40 سال بعد بھی اہم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کچھ پڑھنے والوں کو اگر یہ کتاب پاکستان کے موجودہ حالات کے بارے میں بھی محسوس ہو تو حیرت نہیں ہو گی

نام کتاب: عظیم المیہ

مصنف: ذوالفقار علی بھٹو

صفحات: 160

قیمت: 300 روپے

ناشر: بھٹو لیگیسی فاؤنڈیشن۔ نیو گارڈن ٹاؤن لاہور

تقسیم کار: بُک ہوم۔ بُک سٹریٹ 46 مزنگ روڈ، لاہور

یہ کتاب ان دستاویزات میں سے ایک ہے جنھیں نظر انداز کر کے لکھی جانے والی پاکستان کی تاریخ میں یقیناً ایسا خلا موجود رہے گا جو اُسے مستند نہیں بننے دے گا۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی یہ کتاب 1970 کے عشرے میں پہلی بار The Great Tragedy کے نام سے شائع ہوئی۔ تب ہی سے اخبارات و جرائد میں نہ صرف اس کے اصل متن، بلکہ دوسری زبانوں میں بھی اس کے اقتباسات کے ترجمے شائع ہوتے رہے ہیں۔

ایک طویل مضمون پر مشتمل اس کتاب میں ذوالفقار علی بھٹو نے سنہ 1970 کے انتخابات کے حالات، نتائج، نتائج کے عوامل، وہ واقعات اور ان کا پس منظر بیان کیا ہے جن کی وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا۔

بہت سے لوگ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار ذوالفقار علی بھٹو کو سمجھتے ہیں اور یہ سلسلہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد فوراً ہی شروع ہو گیا تھا۔

اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں شامل پیش لفظ کے آخر پر 20 اگست 1971 کی تاریخ درج ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ صفائی کا یہ بیان سنگین اور بوجھل الزامات پر مشتمل مقدمے کی فردِ جرم اور دو لختگی کا نتیجہ سامنے آنے سے پہلے عوام کی عدالت میں پیش کر دیا گیا تھا۔

کیوں؟ اس کا فیصلہ کرنے میں قارئین آزاد ہیں۔

یہ بیان ہمیں ان واقعات اور ان کے پس منظر کے بارے میں بتاتا ہے جن کی وجہ سے پاکستان ایک نہ رہ سکا اور یہ بھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اسے ایک رکھنے کے لیے کیا کیا۔ اس میں غیر ملکی طاقتوں کا عمل دخل کیا تھا، شیخ مجیب الرحمان کا کردار کیا تھا اور کیسا تھا اور سب سے بڑھ کر اُس وقت اسٹیبلشمنٹ نے کیا چاہا اور کیا۔

40 سال سے زائد کا عرصہ ہو رہا ہے لیکن جن لوگوں کے دلوں میں محصور پاکستانیوں کی پھانس اٹکی ہوئی ہے ان کے لیے مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا آج بھی ایک رِستا ہوا ناسور ہے۔ یہ کتاب اس ناسور کے گرد گھومتی ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک فرد کا بیان ہے کہ اُس نے حالات کو کیسے دیکھا۔ لیکن یک طرفہ ہونے کے باوجود یہ ایک ایسے فرد کا بیان ہے جو تاریخ کو تبدیل کرنے والے اِن حالات کا اہم ترین حصہ تھا۔

پاکستان کی تاریخ، سیاست اور سیاسی قوتوں پر اثرانداز ہونے والی قوتوں کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔

اگرچہ اس کتاب پر مترجم کا نام نہیں دیا گیا لیکن اسے بھٹو لیگیسی فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے اس لیے اسے ایک مستند ترجمہ سمجھا جانا چاہیے۔ معاملے کی نزاکت کے پیش نظر یہ بات اہمیت کی حامل ہے۔

کتاب میں بہت سے مسائل اور حوالے ایسے ہیں جو 1970 کے بعد پیدا ہونے والے اکثر لوگوں کو سمجھنا مشکل ہوں گے۔ اس لیے بھٹو لیگیسی فاؤنڈیشن کو آئندہ ایڈیشنوں میں اس ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کتاب میں شامل چار ضمیمے بھی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کا کتاب کے متن سے بہت قریبی تعلق ہے۔

کچھ پڑھنے والوں کو اگر یہ کتاب پاکستان کے موجودہ حالات کے بارے میں بھی محسوس ہو تو مجھے حیرت نہیں ہو گی۔ اس کے اسی پہلو کی وجہ سے اس کا ذکر ناگزیر ہوا ہے۔ ورنہ تو اس پر سنہ اشاعت 2013 ہے۔ اگرچہ یہ جاری 2014 میں کی گئی ہے۔

اگر ناشر اس کتاب کی تاریخی اہمیت کو سمجھتا تو اس بے نیازی کے کا ازالہ ضرور کرتا۔ ایک ’چیپی‘ ہی کی تو بات تھی۔

طباعت اور جلد بندی اچھی ہے۔ پروفنگ کی غلطیاں بہت ہی کم ہیں لیکن قیمت نسبتاً زائد ہے۔

اسی بارے میں