’021‘ غیر متوقع اور دلچسپ فلم

Image caption یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جو ڈولبی پر ہے

’آپریشن ٹونٹی ون یا 021‘ کی کہانی دو ایسے افراد کی کہانی ہے جو اپنے وطن کے مفادات کو اپنی زندگیوں سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔

فلم کی ابتدا ہی ایکشن سے ہوتی ہے۔ مشین گن سے گولیاں برسانے کے بعد سامنے آنے والا شخص گرج دار آواز میں کہتا ہے: ’افغانستان میں خوش آمدید، میرے دوست۔‘

فلم کی کہانی افغانستان میں ممکنہ طور پر مل سکنے والی تین کھرب ڈالر مالیت کی معدنیات پر قبضہ کرنے کے لیے جاری سازشوں میں شامل ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کے ناموں اور کاموں کی تفصیلات ایک مائیکرو چپ پر محفوظ ہیں اور وہ مائیکرو چِپ ایک محب وطن انقلابی کے ہاتھ لگ جاتی ہے۔

سی آئی اے اِس مائیکرو چپ کو واپس حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ اس میں پاکستان کے راستے نیٹو افواج کے لیے سامان لے جانے والے ٹرالروں پر حملوں کا تناظر بھی استعمال کیا گیا ہے۔

افغانستان میں مذکورہ معدنیات کا ہونا فکشن نہیں ہے۔ امریکی ذرائع افغانستان میں تین کھرب ڈالر مالیت کے سونے، لیتھیئم، لوہے، تانبے، کوبالٹ اور دیگر معدنیات کے بڑے ذخائر کے موجود ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ فلم میں اسی انکشاف کو موضوع بنایا گیا ہے۔

حساس معلومات پر مبنی مائیکرو چِپ افغانستان آنے والے ایک ٹرالر کے فرش میں چھپا کر لائی جا رہی تھی۔ اب عبداللہ (ایوب کھوسو) اس مائیکرو چِپ کو ایسے ہاتھوں میں پہچانا چاہتا ہے جن سے اُس کے ملک افغانستان کے خلاف سازش کا انکشاف ہو سکے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ایسا نہ ہوا تو تیس سال سے خانہ جنگی کا شکار اُس کا ملک مزید 50 سال تک اِسی آگ میں جلتا رہے گا۔

اس سلسلے میں وہ اپنے ایک دوست اور ایسے سابق فوجی افسر کاشف صدیقی (شان) کی مدد حاصل کرتا ہے جو پہلے خود بھی سی آئی اے کے لیے کام کر کے دھوکہ کھا چکا ہے اور اِسی وجہ اُس کی پہلی بیوی بھی ماری جا چکی ہے۔

کاشف کو مبینہ خلاف ورزیوں کی بنا پر فوج سے نکالا جا چکا ہے۔ اب وہ ہیروں اور قیمتی پتھروں کو دوسرے ملکوں میں بیچنے کا کام کرتا ہے۔

عبداللہ کو معلوم ہے کہ جلد ہی اُس کا سراغ لگا لیا جائے گا۔ اور ایسا ہوتا بھی ہے۔ اسے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تا کہ وہ یہ بتا دے کہ مائیکرو چِپ کہاں ہے اور کس کے پاس ہے۔ عبداللہ کچھ نہیں بتاتا لیکن اسی دوران سی آئی اے کا ایک ایجنٹ یہ سراغ لگا لیتا ہے کہ مائیکرو چپ کاشف صدیقی کے پاس ہے۔

Image caption فلم دیکھنے والے فلمی صنعت اور میڈیا کے لوگوں کی رائے میں فلم نہ تو پاکستانی ٹائپ کی ہے اور نہ ہی بالی وڈ ٹائپ کی

سی آئی اے کے ایجنٹ کاشف صدیقی کو تلاش کرنے میں ناکامی کے بعد اُس کے گھر پر حملہ کرتے ہیں۔ وہ کاشف صدیقی کے بچوں پر تشدد کے بعد کاشف کو پکڑ کر لے جاتے ہیں اور آخر مائیکرو چِپ بھی حاصل کر لیتے ہیں لیکن جو مائیکرو چپ انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اصل نہیں ہوتی۔

فلم عمدگی سے فلمائی اور ایڈٹ کی گئی ہے۔اس کی کہانی کئی جہتوں میں پھیلی ہوئی اور کچھ پیچیدہ سی ہے۔ شاید یہی پیچیدگی تجسس پیدا کرتی ہے اور خواہش ہوتی ہے کہ فلم ایک بار اور دیکھی جائے۔

پاکستان میں بننے والی یہ پہلی جاسوسی فلم یا ’سپائی تھرلر‘ ہے جس میں نہ تو پاکستان اور انڈیا میں بننے والی فلموں والے روایتی ہیرو ہیں اور نہ ہی ولن۔ اس میں تو ہیروئن، ناچ گانے کا روایتی مسالا بھی نہیں لیکن اس کے باوجود فلم اپنے دیکھنے والوں کو پکڑے رکھتی ہے۔

ضرور کہانی میں کچھ خلا محسوس ہوتے ہیں لیکن فلم ختم ہونے کے بعد بھی دیکھنے والوں کے ذہن میں چلتی رہے گی اور شاید بہت سے دیکھنے والوں کو ایک بار اور دیکھنے پر بھی اکسائے گی۔

یوں تو تمام ہی اداکاروں نے فلم میں عمدہ کام کیا ہے لیکن جو لوگ اداکار شان کی فلمیں اس سے پہلے بھی دیکھتے رہے ہیں ان کے ذہنوں میں شان کا ایک نیا جنم ہوگا۔ بہت ممکن ہے یہ شان انھیں عالمی اداکاروں کی صف میں کھڑا دکھائی دے۔

ہدایت کاری کے اعتبار سے فلم کی ابتدا سمر نکس نے کی تھی۔ لیکن یہ فلم وہ نہیں جو سمر نکس بنا رہے تھے۔ زیبا بختیار اور جامی نے اسے تبدیل کر دیا ہے۔ جامی خود بھی یقینی طور اپنے کام سے خوش ہوں گے۔ انھوں نے خود اپنے وسیع امکانات دریافت کیے ہیں۔

ان میں بڑی اور مشکل فلمیں بنانے کی صلاحیت واضح محسوس ہوتی ہے۔

فلم دیکھنے والے فلمی صنعت اور میڈیا کے لوگوں کی رائے میں فلم نہ تو پاکستانی ٹائپ کی ہے اور نہ ہی بالی وڈ ٹائپ کی۔ بلکہ اسے ہالی وڈ ٹائپ کی فلم کہا جا سکتا ہے۔

فلم میں عبداللہ (ایوب کھوسہ)، دوست (حمید شیخ) سی آئی اے ایجنٹ ناتھن (جو ٹاؤن) نتاشا (آمنہ شیخ) ایمان علی (علیہا صدیقی) کے علاوہ شمعون عباسی، تطمین القلب، ایاز سموں، گوہر رشید، بلال اشرف، اینڈی ہائنز، جیمس ہالٹ، عبداللہ غزنوی اور دانیال راحیل سبھی نے عمدہ کام کیا ہے۔

سینما ٹوگرافی کے اعتبار سے بھی فلم عمدہ ہے اور اس کا کریڈٹ مو اعظمی کو جاتا ہے۔ موسیقی الفانسو گونزالز اگیولر کی مرتب کی ہوئی ہے۔ یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جو ڈولبی پر ہے۔

اسی بارے میں