رابن ولیئمز خودکشی کے وقت منشیات کے زیرِ اثر نہیں تھے:پولیس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ولیمز کو ان کی اہلیہ نے اتوار دس اگست کی شام زندہ دیکھا تھا اور پیر 11 اگست کی دوپہر ان کی لاش ملی تھی

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں حکام نے کہا ہے کہ معروف مزاحیہ اداکار رابن ولیئمز خودکشی کے وقت منشیات یا شراب کے نشے کے زیرِ اثر نہیں تھے۔

63 سالہ رابن ولیئمز 11 اگست کو کیلیفونیا میں اپنی رہائش گاہ میں مردہ پائے گئے تھے جسے پولیس نے خودکشی قرار دیا تھا۔

مزاحیہ امریکی اداکار کی موت کی تحقیقات کے حوالے سے میرن کاؤنٹی کے شیرف کے دفتر سے جمعے کو جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی موت پھانسی سے سانس بند ہونےکی وجہ سے ہوئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ رابن ویلیئمز کے جسم میں کسی قسم کے ممنوعہ ادویات یا شراب کا اثر نہیں پایا گیا۔

ربان ویلیئمز کی موت کے تقربیاً تیسرے ہی دن میرن کاؤنٹی کے شیرف لیفٹیننٹ کیتھ بوائڈ نے کہا تھا کہ روبن ولیئمز ڈپریشن میں مبتلا تھے اور انھوں نے پھندا لگا کر خودکشی کی۔

ولیمز کو ان کی اہلیہ نے اتوار دس اگست کی شام زندہ دیکھا تھا اور پیر 11 اگست کی دوپہر ان کی لاش ملی تھی۔

ولیئمز کی اہلیہ سوزن شنائیڈر نے ان کے مداحوں سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ انھیں اس خوشی کے لیے یاد رکھا جائے جو انھوں نے دنیا کو دی۔

ہالی وڈ کے واک آف فیم میں رابن ولیئمز کے ستارے کو ان کے مداحوں نے گلدستے اور شمعیں رکھ کر عارضی یادگار میں تبدیل کر دیا تھا۔

امریکی صدر براک اوباما نے رابن ولیئمز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ولیمز نے ہمیں ہنسایا بھی اور رلایا بھی۔‘

رابن ولیئمز کی مقبول فلموں میں سے ایک’گڈ مارننگ ویت نام‘ ہے۔ انھیں فلم ’گڈ ول ہنٹنگ‘ میں بہترین کردار پر آسکر ایوارڈ بھی ملا تھا۔

رابن ولیئمز اپنی اداکاری میں فی البدیہہ بولنے کے ماہر مانے جاتے تھے۔

اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق وہ ماضی میں شراب نوشی اور منشیات کے استعمال کی عادت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے تھے اور حال ہی میں بحالی کے مرکز میں دوبارہ گئے تھے۔

اسی بارے میں