’میرا دنیا کو یہی پیغام ہے۔۔۔عشق کیجیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فیض احمد فیض کا انتقال 20 نومبر سنہ 1984 میں ہوا تھا

25 اپریل سنہ 1981 کا دن تھا، ایسا لگ رہا تھا کہ الہ آباد شہر کا ہر رکشہ، تانگہ اور سکوٹر الہ آباد یونیورسٹی کی طرف چلا جا رہا ہے۔

مشہور سینیٹ ہال کے سامنے فیض احمد فیض کو سننے کے لیے ہزاروں لوگ جمع تھے۔ ان میں سے ایک معروف مصنف روندر کالیا تھے۔

کالیا اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’اس دن مشاعرے کی صدارت ہندی کی شاعرہ مہادیوی ورما کر رہی تھیں۔ معروف شاعر فراق گورکھپوری بیمار تھے اس لیے انھیں گود میں اٹھا کر سٹیج پر بٹھایا گیا تھا۔ ان کے ساتھاپیندرناتھ اشک، پروفیسر عقيل رضوی اور ڈاکٹر محمد حسن بیٹھے تھے۔‘

فیض نے اپنی تقریر میں کہا تھا: ’میرا دنیا کو صرف یہی پیغام ہے۔۔۔عشق کیجیے۔‘ فراق صاحب ایک ٹك فیض کو دیکھے جا رہے تھے۔ تبھی ڈاکٹر حسن نے فراق کا مشہور شعر پڑھا تھا۔

آنے والی نسلیں تم پر رشک کریں گی ہم عصرو جب یہ خیال آئے گا ان کو تم نے فراق کو دیکھا ہے

پھر انھوں نے اس میں ترمیم کرتے ہوئے ’فراق، فیض اور مہا دیوی ورما‘ کا نام لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ali Hashmi
Image caption سنہ 1941 میں فیض نے ایک انگریز خاتون ایلس سے سری نگر میں شادی کی تھی

اگلے دن اردو اکیڈمی کے پروگرام میں ایک 22 سالہ لڑکی نے فیض کے سامنے انھی کی غزل گائی تھی۔ اس لڑکی کا نام تھا شوبھا گپتا جنھیں آج لوگ شوبھا مدگل کے نام سے جانتے ہیں۔

شوبھا بتاتی ہیں: ’الہ آباد یونیورسٹی کی ایک طالبہ فیض کے سامنے انھی کی ایک غزل گانے والی تھیں اور اس کی تیاری میرے گرو رام آشرے جھا کو سونپی گئی تھی۔ اچانک میرے گھر کے دروازے کی گھنٹی بجی تو دیکھا کہ سامنے گروجي کھڑے ہیں۔ انھوں نے چھوٹتے ہی کہا کہ میرے ساتھ چلو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ shubhamudgal.com
Image caption شوبھا مدگل کا شمار کلاسیکی گلوکاراؤں میں ہوتا ہے

شوبھا آگے کا واقعہ بتاتی ہیں: ’وہ موپیڈ سکوٹر چلاتے تھے۔ میں ان کے پیچھے کی سیٹ پر بیٹھ کر ہندی اکیڈمی پہنچی۔ وہاں انھوں نے بتایا کہ وہ طالبہ غزل نہیں گا پا رہی ہے، تمھیں فیض کی غزل ’شام فراق اب نہ پوچھ۔۔۔‘ پڑھنی ہے، میں نے کہا کہ وہ غزل تو مجھے یاد ہی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپنے والد صاحب سے پوچھ کر لکھ لو۔ کاپی کا ایک ورق پھاڑ کر وہ غزل میں نے لکھی اور كانپتي آواز میں پس و پیش کے عالم میں فیض صاحب کے سامنے اسے پڑھا۔‘

پھر کیا ہوا، شوبھا کہتی ہیں: ’فیض صاحب بڑے وسیع القلب تھے۔ کہنے لگے تمہارے ہاتھ میں کیا ہے۔ میں اسے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ لیکن جب انھوں نے پوچھ ہی لیا تو مجھے کاپی کا وہ ورق دکھانا ہی پڑا۔ اسے دیکھ کر انھوں نے پوچھا کہ تمہیں اردو نہیں آتی؟ میں نے کہا اردو سیکھی نہیں ہے اس لیے میں نے اسے دیوناگری میں لکھا ہے۔ فیض نے کہا تمہارے تلفظ سے تو نہیں لگا کہ تمہیں اردو نہیں آتی۔ پھر انھوں نے اس کاغذ پر اپنا آٹوگراف دیا۔ میں دیکھتی رہ گئی کہ مجھ جیسی نوآموز طالبہ سے فیض اتنی محبت اور پیار سے بات کر رہے تھے۔‘

