیادہ ہی یقین کرتے ہیں۔

ایسی ’ڑی‘ شخصیات میں فلمی ستارے، کرکٹ کھلاڑی، سیاسی لیڈر اور نہ جانے کون کون شامل ہیں۔

خود کو فلمی دنیا کا ’بادشاہ‘ کہنے والے شاہ رخ خان کی حالت یہ ہے کہ وہ اسی یقین کی وجہ سے اپنی تمام گاڑیوں کا نمبر 555 ہی لینا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں جب کنگ خان کی آئی پی ایل ٹیم’ كولكتہ نائٹ رائڈرز‘ نے ڈوبتے، ابھرتے کسی طرح ٹائٹل جیت لیا تو اس جیت کا سہرا کپتان گوتم گمبھیر کی جرسی کو دیا گیا تھا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ماہر شماریات نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی جرسی پر 23 نمبر لکھوا لیں اور جب ٹیم جیتی تو اس جرسی نمبر 23 کی بڑی واہ واہ ہوئی۔

کتے کا قسمت کنکشن

اپنے زمانے کے سدا بہار اداکار اشوک کمار توہم پرستی کی حد تک اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر کسی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر سات کا ہندسہ ہوگا تو اس گاڑی کا ایک نہ ایک دن حادثہ ضرور ہوگا۔

ان کی ایک بات اور جان لیں۔ ان کو اس بات پر بھرپور یقین تھا کہ گھر میں كتا پالنے سے انسان کی قسمت چمک جاتی ہے۔

سفید ساڑھی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption راج کپور اپنی فلم کی ہر ہیروئن کو کسی ایک سین میں سفید ساڑھی ضرور پہناتے تھے

بھارتی فلمی دنیا میں ’بڑے شو مین‘ کے نام سے معروف راج کپور بھی توہم پرستی اور ٹوٹکے کے اس مرض سے آزاد نہیں تھے۔ ان کا حال تو یہ تھا کہ شاٹ لیتے وقت اگر درمیان میں کوئی چھینک بھی دے تو وہ شوٹنگ ہی روک دیتے تھے۔ دو منٹ تک ’لائٹس آف‘ کروانے کے بعد ہی دوبارہ شوٹنگ شروع ہوتی تھی۔ اسی طرح وہ اپنی فلم کی ہر ہیروئن کو کسی ایک سین میں سفید ساڑھی ضرور پہناتے تھے۔

موسیقار او پی نیّر اپنی پر کشش موسیقی اور اکھڑ مزاج کے لیے جس قدر مشہور تھے اسی قدر وہ علمِ نجوم میں توہم پرستی کی حد تک عقیدت رکھنے کے لیے بھی معروف تھے۔

جب آشا بھوسلے کے ساتھ ان کا تنازع ہوا اور دونوں میں علیحدگی ہوگئی تو انھوں نے یہی کہا تھا کہ انھیں اس بات کا پہلے ہی سے علم تھا، اس لیے انھیں کوئی حیرت نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ علم نجوم کے ذریعے اس جدائی کو انھوں نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔ وہ بات بات پر ہاتھ کی لکیروں کو پڑھنے کی باتیں کیا کرتے تھے۔

اسی بارے میں