’عورتیں بھی میک اپ آرٹسٹ کے طور پر کام کر سکتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواتین میک اپ آرٹسٹوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ ورکر یونین انھیں کام بالی وڈ میں کام کرنے سے روک رہی ہیں

بھارت کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ بالی وڈ میں خواتین کو بھی میک اپ آرٹسٹوں کے طور پر کام کرنے کا حق حاصل ہے اور انھیں اس پیشے سے الگ نہیں رکھا جا سکتا۔

بالی وڈ میں یہ پرانی روایت ہے کہ فلموں کے سیٹوں پر صرف مرد ہی میک اپ آرٹسٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کی طاقتور یونین خواتین کو اس شعبے میں داخل نہیں ہونے دیتی۔ یہ سلسلہ 59 سال سے جاری تھا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب ختم ہو جائے گا۔

فلم سازی کے عمل سے وابستہ ورکروں کی یونین کا موقف تھا کہ خواتین کو بھی اگر میک آرٹسٹ کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی تو اس سے مردوں کا روزگار متاثر ہوگا۔

لیکن سپریم کورٹ نے کہا کہ ان کا موقف غیر قانونی ہے اور ’اسے اب ایک دن بھی جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

2013 میں نو خواتین نے عدا لت سے رجوع کیا تھا، جن کا کہنا تھا کہ وہ باصلاحیت میک آرٹسٹ ہیں لیکن مرد ورکروں کی طاقتور تنظیمیں انھیں کام بالی وڈ میں کام کرنے سے روک رہی ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ’یہ امتیازی سلوک کس طرح جاری رہ سکتا ہے۔۔۔ ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے، دستور ہند کے تحت اس کی اجازت نہیں ہے۔‘

تجزیہ نگاروں کے مطابق ورکروں کی تنظیمیں اتنی طاقتور ہیں کہ بڑے ڈائریکٹر بھی اس روایت کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

یہ پابندی تمل اور تیلگو فلم انڈسٹری میں بھی نافذ تھی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ہزاروں خواتین میک اپ آرٹسٹوں کے لیے بالی وڈ کے دروازے کھل جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بالی وڈ میں یہ پرانی روایت ہے کہ فلموں کے سیٹوں پر صرف مرد ہی میک اپ آرٹسٹ کے طور پر کام کرتے ہیں

عدالت نے کہا کہ ہم 2014 میں رہ رہے ہیں 1935 میں نہیں، اس طرح کے رویے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

چارو کھرانا ان خواتین میں شامل تھیں جنھوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ میک اپ کا ہنر امریکہ سے سیکھ کر آئی ہیں، لیکن پھر بھی انھیں بالی وڈ میں کام نہیں کرنے دیا گیا۔

ان کا کہنا ہےکہ انھوں نے ایک دو فلموں میں کام کیا لیکن یونین اتنی مضبوط ہے کہ وہ سیٹ کر پر شوٹنگ رکوا دیتی ہے اور پھر پروڈیوسر کو جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