پیرس: ایکشن سینز کی عکس بندی پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption فلموں کی عکس بندی کے لیے پیرس مشہور مقام ہے اور خاص طور پر آئفل ٹاور اور لوویر پیرامڈ

فرانس کے حکام نے داراحکومت پیرس میں چارلی ایبڈو اور یہودیوں کی مارکیٹ پر حملوں کے بعد ایکشن فلموں کی عکس بندی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

پیرس کے پولیس کمانڈر سیلوی برنو کا کہنا ہے ’ان ایکشن سینز کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ان فلموں میں وہ اداکار جو یونیفارم میں عکس بندی کر رہے ہوتے ہیں ان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اس کے علاوہ اس حساس وقت میں اداکار عوام کو بھی کنفیوژ کر سکتے ہیں۔‘

پولیس کمانڈر کا کہنا تھا کہ فلم کی عکس بندی کے دوران نقلی ہتھیار اور سپیشل ایفیکٹس پر بھی پابندی ہو گی۔

یاد رہے کہ چارلی ایبڈو اور یہودی مارکیٹ پر حملوں میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد مسلح پولیس اور فوجی حساس تنصیبات، سائناگوگز، میڈیا دفاتر اور شاپنگ سینٹرز پر پہرہ دے رہے ہیں۔

سلوی برنو کا کہنا ہے کہ وہ ابھی یہ نہیں بتا سکتیں کہ فلموں کی عکس بندی پر پابندی کتنے عرصے تک رہے گی۔ ’میں ششدر رہ گئی جب میں نے چارلی ایبڈو پر حملے کے عینی شاہدین کو ٹی وی چینلز پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ایکشن فلم کا سین ہو۔‘

واضح رہے کہ فلموں کی عکس بندی کے لیے پیرس مشہور مقام ہے اور خاص طور پر آئفل ٹاور اور لوویر پیرامڈ۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیرس میں پچھلے سال 930 فلموں کی عکس بندی ہوئی تھی جن میں 20 انٹرنیشنل پرڈکشنز تھیں۔

تازہ ترین فلم جس کی علس بندی پیرس میں کی گئی ’ایج آف ٹومارو‘ ہے۔

سینما مشن کی ایگنس نیگوت کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے باعث بڑی امریکن پروڈکشنز پر اثر ہو گا۔

اسی بارے میں