2014: بالی وڈ کی اچھی اور بری فلمیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گوندا نے ایک عرصے کے بعد فلم کے میدان میں پھر سے قدم رکھا ہے

بالی وڈ کے فلم ناقد مینک شیکھر نے سنہ 2014 پر نظر ڈالتے ہوئے چند اچھی اور بری فلموں پر تبصرہ کیا ہے لیکن ان کی اچھی فلموں میں کسی بھی بڑے سٹار کی فلم شامل نہیں ہے۔

شیکھر فلم ’آنكھوں دیکھی‘ فلم سے متاثر رہے۔ اس فلم کی ہدایات رجت کپور نے دی ہیں۔ اس میں ایک ادھیڑ عمر شخص صرف آنکھوں دیکھی چیزوں پر ہی یقین کرتا ہے۔

Image caption رجت کپور چھوٹی بجٹ کی دلچسپیوں سے پر فلمیں بنانے کے لیے شہرت رکھتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ فلم اچھی ہے تاہم کم پروموشن کی وجہ سے یہ فلم باکس آفس پر زیادہ بزنس نہیں کر پائی اور بھارتی شائقین نے بھی فلم کو مسترد کر دیا۔

ان کے مطابق ’فائنڈنگ فیني‘ بھی اہم رہی۔ دیپکا پاڈوکون اور ارجن کپور کی اداکاری والی اس فلم کی ہدایات ہومی ادجانيا نے دی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Finding Fanny
Image caption فائنڈنگ فینی میں ڈیپکا پادوکون کی اچھی اداکاری ہے

یہ بالی وڈ کی انگریزی فلم تھی۔ فلم میں نصیرالدین شاہ، پنکج کپور اور ڈمپل كپاڈيا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

چھوٹے بجٹ کی اس فلم نے مجموعی طور پر 27 کروڑ روپے کا بزنس کیا اور کامیاب قرار دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Vishal Bhardwaj Films
Image caption ڈیڑھ عشقیہ میں مادھوری دیکشت اور ہما قریشی نے اہم کردار نبھائے ہیں

ابھیشیک چوبے کی ہدایت میں بننے والی فلم ’ڈیڑھ عشقیہ‘ سنہ 2010 کی معروف فلم ’عشقیہ‘ کی سيكويل تھی۔

فلم کے مرکزی کردار کم و بیش وہی تھے لیکن کہانی نئی تھی۔ اس فلم میں اردو زبان کا کچھ اس طرح سے استعمال کیا گیا ہے جو اب بالی وڈ میں شاذونادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ فلم بھی ان کے مطابق اچھی رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ HOTURE
Image caption کنگنا راناوت نے کوین کی کامیابی کے بعد اپنے معاوضے میں اضافہ کر دیا تھا

فلم میں نصيرالدين شاہ، مادھوری دیکشت، ارشد وارثی اور ہما قریشی نے اہم کردار نبھائے تھے۔

فلم ’کوین‘ نے اداکارہ کنگنا راناوت کو راتوں رات سٹار بنا دیا۔ فلم کے ہدایات کار وکاس بہل تھے۔ یہ ایک متوسط خاندان کی لڑکی کی خود کو پہچاننے کی عجیب کہانی تھی۔ فلم کو ناقدین کے ساتھ ساتھ ناظرین نے بھی خوب سراہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Katiyabaz
Image caption کٹیا باز میں چوری سے بجلی حاصل کرنے والے کی کہانی پیش کی گئی ہے

فلم ’كٹياباز‘ بنیادی طور ایک دستاویزی فلم تھی جس کے ہدایت کار دیپتی ككر اور فرہاد مصطفیٰ تھے۔

دستاویزی فلم ہونے کے باوجود اس فلم کی کہانی سنانے کا انداز بالی وڈ کی کئی دیگر فلموں جیسا تھا جس میں ایک ہیرو ہے اور ایک ولن اور ایک مسئلہ بھی ہے۔

مينك شیکھر کہتے ہیں کہ ’ہر ہفتے ایسی فلمیں بھی ریلیز ہوتی ہیں جو خراب ہوتی ہیں۔ لیکن ان میں سے بھی اگر بعض فلمیں آپ کو سال کے آخر تک یاد رہ جائیں تو سمجھ لیجیے کہ انھوں نے کچھ نہ کچھ حاصل کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EROS INTERNATIONAL
Image caption اجے دیوگن کی اس سال ریلیز ہونے والی دوسری فلم بھی زیادہ کامیابی حاصل نہ کر سکی

’اجے دیوگن کی فلم ’ایکشن جیکسن‘ تفریح کے لحاظ سے بے حد خراب فلم تھی۔ سوناکشی سنہا، يامي گوتم اور منسوي صرف اجے دیوگن کے کردار کو بنانے میں لگی رہیں۔ اس کے علاوہ فلم میں کوئی کہانی بھی نہیں ہے۔ اس سے بری فلم میں نے نہیں دیکھی۔‘

اکشے کمار کی فلم ’اِٹ اِز انٹرٹینمنٹ‘ میں ہیرو کا کردار ایک کتے نے نبھایا ہے۔ مینک کے مطابق یہ انتہائی بری فلم رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ pen
Image caption مینک کا کہنا ہے کہ ’اِٹ از انٹرٹینمنٹ‘ میں کوئی انٹرٹینمنٹ نہیں ہے

ساجد خان کی فلم ’ہم شكلز‘ میں سیف علی خان، رتیش دیش مکھ اور رام کپور کا ٹرپل رول تھا لیکن کہانی کے نام پر کچھ نہیں تھا۔

سندربن کے شیروں پر بنائی جانے والی فلم ’رور‘ کے ڈائریکٹر کمل سدن تھے اور یہ فلم اچھی نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sajid Khan
Image caption ’ہم شکلز‘ کی ناکامی کے بعد سیف نے بھی ایسی فلموں سے توبہ کرنے کا عہد کیا تھا

مينك کہتے ہیں کہ کچھ ایسی فلمیں بھی ہوتی ہیں جنھیں گھنٹے بھر سے زیادہ برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور یہ ان میں سے ایک تھی۔

مینک کی فہرست میں نہ تو شاہ رخ خان کی ’ہیپی نیو ایئر‘ ہے، نہ سلمان کی ’جے ہو‘ اور نہ ہی عامر خان کی ’پی کے۔‘

اسی بارے میں