دی انٹرویو کی ریکارڈ آن لائن کمائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس فلم کا بڑے پیمانے پر تجزیہ کیا گیا ہے اور اسے وسیع پیمانے پر ’مزاحیہ اور زیرک‘ قرار دیا گیا ہے

سونی پکچرز کی متنازع فلم ’دی انٹرویو‘ اپنی ریلیز کے صرف چار دن بعد ہی آن لائن پر اس سٹوڈیو کی آج تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی ہے۔

یہ فلم کرسمس کے موقعے پر 24 د سمبر کو ریلیز ہوئی تھی اور اپنی ریلیز کے بعد 27 دسمبر تک یہ 20 لاکھ بار ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہے۔

اس دوران اس نے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا بزنس کیا ہے۔

یہ فلم شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے قتل کی فرضی سازش پر مبنی ہے جس کی ریلیز پہلے تو روک دی گئی تھی لیکن بعد میں سونی پکچرز نے اپنے فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے مختصر پیمانے پر ریلیز کر دیا۔

اس فلم نے شمالی کوریا کو ناراض کیا اور یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ سونی سٹوڈیوز پر ہونے والے سائبر حملے میں اس ملک کا ہاتھ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption سونی پکچرز کی یہ فلم شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو قتل کرنے کی فرضی سازش پر مبنی ہے

ہیکنگ کا یہ حملہ ’گارڈیئن آف پیس‘ یعنی امن کے رکھوالے نامی گروپ کی جانب سے کیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں سونی پکچرز کی بعض آنے والی فلموں کے سکرپٹ، خفیہ ای میلز اور اداکاروں کی تنخواہ کے راز افشا کر دیے گئے تھے۔

اس کے بعد اس فلم کی ریلیز کے نتیجے میں مزید حملوں کی دھمکی دی گئی تھی جس کی وجہ سے سونی پکچرز نے اس کی ریلیز ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیکن امریکی صدر سمیت بہت سے لوگوں نے اسے اظہار رائے کی آزادی پر آنچ سے تعبیر کیا تھا۔

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے اپنی تازہ تفتیش میں کہا ہے کہ ہیکنگ کے شواہد شمالی کوریا کی جانب اشارہ کرتے ہیں جبکہ شمالی کوریا نے اس سے انکار کیا ہے، تاہم اسے اچھا عمل بتایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آن لائن ریلیز ہونے والی یہ سونی سٹوڈیوز کی کامیاب ترین فلم ہے

سونی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس فلم کو امریکہ اور کینیڈا میں گوگل کی سروسز یوٹیوب اور پلے اور مائیکروسافٹ کے ایکس باکس ویڈیو اور اپنی مخصوص ویب سائٹ پر 5.99 ڈالر قیمت پر 48 گھنٹوں کے لیے کرائے پر فراہم کیا گیا تھا، جبکہ اس کی مستقل قیمت 14.99 ڈالر رکھی گئی تھی۔

اگرچہ اسے امریکہ کے بڑے سینماؤں میں نہیں دکھایا گیا تاہم محدود پیمانے پر ریلیز کے باوجود اسے خاصی پذیرائی ملی۔

سنیچر کو ایک بیان میں شمالی کوریا میں این ڈی سی کے ترجمان نے فلم کی ریلیز کے لیے امریکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس غیر ایماندار اور رجعت پسند فلم کے ذریعے ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کے رہنما توہین کی گئی ہے اور اس کا مقصد دہشت گردی کو ہوا دینا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ صدر اوباما اس فعل کے اہم مرتکب ہیں جنھوں نے امریکہ میں سینیما کو بلیک میل کرتے ہوئے سونی پکچرز کو فلم کی ریلیز کے لیے مجبور کیا۔

اسی بارے میں