کراچی پر سوچنے، رونے اور خوش ہونے والے

Image caption فرحان انور نے دیہی کراچی کو درپیش خطرے پر بات کی اور کہا کہ شہر کو درکار خوردنی اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے دیہی کراچی کا وجود بڑی اہمیت کا حامل ہے

’کراچی پر دوسری عالمی کانفرنس‘ اتوار کی رات مختلف جہتوں پر مشتمل دس فلموں کی سکرینگ اور توجہ طلب اہم سوالوں پراختتام پذیر ہوئی۔

گذشتہ سال ہونے والی پہلی کانفرنس کے مقابلے میں اس سال کی کانفرنس میں کراچی کے ماضی، حال اور مستقبل کو زیادہ گہرائی سے پیش کیا گیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کراچی کے بارے میں سوچنے، کڑھنے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جانے والے امیدپرستوں کا اجتماع تھا۔

تیسرے اور آخری دن دکھائی جانے والی فلمیں تین منٹ 12 سیکنڈ سے 71 منٹ تک کے دورانیے کی تھیں۔

ایک آدھ کو چھوڑ کر تما م فلمیں نوجوانوں اور کراچی سے تعلق رکھنے والوں نے بنائی ہیں۔ ان میں سے کئی فلمیں اس سے پہلے بھی ملک اور بیرونِ ملک نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہیں اور انعام حاصل کر چکی ہیں۔

فلمیں دو حصوں میں دکھائی گئیں اور ہر حصے اختتام پر فرام جی مینیوالا، نوشین علی، سبین محمود، نازش بروہی، ذیشان حیدر اور رومانہ ضیا پر مشتمل ماہرین کے پینلوں نے فلم سازوں کی فنی مہارت پر تو زیادہ اطمینان کا اظہار نہیں کیا لیکن ان کے موضوعات اور کوششوں کو سراہا۔

پہلے سیشن میں زیست حیدر کی ’دل تو بچہ ہے‘، علی حکیم کی ’کوراچی‘، یمینے چوہدری کی ’اے پختون میموری‘، فرحاد شیخ کی ’دی لاسٹ جیوش گارڈن‘ اور مہرا عمر کی ’سٹی بائی دی سی‘ دکھائی گئیں۔

دوسرے سیشن میں دکھائی جانے والی دستاویزی اور مختصر فلموں میں سراج السالکین کی ’ماسٹر آف سکائی‘، ہیرا نبی کی ’بیچ کہانی‘، احسان شاہ کی ’آزمان‘، عمران ثاقب کی ’گڑڑ گڑڑ‘، اور باصم طارق و عمر ملک کی ’دیز برڈز واک‘ دکھائی گئیں۔

’دیز برڈز واک‘ ان بچوں کے بارے میں تھی جو کھو جاتے ہیں یا مختلف وجوہ کی بنا پر گھروں سے بھاگ نکلتے ہیں اور آخر ایدھی ہوم پہنچ جاتے ہیں۔ بتایا گیا کہ اس کی نمائش کی پر پابندی ہے لیکن خصوصی اجازت کے تحت دکھائی جا رہی ہے۔

فلم نہ صرف بہت با اثر تھی بل کہ دستاویزی ہوتے ہوئے فیچر فلم کی خصوصیت بھی رکھتی تھی۔

اس سے پہلے کانفرنس کے دوسرے دن مقررین کراچی کو ملک کی کائناتِ اضعر قرار دیتے ہوئے دنیا کے دوسرے شہروں کو درپیش درپیش مختلف سماجی اور شہری مسائل کے تناظر میں کراچی کے مسائل کو حل کرنے کی تجاویز پیش کیں۔

ٹیکساس یونیورسٹی میں اینتھروپولوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران علی نے محمد خالد اختر کے مشہور ناول ’چاکیواڑہ میں وصال‘ سے ایک اقتباس پڑھا اور اس بات پر زور دیا کہ نرم دلی اور ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں کہا کہ جہاں ایک طرف مختلف النوع تشدد موجود ہے وہاں اس تشدد کو کم سے کم کرنے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں۔

دوسرے دن کا پہلا اجلاس جس کی صدارت ممتاز آرکیٹیکٹ عارف حسن نے کی، پروین رحمان کے نام کیا گیا۔ عارف حسن کا کہنا تھا کہ پروین رحمان نے جو کام کیا ہے وہ بڑا ہم تھا۔ پروین رحمان اورنگی پائلٹ پروجیکٹ سے وابستہ تھیں اور انھیں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