جب ریل گاڑی لیٹ کرائی گئی

Image caption فیض احمد فیض ان معدودے چند شاعروں میں شامل ہیں جنھیں زندگی ہی میں بےحد مقبولیت ملی

فیض کو الہ آباد سے دہلی روانہ ہونا تھا۔ ان کی ریل گاڑی آدھی رات کو آنی تھی۔ فیض نے اپنے میزبان ڈی پی ترپاٹھی سے کہا: ’برخوردار ریل گاڑی لیٹ کرا دو، ہمیں صادقہ شرن سے ملنا ہے۔‘

ڈی پی ترپاٹھی کو فیض کی وہ درخواست ابھی تک یاد ہے: ’یہ عجیب سا مطالبہ تھا جو ریل گاڑی چھوٹنے سے کچھ منٹ پہلے آیا۔ خیر، فیض صاحب کو نہ کہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہم نے ریلوے سٹیشن پہنچ کر سٹیشن ماسٹر کی منت کی لیکن اس نے ریل گاڑی روکنے سے صاف انکار کر دیا۔ ہم ان کو منانے کی کوشش کرتے رہے لیکن ہماری ساری کوششیں ناکام ہوئیں۔‘

ترپاٹھی کہتے ہیں: ’تب ہم نے انھیں آخری وارننگ دی۔۔۔ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو ہم سب طالب علم ریلوے ٹریک پر لیٹ جائیں گے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ہم ٹس سے مس نہیں ہونے والے تو انھوں نے ریل گاڑی رکوا دی۔ ایک شاعر کی خواہش کا احترام کرنے کے لیے ریل گاڑی پورے ڈیڑھ گھنٹے تک رکی رہی اور جب فیض ٹرین پر سوار ہو گئے تو میں نے دہلی میں ان کے میزبان اندر کمار گجرال کو فون پر بتایا کہ فیض صاحب کل ڈیڑھ گھنٹے دیر سے دہلی پہنچیں گے۔‘

قرض کے پیسے کی انگوٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Ali Hashmi
Image caption فیض اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کے ساتھ

سنہ 1941 میں فیض نے ایک انگریز خاتون ایلس سے سری نگر میں شادی کی تھی اور ان کا نکاح اس وقت کشمیر کے سب سے بڑے لیڈر شیخ عبداللہ نے پڑھا تھا۔

فیض کے نواسے علی مہدی ہاشمی بتاتے ہیں کہ ’سنہ 1941 میں سری نگر میں ان کا نکاح ہوا تھا۔ میری نانی نے مجھے بتایا کہ فیض ان کے لیے ایک انگوٹھی لے کر آئے تھے۔ ایلس نے پوچھا کہ پیسے کہاں سے آئے انگوٹھی خریدنے کے، تو انھوں نے کہا کہ میاں افتخارالدين سے قرض لیے ہیں لیکن ہم ان کو واپس نہیں کریں گے۔‘

ہاشمی نے بتایا: ’ایلس نے انگوٹھی پہنی۔ وہ انھیں بالکل پوری آئی۔ انھوں نے فیض سے پوچھا ناپ کہاں سے ملا؟ فیض نے کہا میں نے اپنی انگلی کا ناپ دیا۔ اسے کہتے ہیں پرفیكٹ فٹ۔ ہماری انگلیاں بھی برابر ہیں۔ اس شادی میں ان کی طرف سے تین باراتي گئے تھے اور شام کو ہونے والے ولیمے میں جوش ملیح آبادی اور مجاز بھی شامل ہوئے تھے۔‘

فیض اور نرودا

Image caption پابلو نرودا کو عالمی سطح پر اپنی منفرد شاعری کے لیے جانا جاتا ہے

سنہ 1962 میں فیض کو سوویت یونین نے لینن امن انعام سے نوازا تھا۔ چونکہ اس سے پہلے فیض کو دل کا دورہ پڑ چکا تھا اس لیے انھیں ہوائی جہاز سے سفر کرنے کی ممانعت تھی۔ وہ کراچی سے نیپلز بحری جہاز سے گئے تھے اور پھر وہاں سے تین دنوں کا ٹرین کا سفر کرتے ہوئے ماسکو پہنچے تھے۔

