’خوبصورت فلم بینوں کے دل شاید پوری طرح نہ جیت سکی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پہلی انڈین فلم ہے جس کا ہیرو نئی پاکستانی نسل کا مقبول اداکار فواد خان ہے اور ہیروئن سونم کپور جسے قسمت ایک شاہی خاندان کے رواجوں اور طرزِ زندگی سے ٹکرا رہی ہے

پاکستانی ہیرو فواد خان اور بھارتی ہیروئن سونم کپور والی بالی وڈ کی فلم ’خوبصورت‘ اسی نام کی سنہ 1980 میں بننے والی فلم کا ری میک ہے۔

فواد خان نے اپنی ساری مقبولیت پاکستان میں ٹیلی ویژن ڈراموں سے حاصل کی ہے اور انھی کی وجہ سے وہ ہندوستان میں بھی جانے جاتے ہیں۔

ٹیلی ویژن ڈراموں نے ہی پاکستان میں ہچکیاں لیتی فلمی صنعت کو اداکاروں اور تکنیک کاروں کی وہ نئی کھیپ بھی فراہم کی ہے جو اب اُسے ایک نئی زندگی دینے پر جُٹی ہوئی ہے۔

نئی ’خوبصورت‘ کا بنیادی ڈھانچہ وہی ہے جو 1980 میں بننے والی ریکھا کی ’خوبصورت‘ کا تھا۔

اس میں بھی ایک چلبلی اور خوبصورت لڑکی روایتوں اور اصولوں میں بندھے ایک خاندان میں داخل ہوتی اور احساس دلاتی ہے کہ بندھے لگے طریقوں نے ان سے اور تو کچھ نہیں چھینا لیکن ہنستی مسکراتی اور قہقہے لگاتی زندگی ضرور چھین لی ہے۔

یہ لڑکی درمیانے درجے کے ایک خاندان سے تعلق رکھنے والی فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر مرینالینی ’ملی‘ چکرورتی (سونم کپور) ہے اور ایک سابق راجے شیکھر راٹھور (عامر رضا حسین) کے علاج کے لیے راجستھان پہنچتی ہے۔

راٹھور خاندان کے محل پر رانی نرملا دیوی (رتنا پاٹھک) کی حکمرانی ہے۔ ملازموں کا ہی نہیں گھر کے تمام افراد کا سونا جاگنا، چلنا پھرنا یہاں تک کہ ہنسنا بولنا تک نرملا دیوی کے طابع ہے۔

نرملا اور ملی کی شخصیتیں مختلف اور متصادم ہیں۔ یہیں ملی کی ملاقات پرنس یوراج وکرم سنگھ (فواد افضل خان) سے ہوتی ہے۔

وکرم گھر سے تقریباً لاتعلق اور تجارتی کامیابیوں کے حصول میں ایسا مگن ہے کہ اپنی منگیتر کیارا (ادیتی راؤ حیدری) سے بھی اُس کا تعلق مشینی انداز کا بن جاتا ہے اور اُسے احساس تک نہیں ہوتا۔ لیکن بتدریج ملی اور وکرم کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکنے لگتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فواد خان کو پہلی بار اولین سطح کے انڈین اداکاروں، ہدایتکار اور ٹیکنیشنوں کے ساتھ کام کرنا پڑا ہے

ایک انڈین مبصر نے خوبصورت کے حوالے سے ایک اچھی کہانی گھڑی ہے۔

اب تک درجن کے لگ بھگ فلمیں کرنے والی سونم کپور نے اپنے والد انیل کپور سے جو خود بھی لگ بھگ سپر سٹار ہی ہیں، کہا: ڈیڈی مجھے شہزادی بننا ہے۔ ڈیڈی نے کہا: ٹھیک ہے لیکن جب تک ہم تمھارے لیے ایک شہزادہ ڈھونڈتے ہیں تب تک کچھ ایسا کرتے ہیں کہ تم شہزادی بھی بن جاؤ اور ہم کچھ پیسے بھی کما لیں۔

ڈیڈی نے اپنی چھوٹی بیٹی ریہا کپور کو پروڈیوسر بنایا اور سونم کے پسندیدہ سائرس ساہوکار کو کنور وکرم سنگھ بنانے کا فیصلہ کیا۔ سائرس فلم میں تو ہیں لیکن وکرم کا کردار فواد کی قسمت میں لکھا تھا۔

کہانی کا بنیادی خیال ریکھا، راکیش روشن، اشوک کمار اور دینا پاٹھک کی خوبصورت سے لیا گیا۔

