’عمران خان دھرنوں کے دوران ڈیٹ پر کب جاتے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منتظمیں کا کہنا تھا کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق چھٹے ادبی میلے میں سوا لاکھ افراد شریک ہوئے جبکہ پاکستان کے علاوہ بھارت، امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، بنگلہ دیش اور روس کے ادیب اور دانشور شریک ہوئے

چھٹا کراچی ادبی میلہ کئی نئے ریکارڈ قائم کر کے ختم ہوگیا۔

تین دن کے دوران 86 اجلاسوں میں 30 کتب کی رونمائیاں ہوئیں، اور اس میں پاکستان اور بیرونِ ملک کے 200 ادیبوں، شاعروں، اداکاروں، فنکاروں اور ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔

منتظمین کا کہنا تھا کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق چھٹے ادبی میلے میں سوا لاکھ افراد شریک ہوئے، جبکہ پاکستان کے علاوہ بھارت، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، بنگلہ دیش اور روس کے ادیب اور دانشور شریک ہوئے۔

میلے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے اپیل کی کہ پاکستان میں لائبریری کلچر کو فروغ دیا جانا چاہیے اور ایوارڈوں کے ذریعے لکھنے والوں کی خدمات کا اعتراف اور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

اختتامی تقریب میں ضیا محی الدین نے اپنے مخصوص انداز میں مشتاق احمد یوسفی کی کہانیوں سے اقتباسات پڑھ کر حاضرین سے داد حاصل کی۔

ضیا محی الدین کے مطابق انھوں نے مشتاق یوسفی کی تحریروں کا انتخاب انشا جی کی وجہ سے کیا ہے، جن کا کہنا تھا کہ ’ہم عہد یوسفی میں جی رہے ہیں‘ اوراس ادبی تقریب کا اختتام ان کے ذکر کے بغیر ناممکن ہے۔

میلے کے شریک بانی افسانہ نگار، نقاد اور مترجم آصف فرخی نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نین تارا سہگل اور زہرہ نگاہ کی کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ایسے ادیب ہمارے درمیان موجود ہیں۔

معروف بھارتی مصنفہ نین تارا سہگل کی کتاب سے ’سیاسی تخیل‘ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی اس موقعے پر مصنفہ نین تارا سہگل نے ترقی پذیر ممالک سے لکھنے والے کردار کی اہمیت پرگفتگو کی اور کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے ادیبوں کو اپنے ملک کے لیے لکھنا چاہیے۔

سندھ ساگر اور قیام پاکستان کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں حمیدہ کھوڑو کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان میں سندھ کا بنیادی اور کلیدی کردار ہے، جبکہ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانیوں کو اپنا تشخص تلاش کرنا چاہیے۔

’پی ٹی وی اور آج کے ڈرامے‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین، ثمینہ احمد، امینہ شیخ، سمیرہ افضل، نیلوفر عباسی اور ساجد حسن شامل تھے جبکہ میزبانی کے فرائض راجو جمیل نے انجام دیے۔

حسینہ معین کا کہنا تھا کہ آج کے ڈراموں میں کمرشل ازم زیادہ اور پروفیشنل ازم کم ہوتا ہے جبکہ ماضی میں ایسا نہیں تھا۔

سمیرہ افضل کو ان سے اختلاف تھا اور ان کا کہنا تھا کہ آج کے تقاضے بدل گئے ہیں اور ڈرامہ انھی تقاضوں کو پورا کر رہا ہے۔

معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ کے سفرنامے ’لاہور سے یارقند تک‘ پر ہونے والے اجلاس میں مستنصر حسین تارڑ نے اصغر ندیم سید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موت سے قرب مجھے زیادہ لکھنے پر اکسا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ادبی میلے کی ایک نمایاں کشش اداکارہ میرا کی شرکت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں خوشی ہے کہ انھیں بھی ایسے میلے میں شرکت کے قابل سمجھا گیا۔

کراچی ادبی میلے میں تعلیم کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں ممتاز ماہر تعلیم زبیدہ جلال، عارفہ سید زہرہ، عشرت حسین، سبرینہ داؤد اور امینہ سید نے شرکت کی اور پاکستان میں تعلیم کی صورت حال پر توجہ دلائی۔

کراچی ادبی میلے میں معروف اداکارہ بشریٰ انصاری کی نمرہ بچہ سے گفتگو پر مبنی اجلاس میں لوگوں کی دلچسپی قابل دید تھی، بشریٰ انصاری نے اپنے مخصوص انداز گفتگو سے حاضرین کوبے ساختہ قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا۔

بشریٰ انصاری نے مختلف سیاسی لیڈروں خاص طور سے متحدہ قومی موومنٹ کے الطاف حسین اور تحریکِ انصاف کے عمران خان کے انٹرویوز کا ذکر کیا اور کچھ اس انداز میں میں کیا کہ حاضرین مسکرانے اور قہقہے لگانے پر مجبور ہو گئے۔

بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ اگر انھیں عمران خان سے ایک اور ملاقات کا موقع ملا تو وہ یہ ضرور پوچھیں گی کہ وہ دھرنے کے دوران ڈیٹ پر کس وقت جاتے تھے؟

کراچی کے اس ادبی میلے میں صرف کراچی ہی کے نہیں، اندرونِ سندھ، پنجاب اور بلوچستان سے بھی لوگوں نے نمایاں تعداد میں شرکت کی۔

ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے میلے صوبائی حکومتوں کو کرنے چاہییں اور سندھی، پنجابی، پشتو اور بلوچی ادبی میلے بھی ہونے چاہییں۔

اس بار میلے میں شریک ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔ تاہم ہر سوچ کی سیاسی و سماجی شخصیات، انسانی حقوق کی تنظیموں اور این جی اوز کے کارکنوں کی بھی تعداد غیر معمولی تھی۔

کراچی ادبی میلے میں احتجاج بھی دیکھنے کوملا۔ نایاب پرندوں کے شکار پر جانوروں اور پرندوں کے تحفظ کی تنظیم نے خاموش احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ان کہنا تھا کہ تلور پرندہ نایاب ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس کو تحفظ فراہم کریں۔

میلے کا اختتام نگہت چودھری کے رقص اور علی سیٹھی کی گلوکاری پر ہوا۔

اسی بارے میں