اس پورے سفر میں ان کی بیٹی اور آج پاکستان کی مشہور مصورہ سلیمہ ہاشمی بھی ساتھ تھیں۔

سلیمہ بتاتی ہیں: ’ماسکو پہنچنے کے بعد ہم لوگوں کو شہر سوچی لے جایا گیا جہاں مشہور شاعر پابلو نرودا بھی اپنی بیوی کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ ایک شام انھوں نے میرے ابو کو مدعو کیا اور ان کے لیے چھوٹی سی دعوت رکھی۔ شام جوں جوں ڈھلتی گئی، دونوں شعرائے کرام نے اپنا اپنا کلام پڑھنا شروع کر دیا۔‘

سلیمہ کہتی ہیں: ’پابلو نے ہسپانوی میں پڑھنا شروع کیا اور ابو نے اردو میں پڑھا۔ ساتھ ساتھ مترجم ان کا ترجمہ کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ مترجم پیچھے رہ گئے اور دونوں شاعر اپنی اپنی زبان میں ایک دوسرے سے ہم كلام ہو رہے تھے۔ پابلو سناتے گئے، ابو سناتے گئے۔ مجھے یاد ہے اس دن مکمل چاند نکلا تھا۔ عجیب سی کیفیت تھی۔ میری عمر 17-18 سال کی ہوگی۔ مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہ بہت منفرد شام ہے اور جو منظر میں دیکھ رہی ہوں اس کا موقع شاید زندگی میں دوبارہ نہ آئے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نورجہاں اور فیض کے درمیان گہری دوستی تھی

سنہ 1974 میں فیض پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اس وفد میں شامل تھے جو بنگلہ دیش بننے کے بعد پہلی بار وہاں گیا تھا۔

فیض، شیخ مجیب الرحمٰن کو پہلے سے جانتے تھے۔ جب وہ اُن سے ملے، تو انھوں نے کہا کہ ہمارے بارے میں بھی کچھ لکھیے جس پر بنگلہ دیش سے واپس آنے کے بعد انھوں نے شیخ مجیب الرحمٰن کے اصرار پر معروف نظم کہی تھی: ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد۔۔۔‘

فیض کا عشق

فیض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بولتے کم، سنتے زیادہ تھے۔

ایک بار ایک انٹرویو میں معروف شاعرہ امرتا پریتم نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا ایلس کو ان کے سارے معاشقوں کے بارے میں پتہ تھا؟ فیض کا جواب تھا کہ ’بالکل۔ وہ میری بیوی ہی نہیں میری دوست بھی ہیں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ اتنے سال تک ساتھ رہے۔‘

اسی انٹرویو میں فیض نے اپنی ایک دوست اور شاید محبوبہ شوکت ہارون کا ذکر کیا ہے۔ شوکت ان سے جیل کے ہسپتال میں ملی تھیں جب وہ راولپنڈی سازش کیس میں کراچی جیل میں بند تھے۔

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم فیض کے استاد تھے۔ ایک بار دوپہر کے کھانے پر فیض اور تبسم بیٹھے تھے کہ فیض نے خواہش ظاہر کی کہ ’کیا ہی اچھا ہو فريدہ خانم یہاں آ جائیں۔‘ انھیں فون کیا گیا اور انھیں لینے کے لیے کار بھیجی گئی۔ فريدہ پوری طرح آراستہ پہنچ بھی گئیں۔ دن کا کھانا شام تک چلا۔ اور وہ محفل میں تبدیل ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ali Hashmi
Image caption فیض سنہ 1911 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے

دوستوں کو پتہ چلا کہ فیض، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم اور فريدہ خانم ایک ساتھ بیٹھے ہیں، تو ان کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔

اسی طرح ایک بار جب فیض لاہور میں نور جہاں کے لبرٹی مارکیٹ کے گھر کے قریب سے گزر رہے تھے تو انھوں نے طے کیا کہ نور جہاں کے گھر پر اچانک دستک دے کر ان سے ملا جائے۔

جب فیض اندر پہنچے تو نور جہاں ہارمونیم پر کچھ گا رہی تھیں۔ فیض کو دیکھتے ہی انھوں نے ہارمونیم بجانا بند کر دیا، خوشی سے جھوم اٹھیں اور دوڑ کر فیض کو گلے لگا کر چومنے لگیں۔

فیض کے اصرار پر نور جہاں نے پھر سے گانا شروع کیا اور وہ محفل صبح پو پھٹے تک جاری رہی۔

اسی بارے میں