سانحۂ پشاور کے بعد البم کا اجرا ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد شعیب (بائیں) کہتے ہیں کہ اب انھوں نے موسیقی کو خاصی سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا ہے

پاکستان میں گذشتہ برس پہلی مرتبہ پاکستان آئڈل کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آنے والے نوجوان گائیک محمد شعیب نے اپنی پہلی البم کا پشاور میں سکول پر حملے کی وجہ سے سال نو پر اجرا ملتوی کر دیا ہے۔ اب یہ البم ویلینٹائن ڈے یعنی فروری میں جاری کی جائے گی۔

پشاور میں بی بی سی اردو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے محمد شعیب نے بتایا کہ اپنی اس پہلی البم میں انھوں نے اردو کے علاوہ پشتو، ہندکو اور فارسی زبانوں میں گیت گائے ہیں: ’اس سالِ نو پر اسے جاری کرنے کا خیال تھا لیکن میرے شہر پشاور میں 16 دسمبر کے سانحے میں جو ہمارا بلکہ پورے پاکستان اور دنیا کا نقصان ہوا، اس کے بعد اسے میں نے موخر کر دیا ہے۔ اب یہ ویلنٹائن کے دن جاری ہوگی۔‘

محمد شعیب بنیادی طور پر فوٹو جرنلزم سے منسلک ہیں۔ انھوں نے گذشتہ برس ایک نجی ٹی وی چینل کے زیر اہتمام پہلے پاکستان آئڈل مقابلے میں قسمت آزمائی کی اور انتہائی سخت مقابلے کے بعد دوسرا نمبر حاصل کیا۔

شعیب کا تعلق پشاور کے قدیم قصہ خوانی بازار سے ہے۔ 24 سالہ شعیب نے اس مقابلے سے پہلے کبھی گائیکی کے میدان میں قسمت نہیں آزمائی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سال میں خاصا مصروف وقت گزرا: ’اس مقابلے کے بعد اللہ تعالی نے اتنی عزت دی کہ ہر شہر میں دو تین شو ہوتے ہیں۔ ایک سلسلہ اللہ نے چلایا ہے کہ جو سوچ سے باہر ہے۔‘

محمد شعیب نے اب تک کوئی اپنی کمپنی نہیں بنائی اور نہ کسی اور کمپنی کا حصہ بنے ہیں: ’اس لیے نہیں بنائی کہ اس طرح آپ بندھ جاتے ہیں۔ پہلے بھی انفرادی طور پر گیا تھا اب بھی انفرادی طور پر کام کر رہا ہوں۔ جس شہر جاتا ہوں وہاں کے اچھے موسیقاروں سے رابطہ کرتا ہوں اور ان کی مدد سے شو کرتا ہوں جس سے سب خوش ہو جاتے ہیں۔‘

مقابلے کی جج بشریٰ انصاری نے محمد شعیب کو پٹھنوا کا خطاب دیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ اس پر بھی ایک گیت البم کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وصی شاہ کا گیت ’اپنے احساس سے چھو کر صندل کر دو، میں جو صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو‘ بھی شامل ہے۔

دن بھر کے پشاور جیسے شہر میں ذہنی دباؤ سے متاثر ہو کر اپنی صحافتی سرگرمیوں کے بعد شعیب آج بھی فارغ وقت میں استاد فتح علی خان کے گیت سن کر فرحت محسوس کرتے ہیں۔

انھوں نے گائیکی کو اب خاصی سنجیدگی سے لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’روزانہ ریاض کے بغیر اب تو کام کرنا ممکن ہی نہیں۔‘

محمد شعیب کو یقین ہے کہ نئی البم ان کے مداحوں کو ناامید نہیں کرے گی۔