’آج‘ کی مسلسل اشاعت کے 25 سال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آج کے مدیر اجمل کمال بنیادی طور پر انجینیئر ہیں لیکن اب ان کا اوڑھنا بچھونا صرف ادب ہے

منگل کو حلقہ اربابِ ذوق کراچی کا ہفتہ وار اجلاس سہ ماہی ’آج‘ کی مسلسل اشاعت کے 25 سال مکمل کرنے کے لیے خصوصی نششت کی صورت میں ہوا۔ صدارت معروف شاعر افضال احمد سید نے کی۔

سنجیدہ ادبی حلقے ’آج‘ کو اردو ادب کی تاریخ کے ان ادبی جرائد میں سرِ فہرست قرار دیتے ہیں جو نہ صرف اپنے خاص مزاج بلکہ معیار کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔

ان ادبی جرائد میں کچھ تو اپنی اشاعتیں ختم کر چکے ہیں اور کچھ ایسی بے قاعدگی کا شکار ہیں کہ ان کے شائع ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔

نئے اور پرانے پڑھنے والوں کے حافظوں میں زندہ ان ادبی جرائد میں سویرا، سوغات، ادبی دنیا، شب خون اور نیادور کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ جب کے ایک طرح کے جرائد میں فنون، نقوش، افکار اور اوراق کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

حلقہ ارباِ ذوق کے اجلاس میں ’آج‘ کی تاریخ، کردار اور اثرات پر بھی بات کی گئی۔ سعیدالدین نے ابتدائی دنوں کے بارے میں ایک مضمون پڑھا جب کہ باقی شرکا نے گفتگو کی۔

سعید الدین، ذیشان ساحل اور افضال احمد سید اردو کے ان نمایاں ناموں میں سے ہیں جن کی شناخت ہی ’آج‘ سے بنی۔

سندھ کے شہر حیدرآباد سے 1981 میں انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے والے ایک نوجوان اجمل کمال نے ایک کتابی سلسلے کی ابتدا کی۔ اس سلسلے کی دوسری کتاب 1986 میں شائع ہوئی۔

پہلی کتاب کی ابتدا ہی ترقی پسند تحریک کے ختم اور ’مجرد جدیدیت‘ کا زور ٹوٹ جانے کے اعلان سے کی گئی۔ یہ کسی حد تک ایک جداگانہ منشور کا اعلان تھا۔

اس انتخاب میں اگر ایک طرف ذیشان ساحل جیسا نوجوان تھا تو دوسری طرف حسن منظر اور اسد محمد خان جیسے سینیئرلکھنے والے۔ شاہ لطیف، میرا بائی اور سرویشور دیال سکسینہ کے تراجم تھے تو ساتھ ساتھ پولش شاعر تادیوش روزےوچ اور ہسپانوی خورخے لوئس بورخیس کو بھی اردو میں پیش کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حلقہ ارباب ذوق کراچی میں ہونے والی آج کے لیے خصوصی نششت کے دوران اجمل کمال، افضال احمد سید، سعیدالدین اور مہمان شاعر زاہد امروز

دوسری کتاب تمام کی تمام چیک ادیب میلان کنڈیرا کی تحریروں کے اُن تراجم پر مشتمل تھی جو ممتاز ادیب محمد عمر میمن، خود اجمل کمال اور آصف فرخی نے کیے تھے۔ یہ شاید اردو میں کنڈیرا کا پہلا اورمفصل تعارف تھا۔

یہ جنرل ضیا الحق کی آمریت کا دور تھا اور باقاعدہ اشاعت کے لیے ڈکلیئریشن حاصل ہونا تو کجا نشر و اشاعت پر 25 سال قبل جاری پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس، پی پی او کے تحت بدترین سنسر شپ اور کڑی پابندیاں نافذ تھیں۔

اگست 1988 جنرل ضیا کی حادثاتی موت کے بعد غلام اسحاق نے صدارت سنبھالی، چار ستمبر میں پی پی او ختم کردیا گیا اور 1989 کے موسمِ خزاں میں ’آج‘ کا پہلا شمارہ آیا۔

ایسا لگتا ہے پہلی انتھالوجی سے ہی اجمل کمال نے اپنے اور آج کے لیے مزاج اور معیار کا انتخاب کر لیا تھا یا یہی ان کا ذوق و معیار تھا جس کے لیے اجمل نے ’آج‘ کی اشاعت شروع کی اور اب تک اُس پر قائم ہیں۔

پچیس سال کے دوران آج کے 85 شمارے شایع ہوئے ہیں۔ موٹے حساب سے بھی اس مدت میں 15 شمارے کم شایع ہوئے۔

اسی مدت میں آج کے جو خاص شمارے شایع ہوئے ان میں گابرئیل گارسیا مارکیز، سرائیو، کراچی، فارسی کہانیوں کے تین اور ہندی کہانیوں کے چار شمارے یادگار اہمیت کے حامل ہیں۔

آج کی ایک نمایاں شناخت ادبی تنقید کے محض چند ایک مضامین کا شایع ہونا اور خطوط کا شایع نہ کیا جانا بھی ہے۔

ایک اور اہم تبدیلی سماجی نوعیت کے فکری کے مضامین کا شایع ہونا بھی ہے۔ تمام تو نہیں لیکن ان میں اکثر مضامین اُس سطح سے بلند ہی ہوتے ہیں جس کے لیے میلان کنڈیرا کی’صحافیانہ سادہ ذہنی‘ کی اصطلاح استعمال کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ اس کا پھیلاؤ کچھ اور بھی ہے۔

اردو کے ادبی جرائد میں ایک نئی ابتدا ایک ہی شمارے میں مکمل ناول اور پوری پوری کتاب چھاپ کر بھی کی گئی۔ اس میں اردو میں لکھی جانے والی تخلیقات بھی ہیں اور تراجم بھی۔

فراموش معیاری تحریروں کی دریافت اور اشاعت نو کو بھی آج کا ایک کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ خالد طور کا ناولٹ ’کانی نکاح‘ اور حمید شیخ کا ’گینڈا پہلوان‘ اس سلسلے میں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

آج نے شروع ہی سے خود کو اشتہارات سے پاک رکھا ہے۔ یہ ایک مشکل کام تھا اور ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ درکار ادارتی آزادی میں ہر قسم مفاہمت سے بچنا ہو۔

حلقہ اربابِ ذوق کی خصوصی نششت میں اجمل کمال اور سعید الدین نے ثروت حسین، صغیر ملال، ذیشان ساحل اور خالد اختر کو خاص طور یاد کیا۔

اجمل کمال کا کہنا تھا کہ اس سفر میں اسد محمد خان، فہمیدہ ریاض اور محمد عمر میمن، زینت حسام، راشد مفتی اور کچھ اور لکھنے والوں نے ان سے غیر معمولی تعاون کیا۔

اسی بارے میں