لگاتار آسکر جیتنے والی پہلی اداکارہ لیویز رائنر کا انتقال

Image caption لیویز رائنر کو 1936 اور 1937 میں بہترین اداکارہ قرار دیا گیا

مسلسل دو مرتبہ آسکر ایواڈ پانے والی پہلی اداکارہ لیویز رائنر کا 104 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔

جرمن نژاد اداکارہ کا شمار ان پانچ خوش نصیب اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے مسلسل دو آسکر ایواڈ جیتے ہیں۔ لیویز رائنر کو 1936 اور 1937 میں بہترین اداکارہ قرار دیا گیا تھا۔

اس کامیابی کی وجہ سے وہ ہالی وڈ سنیما کے سنہری دور میں ایک بہترین اداکارہ کے طور پر ابھریں۔ انھوں نے اپنی آخری بڑی فلم 1943 میں کی جس کے بعد انھوں نے لندن میں سکونت اختیا ر کی اور کبھی کبھار فلم اور ٹیلی وژن ڈراموں میں جلوہ گر بھی ہوتی رہیں۔

1984 میں لیویز نے امریکی ٹیلی وژن ڈرامہ سیریز ’لو بوٹ‘ میں اداکاری کی اور فلم میں انھوں نے آخری قابل ذکر کے کردار 1998 میں ریلز ہونے والی فلم ’دا گیمبلر‘ میں ادا کیا۔

Image caption فلم "دا گریٹ ذیگفلڈ" میں بہترین اداکاری پر انہیں اکیڈمی ایوارڈ ملا

1935 میں ہالی وڈ کی فلم ساز کمپنی ایم جی ایم سے وابستہ ہونے سے پہلے وہ جرمن فلموں میں بھی اداکاری کرچکی تھیں۔

ہالی وڈ آنے کے ایک سال بعد ہی فلم ’دا گریٹ ذیگفلڈ‘ میں بہترین اداکاری پر انہیں اکیڈمی ایوارڈ ملا۔

اگلے سال ’دا گوڈ ایرتھ‘ نامی فلم میں ایک دفعہ پھر لیویز نے بے مثال اداکاری سے سینما بینوں کے دل جیت لیے اور انہیں ایک اور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ’دا گوڈ ایرتھ‘ میں انھوں نے ایک چینی کسان کا کردار ادا کیا تھا۔

2003 میں بی بی سی سے بات کرتے ہوے اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس زمانے میں ایوارڈز کی تقاریب آج کل کے دور کے مقابلے میں کافی سادہ ہوتی تھیں۔ لیویز رائنر کا مزید کہنا تھا کہ ’ایوارڈز جیتنے کا مجھے کافی نقصان بھی ہوا، فلم ساز سمجھنے لگے کہ میں کوئی بھی کردار ادا کر سکتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وہ ایک پرکشش شخصیت کی مالک تھیں

فنکارانہ آزادی کے فقدان کی وجہ سے فلم ساز کمپنی ایم جی ایم کے ساتھ اپنا معاہدہ توڑ نے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں عملی طور پر ایک مشین بن گئی تھی،ایک بڑی فیکٹری میں ایک آلہ، اور مجھے کوئی آزادی حاصل نہیں تھی، تو میں نے تنگ آکر سب کچھ چھوڑ دیا، بس فرار ہوگئی۔‘

لیویز رائنر نے دو شادیاں کی تھیں اور اپنے دوسرے شوہر رابرٹ کینٹل کے ساتھ ان کی ایک بیٹی تھی جن کا نام فراینسسکا کینٹل ہے۔

اپنی والدہ کے بارے میں بات کرتے ہوے فراینسسکا کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت بڑی اور پرکشش شخصیت کی مالک تھیں، اگر آپ ان سے ایک بار ملیں تو ساری زندگی ان کو بھول نہیں سکتے۔‘

یاد رہے کہ سپینسر ٹریسی، کیتھرین ہپبرن، جیسن روبارڈز اور ٹام ہینکس وہ دیگر اداکار ہیں جنہوں نے دو متواتر بہترین اداکاری کے ایوارڈزجیتے ہیں۔

اسی بارے میں