’آل انڈیا مسلم لیگ نے اردو پر کاری ضرب لگائی‘

ممتاز دانشور و شاعرافتخار عارف نے کہا ہے کہ دنیا کے ادبی منظر نامہ یہ ہے کہ یہ صدی ناول کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ شاعری کا سفر پیچھے کی طرف جا رہا ہے اور افسانے کی باتیں بھی خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

وہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ساتویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے دن ’اردو کا معاصر شعری تناظر‘ کے حوالے سے صدارتی خطبہ دے رہے تھے۔

اس اجلاس کی مجلس صدارت میں کشور ناہید، امجد اسلام امجد، جاذب قریشی، رسا چغتائی اور پروفیسر سحر انصاری پر مشتمل تھی۔ اجلاس کی نظامت سلمان صدیقی نے کی۔

افتخارعارف نے مزید کہا کہ آج کے اس مشکل دن (کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کا جلسہ) جب پورا شہر بند ہے۔آرٹس کونسل میں اتنے لوگوں کا جمع ہونا ایک ریکارڈ ہے۔ میں نے دنیا بھر میں کہیں ایسا نہیں دیکھا اوراس بات پر آرٹس کونسل کے سیکریٹری محمد احمد شاہ بلاشبہ دادو تحسین کے مستحق ہیں۔

اس اجلاس میں بھارت سے آئے ہوئے مندوب عبید صدیقی نے ’اردو غزل اکیسویں صدی میں‘ پر، ڈاکٹر نجیب جمال نے ’اردو کی نئی شعری جمالیات‘ پر، ڈاکٹر ضیا الحسن نے ’معاصرغزل کا اسلوبیاتی مطا لعہ‘ پر، جاذب قریشی نے ’معاصر نظم کا اسلوبیاتی مطالعہ‘ پر، عذرا عباس نے ’نثری نظم اکیسویں صدی میں‘ پر بات کی جب کہ ڈاکٹر تنویر انجم نے’نثری نظم کا اجمالی جائزہ‘ پیش کیا۔

تیسرے دن کا دوسرا اجلاس ’اردو اور پاکستانی زبانوں کے رشتے ناتے‘ کے موضوع پر تھا۔ ممتاز افسانے نگاراور دانشور امر جلیل نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ آل انڈیا مسلم لیگ اردو پر کاری ضرب لگائی اور برصغیر کی تقسیم کے لیے اردو کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے اردو پر یہ چھاپ لگا دی کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے جب کہ دنیا کی کوئی زبان نہ تو مذہبی ہوتی ہے اور نہ ہی جغرافیائی۔

سید مظہر جمیل نے کہا کہ سندھی اور اردو کے رشتے آج کے نہیں ہیں یہ بنیادی رشتے ہیں اور دونوں زبانوں کے قواعد تک مشترک ہیں۔

ممتاز سندھی اردو شاعر امداد حسینی نے کہا کہ ہماری زبانوں کو ایک مخصوص ذہنیت سے خطرہ ہے۔

مظہر الحق صدیقی نے کہا کہ مادری زبانوں کا احترام کریں کیوں کہ یہ صرف آپ کی ماں کی زبان نہیں ہے بلکہ سب کی ماؤں کی زبانیں ہیں۔

مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ مادری زبان ورثے میں ملتی ہے جب کہ دوسری زبانیں ہماری معاشی اور معاشرتی مجبوریاں ہوتی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے مندوب ڈاکٹر نذیر تبسم نے کہا کہ اردو تمام دیگر زبانوں کے لیے ایک ماخذ کا درجہ رکھتی ہے۔

بلوچستان کے مندوب ڈاکٹر کمیل قزلباش نے کہا کہ کسی بھی قوم کا تشخص اس کی زبان اور ثقافت سے بنتا ہے، زبان چھین لی جائے تو اس قوم کا تشخص ختم ہوجاتا ہے۔

دانشور اکبر لغاری نے کہا کہ زبانوں میں رشتہ ناطے محبت سے بڑھتے ہیں اور ان میں فرق نفاذ کی بات سے پڑتا ہے اس لیے نفوذ کی راہ اپنانی چاہیے۔

تیسرے دن کے تیسرے اجلاس میں ’ذرائع ابلاغ اور زبا ن‘ کے موضوع پر اظہار خیال کیا گیا۔

