’ادب کو بھی حملوں اور خطروں کا سامنا‘

Image caption چھٹے کراچی ادبی میلے کے پہلے روز افتتاحی تقریب کی مرکزی مقررہ نین تارہ سہگل اور زہرہ نگاہ کے ساتھ میلے کی بانی امینہ سہگل، شریک بانی آصف فرخی، ممتاز صحافی غازئ صلاح الدین اور مختلف ملکوں کے سفارتکار

بھارت کی ممتاز مصنفہ، دانشور اور آنجہانی بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی بھانجی نین تارا سہگل نے کہا ہے اگرچہ ہم یہاں ادبی میلے میں شرکت اور ادبی جشن منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں لیکن ہمیں یہ بات جاننی چاہیے کہ ادب کو حملوں اور خطروں سامنا ہے۔

وہ جمعے کو بیچ لگژری ہوٹال میں شروع ہونے والے تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کے افتتاحی اجلاس میں مرکزی خطبہ دے رہی تھیں۔ یہ فیسٹیول اتوار تک جاری رہے گا۔ اس میں نو سے زائد ملکوں کے دو سو سے زائد ادیب شریک ہو رہے ہیں۔

نین تارا سہگل کا کہنا تھا کہ ’سیاست ادب کا حصہ بن چکی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جین آسٹن کی تحریروں کو سیاست نے متاثر نہ کیا ہو لیکن اب سیاست نجی زندگیوں کو اس حد تک متاثر کر رہی ہے کہ اس کا اثر بہت سے ادیبوں کی تحریوں پر بھی پڑنے لگا ہے۔‘

انھوں مزید کہا کہ تحریروں سرحدیں عبور کرنے لگی ہیں اور یہ کام بھی ادیب ہی کر رہے ہیں۔ اس سے تحریروں کی ایک نئی قسم جنم لینے لگی ہے جس کا لکھنے والے کی زمین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

دوسری مرکزی مقررہ اور مقبول اردو شاعرہ زہرہ نگاہ نے اپنے مخصوص انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں بتایا جاتا تھا کہ کتابوں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا اور انھیں ذوق شوق سے پڑھا جاتا ہے لیکن یہ بہت برسوں پہلے کی بات ہے۔

نین تارہ سہگل اور زہرہ نگاہ سے پہلے اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کی منیجنگ ڈائریکٹر اور کراچی ادبی میلے کی بانی امینہ سید نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی لٹریچر فیسٹیول ایک جمہوری سرگرمی اور جمہوریت کا حصہ ہے کیوں کہ یہ لوگوں میں مکالمے کو تحریک دیتا ہے اور خیالات و تصورات کے باہمی تبادلے سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد اور ہم آہنگی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فیسٹیول کے لفظ کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ یہ کوئی سیمینار، کانفرنس یا کنوینشن نہیں ہے۔ بلکہ میلہ ہے۔

امینہ سید نے کہا ’ہر چند کہ یہ کہا جاتا ہے کہ پڑھنے کا شوق اور عادت ختم ہوتی جا رہی ہے گذشتہ سال کراچی کے اسی میلے میں 70 ہزار لوگ شریک ہوئے اور ہزارہا کتابیں شیرینی کی طرح فروخت ہوئیں۔‘

اردو کے ایک ممتاز فکشن نگار، نقاد اور مترجم کراچی اور اسلام آباد کے ادبی میلوں کے شریک بانی آصف فرخی نے کہا کہ مسلسل چھ سال سے ہونے والے ان ادبی میلوں نے میلوں میں شریک ہونے والے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوال پیدا کیے ہیں ہمیں ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے چاہیں اور ادب کو بچانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان چھ سالوں کے دوران ان گنت کتابوں پر بحث مباحثے ہوئے ہیں۔ ان گنت سوال اٹھائے گئے ہیں اور دنیا کے کتنے ہی ادیب ان میلوں میں شرکت کے لیے آئے، لوگوں کو ان سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کا موقع ملا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

Image caption بھارت کی ممتاز مصنفہ اور دانشور نین تارا سہگل کراچی میں شروع ہونے والے چھٹے کراچی ادبی میلے کی مرکزی مقررہ تھیں

ممتاز صحافی اور ’میں کراچی کنسورشیم‘ کے رکن غازی صلاح الدین نے کہا کہ اس شہر میں امن قائم کرنے کے لیے سول سوسائٹی کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی ایک اپنی طرح کا شہر ہے، یہ ایک ایسا شہر ہے جس میں سے محبت اٹھ گئی ہے۔ ثقافتی محاذ پر سول سوسائٹی اب میدانِ جنگ میں ہے، اُسے یہ لڑائی لڑنی، عوامی مقامات پر اپنا دعوٰی ثابت کرنا اور فن و ثقافت کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان میں متعین اطالوی سفارتکار ایڈریانو چیوڈی سیان فرانی کا کہنا تھا کہ کے کے ایل ایف جیسی تقریبات قوموں کے درمیان ثقافتی فاصلوں کو کم کرنے والے پلوں کا کام کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کے ایل ایف ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو لوگوں میں مثبت مباحثوں کو تحریک دیتا ہے۔

افتتاحی اجلاس سے برطانوی، فرانسیسی اور امریکی سفارتکاروں نے بھی خطاب کیا۔

تقریروں کے بعد انعامات کے لیے منتخب ہونے والی کتابوں کا اعلان کیا گیا۔

بہترین فکشن کے لیے ’کے ایل ایف و سفارتخانہ فرانس‘ کا انعام شاندانہ منہاس کو اور بہترین نان فکشن کے لیے ’کے ایل ایف و کوکا کولا‘ انعام نعیم قریشی کو ان کی کتاب ’اوٹومن ترکی، اتاترک اینڈ مسلم ساؤتھ ایشیا‘ پر دیا گیا۔

افتتاحی تقریب کے آخر میں معروف کتھک رقاصہ نگہت چوہدری نے کلاسیکل رقص پیش کیا جسے حاضرین نے بے پناہ پسند کیا۔

چھٹے کراچی ادبی میلے میں اس سال لگ بھگ 30 کتابوں کا اجرا ہو گا اور مختلف موضوعات پر 85 اجلاسوں میں نو ملکوں سے آنے والے 37 ادیبوں اور دانشوروں سمیت دو سو سے زائد ادیب، دانشور اور شاعر اظہار خیال کریں گے۔

میلے میں پوسٹروں کی نمائش جاری ہے، کتابوں اور کھانے پینے کی اشیا کے سٹال لگے ہیں۔ اس کے علاوہ مشاعرہ، داستان گوئی، فلموں اور پرفارمنگ آرٹ کے سیشن بھی ہوں گے۔

اسی بارے میں