بے نام و نشان دستکاروں کی یادگاریں

Image caption ۔۔۔۔جمعرات سے شروع ہونے والی اس نمائش میں 125 سے زیادہ قابلِ استعمال اشیا ہیں

کراچی میں ایسے فرنیچر کی نمائش شروع ہوئی ہے جسے دیکھ اُن دست کاروں کے لیے بے ساختہ داد اور تحسین ہونٹوں پر آ جاتی ہے جن کے اب نام نشان تو مٹ ہی چکے ہیں اور کام بھی غائب ہوتا جا رہا ہے۔

سب سے زبردست کام، فرنیچر کی مختلف اشیا پر لکڑی میں گدائی اور ابھار یعنی’ کارونگ‘ ہے جو اب کم سے کم ہوتی جا رہی ہے اور جو ہو رہی ہے اُس میں وہ نزاکت اور مہارت نہیں ہے۔

جمعرات سے شروع ہونے والی اس نمائش میں 125 سے زیادہ قابلِ استعمال اشیا ہیں۔

یہ بادشاہ نامہ بکس، دیوان، درازدار اونچے اور فرشی میزچے، برطانوی راج کے فوجی صندوقچے، سفری کرسیاں، مینا صوفہ، آرام کرسیاں، گھٹنوں کی گنجائش رکھنے والی دراز دار میزیں، دوسرے انداز کی کی میزیں اور کرسیاں، جھولنے والے صوفے، بلبلےدار کرسیاں، ڈائمنڈ کرسیاں، کثیر درازوں والے کیبنٹ، کئی کئی دارازوں اور نیم گول ڈھکنوں والے ڈیسک، فونکس میزیں، بوتل بار اور ایڈورڈین لاؤنج سیٹھیاں وغیرہ ہیں اور ان کا تعلق انیسویں صدی کے نصف اور بیسویں صدی کے وسط تک سے ہے۔

ہر نوادر کے ساتھ کم سے تھوڑی بہت تفصیل موجود ہے جو دیکھنے والوں کو کم سے لکڑی اور رنگ و روغن کے بارے میں ضرور بتاتی ہے لیکن مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔

دنیا میں نوادر کی عمروں کا تعین ایک باقاعدہ علم ہے اور جب کسی چیز کو نادر کہا جاتا ہے تو اُس کی مدت کا تعین کرنے کی کوشش ضرور کی جاتی ہے۔

مذکورہ نمائش میں شامل فرنیچر اگر اس معیار سے نادر نہیں بھی ہے تو اپنے وجود سے نوادر ہونے کا یقین دلاتا ہے۔ نادر و قدیم گاڑیوں اور عمارتوں کو انھی کے انداز سے ٹھیک کر کے پھر سے اصل کی سی حالت میں لانے یعنی ریسٹور کرنے نے بھی اب باقاعدہ علم اور فن کی حیثیت حاصل کر لی ہے تو فرنیچر کیوں نہیں۔

Image caption ۔۔۔۔ہر نوادر کے ساتھ کم سے تھوڑی بہت تفصیل موجود ہے جو دیکھنے والوں کو کم سے لکڑی اور رنگ و روغن کے بارے میں ضرور بتاتی ہے

برصغیر قدیم تہذیبوں کا امین ہے۔ فرنیچر تما قدامت کا تو احاطہ نہیں کرتا لیکن اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں برصغیر میں مغل دور پر انگریزوں یا نوآبادیاتی دور کے اثرات کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور بتاتا ہے۔

اس سارے مشکل ترین کام کا اہتمام کرنے والی سونیا رحمٰن قریشی ہیں جن کے سر پر نہ جانے کب سے فرنیچر اور آرٹ کے ملاپ سے برِ صغیر کے ماضی کو دریافت کرنے کی دھن سوار ہے۔ لیکن ان کی اس دھن صرف بے جہت دیوانگی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

انھوں نے اس نمائش کے لیے جو نوادرات نما فرنیچر یا چیزیں پیش کی ہیں ان میں سب سے کم قدر کی قیمت 30 ہزار روپے ہے جب کہ زیادہ سے زیادہ قیمت چار لاکھ 25 ہزار روپے تک گئی ہے۔

عالمی مارکیٹ کے حساب سے یہ قیمتیں کچھ بھی نہیں ہیں۔

سونیا قریشی نیشنل کالج آف آرٹ این سی اے کی تعلیم و تربیت یافتہ ہیں۔ سنا ہے کہ وہ اداکارہ بھی ہیں اور ٹی وی ٹاک شو کی میزبان بھی رہ چکی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے آرٹ اور کلچر کو بخوبی سمجھتی ہیں۔

اتنی نادر چیزوں کو جو سو ڈیرھ سو سال تک قدیم ہوں جمع کرنا یقیناً کمال ہے۔

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سونیا نے بتایا ’واقعی مشکل تو بہت ہوئی، کئی سال میں تو جا کر نئے پرانے، لکڑی اور رنگ و روغن کی پہچان ہوئی۔ پھر یہ سب اس حال میں نہیں تھیں جس میں دکھائی دے رہی ہیں۔ بہت سی مرمت طلب تھیں۔ یہ سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ ملتی جلتی لکڑی اور ہم آہنگ گیلو اُس کے بعد رنگ و روغن اور پالش کے بارے میں جاننا اور حاصل کرنا وغیرہ۔‘

Image caption ۔۔۔اتنی نادر چیزوں کو جو سو ڈیرھ سو سال تک قدیم ہوں جمع کرنا یقیناً کمال ہے

انھوں نے بتایا کہ ایک ایک چیز کو حاصل کرنے اور پھر اُسے اس حال میں لانے کی الگ الگ کہانی ہے۔

کئی صندوقوں اور درازچوں پر مغل اور ایرانی منی ایچر انداز کی مصوری ہے۔

اس بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے سونیا رحمٰن نے بتایا ’بہت ساری چیزوں میں نے اضافے کیے ہیں۔یہ مصوری پہلے سے نہیں تھی۔ یہ سب میں نے کی ہے۔‘

شاید یہ ہے این سی اے کی تعلیم و تربیت کا فرق۔

سونیا خوش ہیں کہ انھوں اپنے مقصد میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے اور انھیں خوش ہونا بھی چاہیے کیوں کہ نمائش میں سبھی کام کی داد دے رہے تھے۔

یہ ان کی پہلی نمائش نہیں ہے۔ پہلی نمائش انھوں نےگذشتہ سال ستمبر میں اور اسی فریئر ہال میں کی تھی۔ اویا اس حوالے سے بھی وہ تجربہ کار ہیں۔

اسی بارے میں