مجلس صدارت میں انتظار حسین، آغا ناصر، فرہاد زید ی، رضاعلی عابدی اور مسعود اشعر شامل تھے۔ جب کہ شرکا میں اصغر ندیم سید، عبید صدیقی، حارث خلیق، مجاہد بریلوی، طاہر نجمی اور نذیر لغاری شامل تھے اور نظامت محمد احمد شاہ اور ڈاکٹر فوزیہ کر رہے تھے۔

انتظار حسین کا کہنا تھا کہ صرف ابلاغ کے اداروں کو ہی بدنام نہیں کرنا چاہیے معاشرے کے ہر شعبے میں اخلاقیات اور زبان تباہ کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پارلیمنٹ اور دھرنوں کا حوالہ دیا۔

حارث خلیق نے کہا کہ ہمارے ہاں دانش کی زبان اب اردو نہیں رہی ہے۔

مجاہد بریلوی نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ ایک دو اخباروں کو چھوڑ کر کسی میں پروفیشنل مدیرنہیں ہے۔

مسعود اشعر نے کہا کہ اردو زبان کو بگاڑنے میں ہمار ے میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

طاہر نجمی نے کہا کہ ہمارے سیاست دان اور اینکرز جو کچھ عوام کے ساتھ کررہے ہیں اس کے بعد عوام کو کیا کہا جائے گا؟

آغاناصر نے کہا اب ریڈیو، ٹی وی، اخباروں میں زیڈ اے بخاری، فرہاد زیدی، امرجلیل اور اشفاق احمد جیسے لوگ نہیں ہیں جو بولتے بھی اچھا تھے اور لکھتے بھی اچھا تھے۔

انڈیا سے آئے مندوب عبید صدیقی نے کہا کہ زبان کی تروجیح اور فروغ میڈیا کا کام نہیں ہے۔

’ترقی پسند تحریک کے اردو ادب پر اثرات‘کے عنوان سے تیسرے دن کے چوتھے اجلاس سے انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر پروفیسر مسلم شمیم، پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر انیس اشفاق، کشور ناہید، زاہدہ حنا، سید مظہر جمیل، اشفاق حسین اور صبا اکرام نے خطاب کیا۔

اجلاس میں کشور ناہید نے کہا کہ جادو وہ ہے جو سر چڑ کر بولے۔ ترقی پسند تحریک کا اثر یہ ہے کہ جو خود کو ترقی پسند نہیں کہتے وہ بھی عملاً ترقی پسندی کی راہ پر چلتے ہیں۔

زاہدہ حنا نے کہا کہ اردو میں ترقی پسند تحریک نے اپنی راہ خود متعین کی تھی۔ آج کے ادیب کے سامنے ترقی پسند تحریک کے ساتھ ساتھ دیگر عوامل بھی موجود ہیں۔ اس تحریک نے شاندار ادیبوں اور شاعروں کو جنم دیا۔

کانفرنس کا پانچویں اجلاس بریڈ فورڈ میں قائم یارک شائر ادبی فورم کی طرف سے دیے جانے والے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے تھا۔

فورم کی غزل انصاری نے کہا کہ یارک شائر پچھلے تین برسوں سے اردوکانفرنس میں شرکت کر رہا ہے۔ اس سال لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پروفیسر سحر انصاری اور فضا اعظمی کوپیش کیا جارہا ہے۔

پروفیسر سحر انصاری اور فضا اعظمی کو ایوارڈ کے ساتھ ساتھ پچاس پچاس ہزار روپے بھی پیش کیے گئے۔

تیسرے دن چھٹے اجلاس میں’میر باقر علی داستان گو‘ کی تقریب اجرا ہوئی۔جس کا تعارف عقیل عباس جعفری نے کرایا۔

ضیا محی الدین سے تربیت پانے والے نوجوان فنکار فواد خان اور نذر الحسن نے بڑی خبصورتی سے روایتی انداز میں داستان گوئی کا مظاہرہ کیا اور ’طلسم ہو ش ربا داستانِ امیر حمزہ‘ کا ایک حصہ پیش کرکے حاضرین سے بے پناہ داد وصول کی۔

ساتویں اجلاس میں ڈاکٹر اسلم فرخی کی کتاب ’رونق بزم جہاں‘، فراست رضوی کی رباعیات کے مجموعے ’درد کی قندیل ‘، ڈاکٹر نجیب جمال کی کتاب ’یگانہ، تحقیق و تنقیدی مطالعہ‘ اور کشور ناہید کی کتاب ’نوٹ بُک کی تقریبِ اجرا ہوئی۔

تیسرے روز کی آخری تقریب عالمی مشاعرہ تھا جو رات گئے تک جاری تھا۔

اسی بارے میں