میاں نےگوری سے خفیہ شادی کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عارفہ صدیقی بہت ہی باصلاحیت اور پیاری اداکارہ تھی، پتہ نہیں کہاں چھپ کر بیٹھ گئی ہے؟

’بانو آپا (بانو قدسیہ) کا ایک کھیل ’موت سے پہلے‘ کیا تھا اور میں ہمیشہ اسی ڈرامے کی مثال دیتی رہتی ہوں۔

اس کھیل کے اندر ایک چھوٹی سی کہانی ہوتی ہے۔

یہ ایک شادی شدہ عورت کی کہانی ہے جو اپنی بیٹی کے ہمراہ اکیلی رہتی ہے جبکہ اس کا میاں روزگار کے سلسلے میں کینیڈا میں مقیم ہے۔

وہاں اُس نے کسی کو بتائے بغیر کسی گوری عورت سے شادی کر رکھی ہے، مگر اپنی پہلی بیوی کا بھی خیال رکھتا ہے اور اسے برابر خرچہ بھیجتا رہتا ہے۔

اس عورت کا ایک کزن ہوتا ہے، جو اُسے شادی سے پہلے پسند کرتا ہے مگر شادی کے بعد وہ اس عورت کا احترام کرتا ہے۔

اس کھیل میں میری بیٹی کا کردار عارفہ صدیقی اور کزن کا کردار عابد علی نے کیا تھا۔ اُس عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا میاں جب کینیڈا سے واپس آئے تو اس کا اپنا گھر ہو، اس کا شوہر بھی یہی چاہتا ہے۔

وہ عورت اسی لیے اپنے میاں سے چپکے چپکے گھر بنانا شروع کرتی ہے۔ اس کی جان جوکھوں میں ہے اور وہ تھک جاتی ہے۔

نئے گھر کی تعمیر کے دوران پیسوں کی کمی پڑ جاتی ہے۔ اسے سیمنٹ والوں کو کچھ پیسے دینے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے کزن سے کچھ رقم ادھار لیتی ہے۔

اس عرصہ میں اُس عورت کو احساس ہوتا ہے کہ وہ بیمار ہے، چنانچہ وہ اپنا چیک اپ کروانے کی غرض سے ڈاکٹر کے پا س جاتی ہے۔ ڈاکٹر اُسے بتاتا ہے کہ اُسے کینسرہے۔

وہ یہ خبر سن کر پریشان ہو جاتی ہے مگر اپنی اس پریشانی میں اپنی بیٹی کو شریک نہیں کرنا چاہتی مبادا وہ دُکھی نہ ہو جائے کہ اُس کی ماں کو کینسر ہے۔

ایک دن وہ چپکے سے سرجری کروانے نکل جاتی ہے۔ اُس کے پیچھے اُس کا شوہر کینیڈا میں فوت ہو جاتا ہے اور اُس کے شوہر کی لاش کینیڈا سے اُس کی گوری بیوی اسلام آباد بھجواتی ہے۔

اس موقعے پر اُس عورت کا کزن (عابد علی) اُس کے شوہر کی لاش لینے اسلام آباد جاتا ہے۔ پیچھے سے بیٹی کو یہ غلط فہمی لاحق ہو جاتی ہے کہ میری ماں میرے باپ کو دھوکہ دے رہی ہے اور وہ اپنے کزن کے ساتھ مل کر کہیں سیر سپاٹے کے لیے نکل گئی ہے کیونکہ ماں بھی غائب ہے اور اُس کا کزن بھی۔

جب وہ عورت آپریشن کروا کر واپس گھر لوٹتی ہے تو بیٹی اُس پر خوب لعن طعن کرتی ہے۔

اس ڈرامے کا وہ سین واقعی دیکھنے لائق ہے کہ جب عورت آپریشن کروا کر گھر میں قدم رکھتی ہے اور اُس کی بیٹی اوپر سیڑھیوں پر کھڑی ہوئی ہے۔

ماں نیچے چپ چاپ کھڑی ہے مگر وہ اپنی بیٹی کو بتا بھی نہیں رہی کہ وہ آپریشن کروا کر آئی ہے اوراُس کی بیٹی اوپر سے کھڑے ہو کر اُس پر خوب لعنتیں ملامتیں بھیج رہی ہے۔ میں چیلنج سے کہتی ہوں کہ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی بڑی سے بڑی اداکارائیں لے آئیے، اس سین میں عارفہ صدیقی نے جو رنگ بھرا تھا اور جس خوبصورتی سے اِسے ادا کیا تھا وہ اس سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا تھا۔

عارفہ صدیقی بہت ہی باصلاحیت اور پیاری اداکارہ تھی، پتہ نہیں کہاں چھپ کر بیٹھ گئی ہے۔

(عظمٰی گیلانی کی ان یادداشتوں کو غلام عباس سیال نے قلم بند کیا ہے۔ یہ اقتباسات خصوصی اجازت سے شائع کیے جا رہے ہیں۔)

اسی بارے میں