مینے کی پینٹنگ کی نیلامی کا نیا ریکارڈ

مینے تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ ایک پیرس کی اداکارہ کا پورٹریٹ تھا جس کا نام بہار رکھا گیا تھا

فرانس کے تاثر پسند آرٹسٹ ایدوار مینے کے بنائے ہوئے پیرس کی اداکارہ کے ایک پورٹریٹ نے نیلامی کا نیا ریکارڈ بنایا ہے۔

موسمِ بہار نامی اس پورٹریٹ کی قیمت نیو یارک میں کرسٹیز کی ایک نیلامی میں ساڑھے چھ کروڑ ڈالر لگی جو کہ ایدوار مینے کی اس سے پہلے کی مہنگی ترین پیٹنگ سے دگنی ہے جو کہ تین کروڑ تیس لاکھ ڈالر تھی۔

اس آئل پیٹنگ میں جو کہ گزشتہ سو سال سے زیادہ عرصے سے ایک ہی خاندان کے پاس تھی، اداکارہ ژان دیمارسی پھولوں والے ڈیزائن کا ایک ڈریس اور لچھے والی ٹوپی پہنے کھڑی ہیں۔

سنہ 1881 میں بنائے گئے اس شاہکار کے متعلق اندازہ تھا کہ یہ ساڑھے تین کروڑ ڈالر میں بک جائے گا۔ یہ پیٹنگ واشنگٹن کی نیشنل آرٹ گیلری کے پاس گذشتہ 20 سال سے ادھار پر تھی۔

اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ایک چار کی سیریز کا حصہ تھی لیکن ایدوار مینے ابھی بہار اور خزاں ہی بنا پائے تھے کہ ان کا 1881 میں 51 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔

کرسٹیز پر ماڈرن اور تاثر پسند آرٹ کے نمونے اس ہفتے ساڑھے سولہ کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل کرسٹیز کے حریف سودبیز نے اس طرح کی پینٹنگز 422 ملین ڈالر میں بیچی تھیں۔

کرسٹیز کے تاثر پسند اور ماڈرن آرٹ کے شعبے کے سربراہ بروک لیمپلے کہتے کہ سیل کی ’قیمتیں مناسب تھیں اور آج کل کی مارکیٹ کے مطابق تھیں۔‘

لیکن بدھ کو دوسری مہنگی ترین پینٹنگ لوگوں کی توجہ اپنی طرف نہ کھینچ سکی۔ فرانسیسی کیوبسٹ پینٹر فرناند لیگر کی پینٹنگ کے متعلق توقع تھی کہ وہ 22 ملین ڈالر میں فروخت ہو گی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کیوبسٹ آرٹسٹ فرناند لیگر کی پیٹنگ میں لوگوں نے دلچسپی نہیں لی

دوسرے فروخت ہونے والے شاہکاروں میں ایلبرٹ گیاکومیٹی کا بنایا ہوا مجسمہ نو کروڑ نو لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا جبکہ جوان مرو کا شاہکار آٹھ کروڑ سات لاکھ ڈالر میں بک سکا۔

امریکہ میں کرسٹیز کے صدر ڈاگ وڈہیم کہتے ہیں کہ اس طرح کے مضبوط نتائج اس بات کے گواہ ہیں کہ ’تاثر پسند اور ماڈرن آرٹ میں لوگوں کی وسیع دلچسپی ہے۔‘

اسی بارے میں