آسکر کے لیے نامزد فلموں کے لاکھوں غیرقانونی ڈاؤن لوڈ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی سنائپر کرس کائل کے بارے میں بنائی جانے والی فلم کو آسکر نامزدگی کے بعد ایک ماہ میں 13 لاکھ 90 ہزار مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔

اگر فلم کی انٹرنیٹ سے غیر قانونی ڈاؤن لوڈ کو آسکر ایوارڈز کی بنیاد بنایا جائے تو اس سال کی بہترین فلم کا ایوارڈ ’امریکن سنائپر‘ کو ملے گا۔

یہ معلومات ہالینڈ میں قائم سافٹ ویئر کمپنی ارڈیتو نے اپنے ایک مطالعہ کی بنیاد پر فراہم کی ہیں۔

یہ کمپنی ٹی وی سیکٹر کی کمپنیوں کے لیے غیر قانونی ڈاؤن لوڈ پر نظر رکھتی ہے اور محفوظ مواد فراہم کرتی ہے۔

2015 کے آسکر ایوارڈ کی تقریب 22 فروری کو لاس اینجلس میں منعقد ہونے والی ہے۔

ارڈیٹو نے 15 جنوری سے 15 فروری کے دوران امریکہ سمیت دنیا بھر کے 200 ممالک میں بٹ ٹورنٹ کی مدد سے فائل شیئرنگ کے ذریعے ہونے والے ڈاؤن لوڈز پر نظر رکھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 2015 کے آسکر ایوارڈ کی تقریب 22 فروری کو لاس اینجلس میں منعقد ہونے والی ہے۔

کمپنی نے آسکر فلموں کی پائریسی سے منسلک مطالعہ کے لیےجن باتوں کو بنیاد بنایا ان میں سے ایک فلموں کی نامزدگی کے بعد ایک ماہ تک ان کے غیر قانونی ڈاؤن لوڈ کی تعداد بھی تھی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس مطالعے سے پتہ چلا کہ نامزدگی کے بعد ایک ماہ کے دوران امریکی سنائپر کرس کائل کے بارے میں بنائی جانے والی اس فلم کو 13 لاکھ 90 ہزار مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔

اس مطالعے سے پتہ چلا کہ بہترین فلموں کے زمرے میں آسکر کے لیے نامزد سیلما، وائلڈ، سٹل ایلس اور برڈ مین نامی فلموں میں سے ہر فلم کو نامزدگی کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔

مطالعہ کے دوران ایک اور دلچسپ بات سامنے آئی کہ آسکر میں نامزدگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی فلم ’مسٹر ٹرنر‘ کو 15 جنوری سے اب تک 9،086 بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے جبکہ ’انہیرنٹ وائس‘ کو 53،008 بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں