پولیس افسر کی دوٹوک باتیں

Image caption تقریب اجرا میں ڈاکٹر ہما بقائی، حسینہ معین، ڈاکٹر سلیمان شیخ، جسٹس ناصر اسلم زاہد، ڈاکٹر عشرت حسین، ذوالفقار احمد چیمہ، صدر آرٹس کونسل اعجاز احمد فاروقی، ادریس بختیار اور کمشنر کراچی

پولیس والوں کا لوگوں کو جمع کر لینا تو حیران کن نہیں لیکن کراچی جیسے شہر میں اتنے اور ایسے لوگوں کا کسی پولیس والے کے لیے جمع ہونا ضرور حیران کن ہے۔

جسٹس ناصراسلم زاہد نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں میرٹ پر کام کی شدید کمی ہے جس کے باعث نوجوان ملک سے نکلنے کی سوچتے ہیں۔ذوالفقار چیمہ نے ہمارے اسی معاشرے کی موزوں عکاسی کی ہے۔

ناصر اسلم زاہد عدلیہ کے ان چند اعلٰی منصفوں میں سے ایک ہیں جن کے نام پچھلے دنوں پاکستان میں الیکشن کمیشن کی سربراہی کے لیے لیے جاتے رہے لیکن وہ حکومت اور پارلیمان میں موجود اپوزیشن کے لیے قابلِ قبول نہ ہو سکے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں خو شی ہے کہ ہمارے ہاں اچھے لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے اور چیمہ کی تحریریں اس بات کی زندہ مثال ہیں۔

’دو ٹوک باتیں‘موٹر ویز پولیس کے انسپکٹر جنرل ذوالفقار چیمہ کے کالموں کا مجموعہ ہے۔

جمعرات کو آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں اس کی تقریبِ رونمائی میں شرکا کی تعداد اس نوع کی انتہائی کم تقریبوں میں دکھائی دیتی ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے اصولوں پر ڈٹے رہتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارا معاشرہ بہت سی برائیوں کا شکار ہے اور اس میں بھلائی تبھی ممکن ہے جب اس میں بہتری لانے والے ایسے افسر موجود ہوں جو ملک کی بہتری سے آگے کسی بھی شے کو نہ رکھیں۔‘

ضیاالدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے یہاں کتاب لکھنے کا کلچر موجود نہیں ہے لیکن آج لوگوں کا اتنی بڑی تعداد میں جمع ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگ آج بھی اچھی بات پڑھنا چاہتے ہیں۔

Image caption ’دو ٹوک باتیں‘ کی تقریب اجرا میں سامعین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی

ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار چیمہ کی تحریروں میں ایک جادو ہے جو پڑھنے والے کو مثبت عمل کرنے کے عزم کی طرف مائل کرتا ہے۔

معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین کا کہنا تھا ’پولیس والوں کے بارے میں بزرگوں سے سنا تھا کہ نہ تو ان کی دوستی اچھی ہوتی ہے اور نہ دشمنی لیکن یہ کتاب پڑھ کر دل پولیس والوں سے واقعی دوستی کر نے کو چاہتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ویسے تو اس کتاب کے تمام مضامین انتہائی مفید ہیں لیکن ’یس سر آئی وِل ڈو اِٹ‘ مجھے ذاتی طور پر بہت پسند آیا۔ شگفتہ جملوں پر مشتمل اس کتاب کو پڑھتے ہوئے دل چاہتا ہے کہ کتاب بند نہ کی جائے۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن آئی بی اے کراچی کے شعبہ سوشل سائنس کی سربراہ ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ اس کتاب میں مصنف نے اپنی والدہ پر جو تحریر لکھی ہے اسے پڑھ کر یوں لگا کہ اس ملک میں ایک شخص ایسا ہے جس کی موجودگی سے ہم عورتیں خود کو محفوظ سمجھ سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کتاب میں پاکستان کے روشن پہلوؤں کو جس خو بصورتی سے اجاگر کیا ہے وہ اسے نوجوان نسل کے لیے ایک بہترین تحریر بناتا ہے۔

ڈاکٹر سلیمان شیخ نے کہا کہ عام طور پر اعلٰی عہدے پر فائز افراد لکھنے لکھانے سے کوسوں دور ہوتے ہیں لیکن ذوالفقار چیمہ نے ہمیں ایک ایسی کتاب دی ہے جس میں عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر شعبے کی ترجمانی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کتاب کا اسلوب آسان، سادہ اور موثر ہے۔

آرٹس کونسل کے سیکریٹری محمد احمد شاہ نے کہا کہ ذوالفقار چیمہ قانون کے نفاذ کا وسیع تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے کالم نگار بھی ہیں، اس مجموعے میں شامل کالموں میں موضوعات کی جدت، ملک کی محبت اور طنز و مزاح کی حدت اسے منفرد بناتی ہے۔

معروف صحافی اور کالم نگار ادریس بختیار نے کہا کہ ذوالفقار چیمہ ایک مشکل آدمی ہیں۔گجرانوالہ اور شیخوپورہ میں انھوں نے جرائم پیشہ گروہوں کا وہ حشر کیا کہ وہ آج بھی ان کا نام سن کر کانپتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مصنف ایک محنتی، محبت کرنے اور میرٹ پر عمل کر نے والے ہیں۔ ان کالموں میں انھوں نے اپنی پولیس برداری کو بھی نہیں بخشا۔

مصنف نے حاضرین محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں مسائل تو ہیں ہی لیکن خوبصورتی بھی بہت ہے۔ہمیں چاہے کہ ہم اس خوبصورتی کو مدنظر رکھیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ جلد ہی ریٹائر ہو جائیں گے لیکن قلم کی طاقت سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

تقریب کے آخر میں آرٹس کونسل کراچی کے صدر پروفیسر اعجاز احمد فاروقی نے کہا کہ آرٹس کونسل ہمیشہ اچھے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔

اسی بارے میں