روس: لیوائیہ تھن سے غیر شائستہ الفاظ حذف

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روسی سینما بینوں کے لیے فلم سے غیر شائستہ الفاظ کو نکال دیا گیا ہے۔

آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کی جانے والی روسی فلم’لیوائیہ تھن‘ کو جلد ہی روس کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا لیکن غیر شائستہ الفاظ کو اس میں سے کاٹ دیا جائے گا۔

اس متنازع فلم کی کہانی روس کے شمال میں رہنے والے ایک عام آدمی کی اپنی جائیداد کو ایک بدعنوان میئر سے بچانے کے لیے کی جانے والی جہدوجہد کے بارے میں ہے۔

’اے کمپنی روس‘ نامی فلم کے تقسیم کار کا کہنا ہے کہ فلم میں کوئی سین کاٹا نہیں گیا لیکن روسی سینما بینوں کے لیے فلم سے غیر شائستہ الفاظ کو نکال دیا گیا ہے۔

واضع رہے کہ روسی قانون کے تحت فلموں، ٹی وی، تھیٹر اور دیگر ذرائع ابلاغ میں غیر مہذب زبان استعمال کرنے کی ممانعت ہے۔

فلم میں غیر شائستہ زبان کا کثرت سے استعمال کیا گیا ہے اور اے کمپنی روس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی ناظرین ہونٹ پڑھ کر اندازہ لگا لیں گے کہ کیا کہا جا رہا ہے۔

لیوائیہ تھن کی لندن میں پہلے ہی سے نمائش جاری ہے اور گزشتہ مئی کان فلم فیسٹیول میں اس کو بہترین اسکرین پلے کا ایوارڈبھی مل چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کچھ لوگ فلم کو صدر ولادیمیر پوٹن کی حکومت کی مذمت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یہ بہترین غیر ملکی فلم کے زمرے میں گولڈن گلوب اور روس میں گولڈن ایگل ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکی ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ’ریا نواسٹی‘ کے مطابق ملک کے سینما گھروں میں فلم کی مانگ توقعات سے کئی ذیادہ ثابت ہوئی ہے۔

لیوائیہ تھن کو 650 سینما گھروں میں دکھایا جائے گا جو متوقع تعداد سے دوگنا ہے۔

فلم کے پروڈیوسر ’ الیگزینڈر روڈنیانسکی‘ کا کہنا ہے کہ ایک ماہ قبل انٹرنیٹ پر فلم کی ایک چوری شدہ کاپی کے نمودار ہونے کے بعد سے لیوائیہ تھن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ گرماگرم بحث کا موضوع بن چکی ہے۔

کچھ لوگ فلم کو صدر ولادیمیر پوٹن کی حکومت کی مذمت کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ فلم میں بدعنوان میئر کے دفتر میں صدر پوٹن کی ایک بڑی تصویر لٹکی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔

تاہم صدر پوٹن کے ترجمان ’دمتری پیسکوو‘ کا کہنا ہے اس فلم کی وجہ سے شروع ہونے والی صحت مندانہ بحث ایک خوش آئند عمل ہے۔

اسی بارے میں