حارث گزدر نے کراچی کے آبادیاتی مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نسلیاتی تشویش سے پیدا ہونے والا ردِ عمل کراچی کو راس نہیں آئے گا اور یہ کہ کراچی تاریخی طور پر ایک ایسا شہر جہاں کئی نسلوں کے لوگ ہم آہنگی سے ساتھ رہتے آئے ہیں۔

منصور رضا نے کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسائل پر بات کی اور ان کی بنیاد سماجی اقتصادی حقیقتوں کو قرار دیا۔

ڈاکٹر نعمان احمد نے کراچی میں زمینوں کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں 13 ادارے زمینوں کے معاملات کو دیکھتے ہیں اور اس منافع بخش کاروبار میں جو لوگ شامل ہیں ان میں سول ، فوجی ادارے، نیشنل اور انٹرنیشنل کارپوریٹ، منتخب نمائندے، آرکیٹکٹ اور مذہب کے نام پر کام کرنے والے سبھی شامل ہیں۔

دن کے دوسرے نصف میں ’سماجی سیاسی حقیقتیں‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر کامران علی نے کی۔

اس اجلاس میں فرحان انور نے دیہی کراچی کو درپیش خطرے پر بات کی اور کہا کہ شہر کو درکار خوردنی اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے دیہی کراچی کا وجود بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

ہندوستان سے آنے والی ساروّر زیدی نے ’ممبئی میں کراچی‘ کے بارے میں بتایا۔ گل حسن کالماتی نے سکرندداس کے بارے میں بتایا جنھوں نے اپنے بھائی دیپ چند کے نام سے اوجھا سینیٹوریم قائم کیا۔

دوسرے دن کا آخری اجلاس ’منی، ڈینسٹی اور کانفلیکٹ‘ کے عنوان سے تھا جس میں نائیلہ محمود نے ’شراکتی باورچی خانوں‘ اور نعمان بیگ نے ’کراچی میں دولت اور اخلاقیات کے بنیادی ڈھانچے‘ پر بات کی۔ اجلاس کی صدارت تیمور سوری نے کی۔

دوسرے دن کے اختتام پر شیما کرمانی اور ان کے ساتھیوں نے ’کرچی کرچی کراچی‘ سے رقص پیش کیا۔

کانفنرنس کے پہلے روز پہلے دو اجلاس تاریخ کے حوالے سے تھے۔ ان کی صدارت ڈاکٹر نعمان الحق نے کی اور اس میں ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے برفات قبیلے کی کراچی میں آمد، ڈاکٹر کلہوڑو مہر وادی میں راک پینٹنگز کی دریافت اور ڈاکٹر اسما نے کراچی کے وکٹوریہ میوزیم کے فراموش کیے جانے پر بات کی۔

جی آر ملا نے کراچی پر برطانوی قبضے کے خلاف اولین مزاحمت، خادم حسین سومرو نے جدید کراچی کے تین بانیوں ہرچند بھاریانی، جمشید مہتہ اور جی ایم سید اور ہندوستان سے آنے والے وکلاپ کمار نے کراچی سے ممبئی کے بلوچوں کے تعلق کےبارے میں بتایا۔

تیسرے اجلاس میں پروفیسر جورگن وسیم کراچی کی شیدی برادری سے امتیازی سلوک اور اس کے نظر انداز کیے جانے پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر حسن علی خان نے کراچی میں رفاعیوں اور ان کے طریقوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا جب کہ ڈاکٹر ریاض احمد نے کراچی کی شہری ثقافت اور دانشورانہ روایت میں ختم ہوجانے والے ریستورانوں اور ہوٹلوں کے کردار کو اجاگر کیا۔

پہلے روز کا آخری اجلاس کراچی کی سماجی سیاسی تاریخ میں عورتوں کے کردار کے بارے میں تھا اس میں اسلم خواجہ نے ’کراچی کی خواتین کے برطانیہ مخالف جدو جہد‘ کے بارے میں بتایا۔ شیما کرمانی نے رقص اور ادب کے حوالے سے خدمات انجام دینے والی خواتین کی بات کی اور عطیہ فیضی سے سارا شگفتہ تک آئیں۔ جب کہ نیرہ رحمان کا مقالہ ’کراچی میں نسائیت کی مختصر تاریخ‘ کے حوالے سے تھا۔

آخری اجلاس کی صدارت ویمن ایکشن فورم کی انیس ہارون نے کی۔

اسی بارے میں