’پاکستانی لوگ پیار کرنے والے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لوگوں نے اتنا پیار دیا ہے کہ میں اس مقابلے میں اگر آخری نمبر پر بھی آتا تو غم نہ ہوتا: سعد ہارون

امریکہ میں منعقد ہونے والے دنیا کے پہلے ’مزاحیہ شخصیت‘ کے مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے پاکستانی نوجوان کامیڈین سعد ہارون کا کہنا ہے کہ پاکستانی لوگ پیار کرنے والے ہیں۔

کیلی فورینا سے بی بی سی اردو کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’لوگوں نے اتنا پیار دیا ہے کہ میں اس مقابلے میں اگر آخری نمبر پر بھی آتا تو غم نہ ہوتا۔ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستانی منفی سوچ رکھتے ہیں لیکن میں نے دیکھا کہ ان کے دلوں میں اتنا پیار ہے کہ وہ صرف دینا چاہتے ہیں۔ اب یہ موقع آیا تو انھوں نے اس کا اظہار کیا ہے۔‘

سعد آئندہ ماہ اپنی 33 ویں سالگرہ منائیں گے لیکن اس میں سے 13 سال پاکستان میں مسکراہٹیں بکھیرنے میں صرف کر دیے۔

’مجھے نائن الیون کے بعد اس فن کی جانب آنے کا خیال آیا۔ اس وقت کراچی میں بڑی پژمردگی تھی۔ ہم نے کراچی میں کامیڈی کے لیے ’بلیک فش‘ گروپ بنایا۔ اس کے بعد لوگوں نے ہمیں فالو کرنا اور پسند کرنا شروع کیا۔‘

کراچی میں پیدا ہونے والے سعد ہارون نے کافی وقت تعلیم اور دیگر وجوہات کی بنا پر ملک سے باہر گزارا ہے۔ پچھلے دو ایک سال سے وہ امریکہ میں اپنے فن کے ذریعے بقول ان کے ’ملک کا نام روشن کرنے کی کوشش‘ کر رہے ہیں۔

پاکستان میں بعض لوگوں کے خیال میں اچھے کام کی تعریف کم ہوتی ہے۔ نصرت فتح علی خان جیسے فنکاروں کو پہلے بیرون ملک لوگوں نے تلاش کیا، پھر پاکستان میں انھیں مانا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ انھیں زیادہ پذیرائی ملک میں یا ملک سے باہر سے ملی، تو ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ دس سالوں میں جتنی محبت ملک سے ملی اور کہیں سے نہیں ملی۔‘

ہالی وڈ میں کامیڈی کے فروغ میں سنہ 1989 سے مصروف ’لاف فیکٹری‘ کا کہنا ہے کہ اس مقابلے کا پہلی مرتبہ عالمی سطح پر انعقاد کا مقصد ہنسی اور مسکراہٹ کے ذریعے امن لانا ہے: ’ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ مل کر ہنسیاں بانٹتے ہیں وہ کبھی ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ یہ جمہوریت، سفارت کاری اور مذہب سے زیادہ موثر ہے۔‘

سعد ہارون کہتے ہیں کہ کامیڈی میں پاکستان کیا دنیا میں اس قسم کے مقابلے نہیں ہوتے، لیکن یہ جیت ان کے بقول ان کے لیے ’مورال بوسٹر‘ ہے۔ اس جیت کے انھیں ایک ہزار ڈالر انعام ملا ہے جو کوئی زیادہ نہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سے کم از کم ان کا آنے جانے کا پورا ہوگیا ہے۔

فن لینڈ کے اسمو لیکولا کو اس مقابلے میں دنیا کے پہلے سب سے زیادہ ’مزاحیہ شخصیت‘ کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ووٹنگ آن لائن ویڈیو کے ساتھ ہوئی تھی، جس میں سعد کو سات ہزار ووٹ ملے۔

سعد سے پوچھا کہ کیا انھیں لوگوں کے رویوں اور عادات کا مذاق اڑنے میں مزہ آتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا پیشہ بن گیا ہے:

’میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ معاشرے میں ایسی باتیں ہوں گی تو مذاق اڑاؤں گا۔ ان چیزوں کے بارے میں بات نہ کرنے سے یہ نہیں جائیں گی۔ یہ ادھر ہی رہیں گی۔ بات کرنے سے انھیں روشنی میں لایا جاتا ہے۔ مزاح کے ذریعے یہ سخت نہیں ہوتی اور غصہ نہیں ہوتا۔ یہ اسی لیے کافی اہم ہے۔‘

ان سے پوچھا کہ مذہب اور شدت پسندی جیسے حساس موضوعات پر بھی کیا وہ مزاح کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی پر انھوں نے تحقیق کی تھی اور بات بھی کرتے ہیں لیکن مذہب پر وہ بات نہیں کرتے کیونکہ انھیں اس کی اتنی شدبد نہیں ہے۔

پاکستان میں کامیڈی اور اس سے وابستہ ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا تو وہ اس بارے میں بہت پرامید تھے کہ اس کا روشن مستقبل ہے: ’فور مین شو‘ اور ’ففٹی ففٹی‘ آج بھی پاکستان میں پسند کیے جاتے ہیں۔ اس کا کافی سکوپ ہے۔ اب تو نوجوانوں نے کالجوں میں بھی فی البدیہہ مزاح کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔‘

اسی بارے میں