بزکشی اور ایک خاتون کی قسمت کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ہیروئن سے شادی کے تین خواہش مند بزکشی کے مقابلے میں حصہ لیتے ہیں

افغانستان کے شورش زدہ شمالی صوبے میں ایک شخص کی پانچویں شادی کی خواہش پر فلمائی جانے والی ایک فلم حال ہی میں کابل میں دکھائی گئی ہے۔

بظاہر یہ ایک محبت کی داستان ہے لیکن اس میں افغان معاشرے کے بعض تلخ حقائق پیش کیے گئے ہیں۔

اس میں ایک دولت مند زمیندار شیر محمد کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کی چار بیویاں ہیں جو اسلامی شریعت کی رو سے زیادہ سے زیادہ تعداد ہے، لیکن وہ ایک دوسری خاتون الکر سے متاثر ہو کر اس سے بھی شادی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے جس کے سبب گھر میں تنازع اور مخاصمت پیدا ہو جاتی ہے۔

لیکن یہاں دو دوسرے افراد بھی الکر کے دام محبت میں گرفتار ہیں۔ ان میں سے ایک امیر شخص ہے جبکہ دوسرا گڈریا ہے۔ علاقے میں خون خرابے سے بچنے کے لیے اس نوجوان خاتون کا والد کہتا ہے کہ اس کی بیٹی کے مقدر کا فیصلہ بزکشی کے کھیل پر منحصر ہو گا۔

بزکشی افغانوں کا روایتی کھیل ہے جس میں شامل افراد ایک مرے ہوئے بکرے کو زمین سے اٹھاکر ایک گول میں پھینکنے کے لیے گھوڑے پر سوار ہو کر لڑتے ہیں۔

لیکن اس سلسلے میں خود الکر کا کیا کہنا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بزکشی کا کھیل افغان روایت کا حصہ ہے

وہ گڈریے سے محبت کرتی ہے لیکن فلم کے ہدایت کار صادق عابدی کا کہنا ہے کہ ’افسوس ناک بات یہ ہے کہ افغان خواتین کو اپنے خاوند کو پسند کرنے کا حق نہیں دیا جاتا اور وہ تمام عمر مصیبت میں گزار دیتی ہیں۔ میں اس حقیقت کو دکھانا چاہتا تھا۔‘

فلم میں ایک جگہ الکر کہتی ہے کہ وہ ’اپنی قسمت کسی گھوڑے کے پاؤں سے بندھی ہوئی نہیں دیکھنا چاہتی۔‘

یہ اپنے آپ میں کسی المیے سے کم نہیں کہ اس فلم میں خواتین کے زیادہ جذباتی کرداروں کو وسط ایشیائی ادکاراؤں نے نبھایا ہے کیونکہ افغان خواتین ایسے مناظر سے گریز کرتی ہیں جو ان کی تہذیب کے منافی ہوں۔

تاہم بہت سے مناظر میں افغانستان کی نہ بدلنے والی زندگی کو بیان کیا گيا ہے۔ ان میں سے ایک وہ ہے جس میں شیر محمد اپنی ایک بیوی کو پیٹتا ہے، یا ایک منظر وہ ہے جس میں دو نوخیز بچوں کے ختنے دکھائے گئے ہیں، جن کا کسی بےہوشی کی دوا کے بغیر ختنہ کر دیا جاتا ہے۔

صادق عابدی نے کہا: ’کسی شخص کا اپنی بیوی کو پیٹنا یا لڑکوں کا ختنہ افغانستان کی سخت زندگی کے حقائق ہیں کیونکہ خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور اکثریت کے پاس طبی سہولیات کی کمی ہے۔‘

کابل میں جب یہ فلم پہلی بار دکھائی گئی تو ایک خاتون نے ان خیالات کا اظہار کیا: ’اس فلم میں وہ مناظر دکھائے گئے ہیں جنھیں ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ میرے خیال میں یہ عالمی ناظرین کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ افغانستان کے اس علاقے میں کیا ہوتا ہے۔‘

دیہی افغانستان میں ابھی بھی لوگ ایسے افراد کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو بال کاٹنے، درد والے دانت نکالنے سے لے کر ختنہ تک کے کام انجام دیتا ہے۔ یہ صدیوں سے چلی آنے والی روایت کا حصہ ہے۔

ان قدیم اور سخت رواجوں کو دستاویزی شکل دینے کی خواہش کے تحت عابدی نے اس فلم کی شمالی افغانستان میں مکمل شوٹنگ کا متنازع فیصلہ لیا۔ وہ ان علاقوں کی حقیقی زندگی کی عکاسی چاہتے تھے۔

انھوں نے کہا: ’ہمیں افغانستان کے مناظر، گھوڑے اور سواروں کی پوشاکوں کے علاوہ ہزاروں ایکسٹرا لوگوں کے لیے کپڑے درکار تھے۔

120 افراد پر مشتمل بین الاقوامی فلمی عملے کو فاریاب جیسے شورش زدہ علاقے میں لے جانا آسان فیصلہ نہیں تھا۔ اس سلسلے میں عابدی کو دھمکیاں بھی ملیں تاہم مقامی لوگوں، قبائلی سرداروں اور فوج کی امداد اس بارے میں فیصلہ کن رہی۔

Image caption حال میں اس فلم کی کابل میں سکریننگ کی گئی

افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ کی وجہ سے بہت کم فلمیں بنتی ہیں۔

ان جنگوں کی ابتدا سے قبل افغانستان میں ترقی پذیر فلم انڈسٹری تھی۔ سنہ 1965 میں بیرونی امداد سے رائیہ بلخی نے پہلی فلم بنائی تھی۔ یہ دسویں صدی کی شاہزادی پر مبنی ایک رومانوی فلم تھی جس میں افغانستان کی پہلی شاعرہ کی ایک غلام سے محبت کی عکاسی کی گئی تھی۔

اس میں سیما اور عبداللہ شاداں نے اہم کردار نبھائے تھے۔ ان دونوں نے بعد میں شادی کر لی اور وہ اپنے زمانے کی افغانستان کی انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کی جوڑی تھے۔

تقریباً 50 سال بعد ایک فلم بنتی ہے جس میں ایک آزاد اور باہمت افغان خاتون کی کہانی نہیں جو ایک غلام سے اپنی محبت کی بات کہہ سکے بلکہ ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے جس کی قسمت کا فیصلہ ایک کھیل کے نتیجے پر منحصر ہے۔

جیسا کہ ہدایت کار کا کہنا ہے کہ یہ افغان زندگی کی صحیح عکاسی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ نوجوان خاتون کی قسمت بھی ہدایت کار کے ہاتھ میں ہے۔

اس لیے اس زمیندار کی پانچویں بیوی کی خواہش کے باوجود گڈریا بزکشی کا میچ جیت جاتا ہے اور دو محبت کرنے والے مل جاتے ہیں۔ ہدایت کار نے خوش و خرم اختتام کا انتخاب کیا۔

اسی بارے میں