’کشمیر چلو‘: کشمیری فلمی صنعت کی جانب پہلا قدم

تصویر کے کاپی رائٹ TASADUQ
Image caption ناصر علی نے فلم کی 20 فیصد شوٹنگ پوری کر لی ہے

26 سالہ ناصر علی خان نے اپنی آنکھوں میں وہ خواب سجائے ہیں جو خواب دوسری آنکھوں میں مر کر دفن ہو چکے ہیں۔

ناصر کے اس خواب کا نام ہے ’کشمیر چلو‘۔ یہ مکمل طور پر کشمیر میں بنائی جانے والی پہلی ممکنہ فیچر فلم ہے۔

اس کے خالق، ڈائریکٹر، اور پردے کے سامنے اور پیچھے تمام اداکار و فن کار کشمیری ہی ہیں۔

ناصر علی نے فلم کی 20 فیصد شوٹنگ پوری کر لی ہے۔ اس پر اب تک پانچ لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں جو ناصر نے اپنی جیب سے لگائے ہیں۔

ناصر نہ صرف یہ فلم بنانا چاہتے ہیں بلکہ ان کا مقصد ہے کہ اس ریاست کی اپنی فلمی صنعت ہو۔

دوسری کئی ریاستوں میں علاقائی فلموں کا اچھا کاروبار ہے خاص طور پر اوڈشا، بنگال، مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں لسانی فلموں کا بازار بڑا ہے اور پھل پھول رہا ہے۔

لیکن کشمیر جس کی وادیوں اور وہاں کی کہانیوں کا استعمال ہندی فلموں میں تو بہت ہوا ہے لیکن اب بھی یہ اپنی علاقائی فلم صنعت کے لیے ترس رہا ہے۔

ٹی وی میں کئی دہائیوں سے کام کرنے والے ظفر فاروق سالتی کا خیال ہے کہ کشمیری فلمیں بن بھی جائیں تو دکھائی کہاں جائیں۔

’کشمیر میں 15 سے 20 سینما ہال تھے جو حالات کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر میں اپنی فلم انڈسٹری کے لیے کافی جگہ ہے لیکن اس کے لیے کافی پیسہ چاہیے۔‘

لیکن ساتھ ہی وہ ایسے لوگوں کو بھی کافی سراہتے ہیں جو کشمیر میں اپنی فلمی دنیا کی عمارت کو کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ ’اگر کوئی ایسا کچھ کرنا چاہتا ہے تو میں اس کو سلام کرتا ہوں۔‘

ٹی وی اور بالی وڈ کے ساتھ کئی سالوں سے منسلک کشمیری فنکار عمر فاروق کا کہنا ہے کہ کشمیر پر گذشتہ 25 سالوں میں بالی وڈ نے جو بھی فلمیں بنائی ہیں، وہ اس جگہ کے مسلح تحریک سے وابستہ رہی ہیں۔

اسی بارے میں