’میں اکیلی ان بارودی سرنگوں سے گزری‘

Image caption عظمٰی گیلانی کی ان یادداشتوں کو غلام عباس سیال نے قلم بند کیا ہے۔ یہ اقتباسات خصوصی اجازت سے شائع کیے جا رہے ہیں

پاکستان کی معروف اداکارہ عظمٰی گیلانی کی یادداشتوں کی کتاب ’جو ہم پہ گزری‘ میں سے کچھ ڈراموں کی یادوں کے بارے میں اقتباسات کے سلسلے کی دوسری کڑی۔

مجھے سنہ 1982 کے دوران امریکہ اور انگلینڈ جانے کا اتفاق ہوا۔ میں جب وہاں سے واپس لوٹی تو شہزاد خلیل کا فون آیا کہ وہ تفصیلی میٹنگ کے لیے لاہور آ رہے ہیں۔

شہزاد خلیل آئے اورمجھے بتایا: ’یہ تو آپ جانتی ہیں کہ روس افغانستان میں گھس آیا ہے اور ہم افغانستان کی آزادی کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے حکم آیا ہے کہ کوئی ایسا ڈرامہ تیار کیا جائے جس میں افغانوں کی مظلومیت اور روسیوں کے ظلم و ستم کو پوری دنیا کے سامنے آشکار کیا جائے۔‘

میں شہزاد خلیل کے ٹیلنٹ کو اتنا ماننے والی ہوں کہ شاید ہی کوئی اور ہو۔ کیا پری پروڈکشن تیاریاں ہواکرتی تھیں؟ کیا سیٹ، کیا ڈریس، کیا لہجہ اورکیا گیٹ اپ؟ غرض سارے کا ساراڈرامہ شہزاد خلیل ایک پیپر پر تیار کر لیا کرتے تھے۔

روس افغان جنگ کے پس منظر میں بنائے گئے اس کھیل میں مجھے ایک افغان عورت شاہ بی بی کا رول دیا گیا کہ جس کا سب کچھ جنگ میں تباہ و برباد ہو چکا ہے اور وہ پناہ کی تلاش میں دربدر ہے۔ ڈرامے کا نام بھی اسی مناسبت سے ’پناہ‘ رکھا گیا۔

شہزاد خلیل نے مجھے میرا کردار سمجھا دیا، مگرسب سے بڑا چیلنج افغانی عورت کی مشابہت تھی۔افغان رسم و رواج، افغانی عورت کا کلچرل، لباس اور پشتو لہجے میں اردو کا تلفظ۔

شہزاد خلیل چونکہ خود افغان تھے اسی لیے کافی چیزوں میں انھوں نے میری معاونت کی۔ اُن دنوں افغانستان پر روسی یلغار کے پس منظر میں کئی دستاویزی فلمیں بھی بن چکی تھیں انھیں بھی بغور دیکھا، پھر اپنے کردار کو سمجھا اور یوں اللہ نے لاج رکھی۔

ڈرامہ ’پناہ‘ میں میری اداکاری نے نہ صرف ٹی وی ڈرامے کی تاریخ میں ایک لینڈ مارک حیثیت حاصل کی بلکہ یہ ڈرامہ میری فنی کریئر کی ایک سنہری یاد بھی بن گیا۔

’پناہ‘ کی بے انتہا مقبولیت کے بعد صدرِ پاکستان جنرل ضیاءالحق کی خصوصی فرمائش پر’پناہ ٹو‘ بھی تیار کیا گیا جو ’پناہ ون‘ کی طرح مقبول ہوا۔

یہ وہی دن تھے جب طاہرہ نقوی بستر علالت پر زندگی اور مو ت کی جنگ لڑ رہی تھیں۔ انھوں نے سال کے شروع میں ایک ڈرامہ کیا تھا جس کے بعد سے وہ بیمار پڑ گئی تھیں۔

ان دنوں سیکریٹری اطلاعات میرے پاس آئے اور کہا ’عظمٰی یہ تم بھی جانتی ہو اور ہم بھی کہ اِس سال پی ٹی وی کی بہترین اداکارہ کا ایوارڈ تمہارے علاوہ کسی اور کا ہو ہی نہیں سکتا لیکن طاہرہ نقوی کی حالت دیکھ کر ہم اسے یہ ایوارڈ دے رہے ہیں۔‘ میں نے ڈبڈبائی آنکھوں اور کھلے دل کے ساتھ یہ فیصلہ قبول کر لیا۔

آج کے دور میں جب ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نہ تو کوئی گنجائش ہے، نہ محبت اور نہ ہی ہمدردی۔ کوئی بھی ایکٹریس اس فیصلے کو قبول نہ کرتی لیکن میں نے بخوشی اس فیصلے کو قبول کیا۔

مگر ایک اور افسوسناک بات یہ ہوئی کہ شہزاد خلیل کو بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ بھی نہیں دیا گیا۔

پناہ کے حوالے سے میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان ٹی وی کے کسی مرد اور خاتون آرٹسٹ نے کبھی کسی ڈرامے کی ریکارڈنگ کے دوران اتنی جسمانی تکلیفیں برداشت نہیں کی ہوں گی جتنی کہ مجھے اس کھیل کے دوران اٹھانا پڑیں۔

