لندن میں طلعت حسین پر کیا کیا گزری

یہ ان دنوں کی بات ہے جب طلعت حسین اداکاری کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن میں تھے۔ انھیں بی بی سی میں تو کام ملنا شروع ہو گیا تھا لیکن تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کام سے گزر بسر ممکن نہیں تھی۔

اس لیے طلعت حسین نے ویٹر کی جزوقتی ملازمت کا فیصلہ کیا۔ طلعت اداکار کے طور پر پہچان بنا چکے تھے اِس لیے یہ فیصلہ مشکل تھا، لیکن اس میں مشکل کیا تھی:

’مشکل اُس وقت ہوتی تھی جب جب کوئی پاکستانی فیملی ہوٹل میں کھانا کھانے آتی۔ مجھے دیکھتے ہی پہچان لیتی۔ مجھے آرڈر دیتے ہوئے انھیں جھجک ہوتی۔ میں ان سے کہتا کہ وہ بے چین نہ ہوں اور اطمینان سے اپنا آرڈر لکھوا دیں۔ اس کے بعد صورتِ حال اُس وقت اور پیچیدہ ہو جاتی جب انھیں بل کے ساتھ ٹپ دینا ہوتی۔ پاکستانی مجھے ٹپ دیتے ہوئے شرماتے تھے۔‘

یہ تفصیلات طلعت حسین پر اداکارہ ہما میر کی اُس کتاب میں شامل ہیں جو انھوں نے ’یہ ہیں ہمارے طلعت حسین‘ کے نام سے لکھی ہے۔ کتاب کو آرٹس کونسل پاکستان کراچی نے شائع کیا ہے۔

طلعت حسین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے گرد دیواریں کھڑی کر رکھی ہیں تا کہ کوئی ان تک پہنچ نہ سکے، لیکن اس کتاب نے اُن میں سے بہت سی دیواریں گرادی ہیں۔

طلعت حسین اداکاری پر ہی نہیں ادب، فلسفے، مذہب، تصوف، مصوری اور سیاست سمیت ہر موضوع پر گھنٹوں گفتگو کر سکتے ہیں اور ہر وقت ان شعبوں کی قدیم و جدید کتابوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔

اس کتاب میں انور مقصود، ڈاکٹر انور سجاد، حسینہ معین، راحت کاظمی، شکیل، عظمٰی گیلانی، قاسم جلالی، اور محمد احمد شاہ نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے بارے میں بات نہیں کرتے۔

لیکن ہما میر کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے طلعت حسین کو اپنی ذاتی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں فراخدلی سے بات کرنے پر آمادہ کر لیا ہے۔

ہما میر کا کہنا ہے کہ طلعت حسین نے اپنی زندگی تمام گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مبالغے اور تصنّع کی بجائے صاف گوئی سے کام لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے: ’اس کتاب میں پٹیالے سے کراچی تک کی پوری زندگی کااحاطہ کیا گیا ہے۔‘

انور مقصود کا کہنا ہے کہ ’جو فنکار ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر آئے ہیں، ان میں طلعت حسین کا نام سرفہرست ہے۔ جو کچھ طلعت کے بارے میں ہما میر نے لکھا ہے، اس کا جواب نہیں۔ بہت اچھی اداکارہ کی بہت اچھی تحریر۔‘

ڈاکٹر انور سجاد کا کہنا ہے کہ ’طلعت حسین صرف ایک ہے، اُس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ طلعت کا نقال تو شاید مل جائے لیکن کوئی دوسرا طلعت حسین نہیں بن سکتا۔‘

حسینہ معین نے طلعت حسین کے دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں اور کہا ہے وہ نہ صرف ایک بڑے اداکار ہیں بلکہ بہت اچھے انسان بھی ہیں۔

راحت کاظمی جو خود بھی ان تمام شعبوں سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں جو طلعت حسین کی دلچسپی کے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ڈرامہ ’پرچھائیاں‘ میں انھوں نے ایسی اداکاری کی کہ کراچی کے ایک علاقے میں ان کی پٹائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔

اداکار شکیل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی وژن کی اور شوبز کی اگر تاریخ لکھی گئی تو اس میں طلعت کا نام سنہری حروف میں جگمگائے گا۔

عظمٰی گیلانی کہتی ہیں: ’طلعت اداکاری کو کھیل تماشا نہیں سمجھتے اس فن کو سنجیدگی اور فلسفیانہ انداز میں لوگوں تک پہچانا چاہتے ہیں۔‘

اس کتاب کے بارے میں تمام لوگوں کی رائے ہے کہ ایک تو یہ اردو میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے اور پھر ایک اداکارہ کی ایک ایسے اداکار سے اُس کی زندگی پر بات چیت ہے جو اپنے بارے میں بات کرنے سے گریزاں رہتا ہے۔

ممتاز صحافی فرہاد زیدی کا کہنا ہے کہ ہما میر کا شمار پاکستان میں صف اول کے فنکاروں میں ہوتا ہے، اور وہ کمپیئرنگ اور کالم نگاری میں بھی ممتاز ہیں۔ ان کے افسانوں کی کتاب بھی جلد شائع ہونے والی ہے۔

موجودہ کتاب اچھی شائع ہوئی ہے۔ اس میں بہت نادر تصاویر بھی ہیں۔ اس اعتبار سے قیمت مناسب ہے لیکن پروف ریڈنگ پر توجہ کی کچھ کمی محسوس ہوتی ہے۔

اسی بارے میں