’داعش سے ڈریں نہیں، اس پر ہنسیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ YouTube
Image caption حقیقت ہے کہ یہ پہلی عراقی پیروڈی نہیں ہے جس میں دولتِ اسلامیہ کا مذاق اڑایا گیا ہے

دولتِ اسلامیہ سے ڈریں نہیں، بلکہ اس پر ہنسیں۔ یہ پیغام ہے ایک عراقی ٹی وی ڈرامے کا جسے آن لائن پر بہت شیئر کیا گیا ہے۔

اس جیسی جہادی آن لائن ویڈیو اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی تھی۔ اس میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجو ایک دائرے میں بیٹھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ گروہ کے رہنما ابو بکر البغدادی چمڑے کا کوڑا ہلاتے ہوئے انھیں گانا سنا رہے ہیں۔

سبھی نوجوانوں کی داڑھیاں ہیں اور وہ ہتھیار لہرا رہے ہیں۔

وہ گا رہے ہیں: ’ہم نے سگریٹ پینا ممنوع قرار دیا اور سبھی عیسائیوں کو نکال باہر کیا۔ ہم نے ماسوائے جہادی جنگجوؤں کے شادی کے علاوہ سیکس پر پابندی لگائی۔‘

ہر کورس کے بعد جلاد کو ان کے ساتھ شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے۔

یقیناً یہ کوئی حقیقی سین نہیں ہے، اور دولتِ اسلامیہ کی ان پریشان کن ویڈیوز سے بھی نہیں لیا گیا جو وہ آن لائن لگاتے ہیں۔ یہ ایک خیالی ریاست دولت الخرافہ کی موسیقی کا موضوع ہے۔

یہ عراق میں نشر کی جانے والی ایک مزاحیہ سیریز ہے جس میں دولتِ اسلامیہ کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس سیریز میں ایک ایسے غیر فعال ملک کو دکھایا گیا ہے جس پر دولتِ اسلامیہ کے جنگجو قابض ہیں۔

اس کی پہلی قسط عراق کے اہم ٹی وی چینل العربیہ پر دکھائی گئی۔ دریں اثنا اس کا گانا عراق میں آن لائن ہٹ بن گیا ہے اور یو ٹیوب پر اسے دو لاکھ افراد نے دیکھا ہے۔

30 اقساط پر مبنی اس ڈرامے کو طاہر الحسناوی نے لکھا ہے جو بغداد میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ، جو کہ سوشل میڈیا پر بہت ایکٹیو ہے، مواصلات کی جنگ کی جیت رہی ہے اور عراقی عوام گذشتہ جون سے لے کر اب تک دولتِ اسلامیہ کی زمینی فتوحات سے بہت ڈرے ہوئے ہیں۔

سو انھوں نے فیصلہ کیا کہ ملک میں خوف کی فضا کو کم کرنے کے لیے مزاح کا سہارا لیا جائے۔

’ہم یہ اس لیے کر رہے ہیں کہ بچے دولتِ اسلامیہ کا خوف لے کر نہ سوئیں۔‘

اس مزاحیہ سیریز پر کام کرنے والی ٹیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ جہادیوں کے انتہا پسندانہ سنی اسلام کے نظریے کو بھی چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آن لائن پر دیکھی جانے ویڈیو پر سینکڑوں افراد نے تبصرے لکھے ہیں، جن میں سے کئی اس میں پیش کیے گئے چٹکلوں پر ہنس رہے ہیں۔

لیکن کچھ سنی سمجھتے ہیں کہ یہ عراق میں شیعہ اکثریت کی طرف سے سنیوں پر حملہ ہے۔ ایک یو ٹیوب یوزر نے لکھا: ’کیا ہنسنا اور احمق دکھانے کا کام شیعہ ہی کر سکتے ہیں؟ پہلے جا کر مسلمان بننا سیکھو۔‘

لیکن حسناوی کہتے ہیں کہ انھوں نے کوشش کی ہے کہ سنیوں کی توہین نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ سیریز میں ایک اعتدال پسند سنی رہنما ہیں جس کے پاس لوگ رہنمائی کے لیے آتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ اس لیے کیا گیا تاکہ یہ بتایا جائے کہ دولتِ اسلامیہ سنی اکثریت کی ترجمانی نہیں کرتی۔

حقیقت ہے کہ یہ پہلی عراقی پیروڈی نہیں ہے جس میں دولتِ اسلامیہ کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ’دشاوی‘ ہے اور حال ہی میں عربی میں اس گروپ کے نام داعش کے نام سے ایک کارٹون بنایا گیا جس میں اس گروپ کے اسلام کے بارے میں خیالات پر تنقید کی گئی ہے۔

اس دوران امریکہ کے دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملے جاری رہے اور اس کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں کم پڑی ہیں۔ ٹوئٹر نے اس گروہ اور اس سے متعلقہ افراد کے اکاؤنٹ بند کر دیے ہیں جو اس گروہ کی سرگرمیوں کی تشہیر کر رہے تھے۔