کوئٹہ کی یخ بستہ خشک سردی میں ایک قمیض کے ساتھ ننگے پاؤں پہاڑوں پر یوں چڑھنا کہ پاؤ ں میں کانٹے اور کنکر چبھ رہے ہیں اور ان سے خون رس رہا ہے۔ کوئٹہ کی پہاڑیوں پر پھسل پھسل کر نیچے آنا،گرنا، اٹھنا اور پھر بھاگ کر پہاڑ پر چڑھنا وغیرہ۔

مجھے ابھی تک ’پناہ‘ ڈرامے کا وہ سین یاد ہے جس میں دکھایا گیا تھا کہ شاہ بی بی کے گھر میں بچے بھوکے پیاسے ہیں۔ روسی فوج باہر بیٹھی ہے۔ شاہ بی بی روسی فوجیوں سے آنکھ بچا کر بچوں کے لیے خوراک کی تلاش میں پہاڑی سے نیچے اترتی ہے۔

وہ خود بھی دو دن کی بھوکی پیاسی ہے، اُس کے ہونٹ خشک ہیں۔اُسے ایک جگہ پانی کا گھڑا نظر آتا ہے، وہ اسے دیکھتی ہے مگر گھڑا خالی ہوتا ہے۔

شاید پڑھنے والوں کو اس بات کا یقین نہ آئے کہ اُس سین میں جان ڈالنے کے لیے ڈیڑھ دن پہلے تک میں نے پانی کا ایک گھونٹ تک نہ پیا، اسی لیے اُس سین میں میرے ہونٹوں پر کھیلتی پیاس کی شدت سکرین پر نمایاں نظر آتی ہے۔

ایک اور واقعہ اسی سلسلے میں آپ کو بتاؤں کہ جب میں اور طلعت حسین روسیوں سے بچتے بچاتے ادھر سے اُدھر پناہ لے رہے ہوتے ہیں تو ایک جگہ روسیوں نے باردوی سرنگیں بچھائی ہوتی ہیں جن پر سے ہمیں گزرنا ہوتا ہے۔ ہم وہاں سے گزرتے جا رہے ہیں اور بارودی سرنگیں پھٹتی جا رہی ہیں۔

شہزاد خلیل نے اس کام کے لیے ماہرین بلوائے جنھوں نے خلیل کو تسلی دی کہ یہ سب کچھ خطرناک نہیں ہوگا لیکن سکرین پر منظر ہولناک لگے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جگہیں مارک کر دیں گے جہاں آرٹسٹوں کو پاؤں رکھنا ہوں گے اورجیسے ہی وہ نشان پر پاؤں رکھیں گے تو اُن کے پاؤں سے ایک فٹ دور نصب شدہ بارود پھٹے گا، جو اُن پر بچھی دھول مٹی بھی اڑا دے گا، دھواں بھی ہوگا، دھماکہ بھی ہوگا، مگر آرٹسٹ بالکل محفوظ رہیں گے۔

میں شہزاد خلیل کے کہنے پر اس سین کے لیے فوراً راضی ہو گئی، کیونکہ میرے حساب سے جس پر آپ بھروسہ کرتے ہیں تو پھر یہ بھروسہ سو فیصد ہونا چاہیے لیکن طلعت حسین نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ہرگز یہ رسک نہیں لے سکتے۔ باوجود اصرار کے بھی وہ راضی نہ ہوئے۔

مجھے یاد نہیں کہ خلیل نے سکرپٹ میں کیا تبدیلیاں کیں بہرحال میں اکیلی اُن بارودی سرنگوں سے گزری اورجب سین ختم ہوا تو خلیل میری طرف بھاگتے ہوئے آئے اور زور سے مجھے گلے لگا لیا۔ میری آنکھوں میں بھی تشکر کے آنسو تھے۔

یہ سب ہم لوگوں کی ٹریننگ اور کام سے لگن کا نتیجہ تھا حالانکہ تب سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں اوراگر میں پی ٹی وی کی فیس بتا دوں توسب کہیں گے کہ ہم ڈراموں میں کیوں کام کیا کرتے تھے؟ صرف لگن، جوش، جذبہ اور جنون تھا اورسب سے بڑی بات مستقل مزاجی اور سیکھنے کی خواہش تھی۔

ایک طرف فن سے وابستہ افراد میں تخلیق کوٹ کوٹ کر بھری تھی تو دوسری طرف سکھانے والے بھی باصلا حیت تھے اور یہی چیز ہمارے ڈرامے کو فن کی بلندیوں پر لے گئی کہ ہم آج بھی اپنے ان ڈراموں پر ناز کرتے نہیں تھکتے۔

کہاں گئے وہ دن، وہ لوگ اور وہ میرے پیارے؟

(عظمٰی گیلانی کی ان یادداشتوں کو غلام عباس سیال نے قلم بند کیا ہے۔ یہ اقتباسات خصوصی اجازت سے شائع کیے جا رہے ہیں۔)

اسی بارے میں