ریکھا کی خوبصورت ہندوستان کی کامیاب ترین کامیڈی فلموں میں سے ایک ہے۔ اس نے نہ صرف خود بہترین فلم کا ایوارڈ حاصل کیا بلکہ ریکھا کو بھی بہترین اداکارہ کا دو میں سے پہلا فلم فیئر ایوارڈ دلایا۔

ریٹنگ کے اعتبار سے بھی 1980 کی خوبصورت نے دس میں سے آٹھ سٹار حاصل کیے جبکہ 2014 کی خوبصورت دس میں ابھی چار پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلم کی موسیقی سنیہا خان والکار، بادشاہ اور امال مالک نے ترتیب دی ہے اور گانے کئی لوگوں نے لکھے ہیں

یہ خوبصورت بھی دلچسپ اور خوبصورت ہے۔ کہانی کو بڑی کامیابی سے پہلی کہانی سے الگ کیا گیا ہے۔ پہلی خوبصورت کے مکالمے گلزار نے لکھے تھے۔ جب کہ ہدایتکار شاشانکا گھوش کی 127 منٹ پر پھیلی فلم اندرا بشت نے لکھی ہے۔

اداکاری کے اعتبار سے سونم کپور، فواد خان، کرن کھیر (منجو)، رتنا پاٹھک اور عامر رضا خان سبھی نے سو فی صد کام کیا ہے۔

ان میں صرف فواد خان ہی ایسے ہیں جنھیں پہلی بار اولین سطح کے انڈین اداکاروں، ہوایتکار اور ٹیکنیشنوں کے ساتھ کام کرنا پڑا ہے۔

لگ بھگ 18 سے 20 کروڑ انڈین روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی اس فلم نے انڈیا میں پہلے ہفتے کے دوران سنیماؤں پر نسبتاً سست ابتدا کی ہے اور ساڑھے 18 کروڑ کمائے۔ جب کہ بیرون ملک نو کروڑ کے مساوی ریوینیو حاصل کیا۔ کہا جاتا ہے فلم کو 15 کروڑ روپے موسیقی سے حاصل ہوئے ہیں۔

فلم کی موسیقی سنیہا خان والکار، بادشاہ اور امال مالک نے ترتیب دی ہے اور گانے کئی لوگوں نے لکھے ہیں۔ بلاشبہ موسیقی عمدہ ہے اور راجستھانی رس بھی رکھتی ہے۔

سنیمیٹوگرافی تشار کانتی رائے کی ہے۔ اگرچہ فلم میں کوئی زیادہ ہنر دکھانے کی گنجائش نہیں ہے لیکن کہیں کوئی کمزوری محسوس نہیں ہوتی۔

فلم کیوں کہ خاص راجستھاتی اور رجواڑے پس منظر میں ہے اس لیے سیٹ اور ملبوسات خاص طور سے تاثر اور ماحول کو پیدا کرنے میں زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیا 2014 کی خوبصورت، سونم کپور کو اپنی پسندیدہ اداکارہ ریکھا جیسی کامیابی اور فنی داد دلا پائے گی

اوما بیجو، کارونا لونگانی اور راگھاوندرا روٹھور نے ملبوسات کے حوالے سے کہیں بھی ماحول اور تاثر کو مجروح نہیں ہونے دیا۔

یہ سب تو ہو گیا لیکن کیا 2014 کی خوبصورت، سونم کپور کو اپنی پسندیدہ اداکارہ ریکھا جیسی کامیابی اور فنی داد دلا پائے گی؟ سونم نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن سب کچھ اچھا ہونے کے باوجود کچھ ایسا ہے جس کی وجہ سے فلم بینوں کے دل شاید پوری طرح جیتے نہیں جا سکے۔

ناقدین بھی اب تک دس میں ساڑھے تین سٹار آگے نہیں بڑھ سکے۔ شاید اس لیے کہ فلم ان فلم بینوں کو متاثر کرنے والی نہیں جو فلموں کو ایک سے زیادہ بار دیکھتے ہیں اور شاید باکس آفس پر کامیابی کا اصل فیصلہ تو انھی فلم بینوں پر ہوتا ہے۔

اس فلم سے فواد خان کو ہندوستان میں اور فلمیں ضرور ملیں گی۔ لیکن ان کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ فلمیں کیسی ہوں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ بولی ووڈ کے خانوں میں ایک اور سرِ فہرست خان بن پائیں گے یا نہیں؟

اسی بارے میں