’ضروری نہیں انڈیا یا ہالی وڈ سے مقابلہ کریں‘

Image caption ’اچھی کاسٹ، اچھی ٹیم، اچھے سکرپٹ کے ساتھ اب کسی بھی موضوع پر فلم بنائی جا سکتی ہے‘

پاکستان کی فلمی صنعت میں نجی میڈیا اداروں کے تحت بننے والی فلموں میں اضافہ ہوا ہے اور اسی قسم کی ایک فلم ’جلیبی‘ ہے جو مختلف کہانیوں پر مشتمل فلم ہے۔

فلم کے دو مرکزی کرداروں علی سفینہ اور ژالے سرحدی بی بی سی اردو کے کراچی آفس آئے اور فلم کی کہانی اور کرداروں کے بارے میں بات کی۔

یہ دونوں اداکار ٹی وی ڈراموں سے پہچانے جاتے ہیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ڈراموں سے فلم میں کام کرنا کتنا مشکل یا آسان ہے تو ژالے سرحدی نے کہا کہ یہ ان کے لیے کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں تھی۔

فلم جلیبی میں ایک بار ڈانسر کا کردار ادا کرنے والی ژالے نے کہا ’فلم کا ایک چسکا ہوتا ہے۔ پھر کچھ اور کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ فلم کی دور ممالک تک پہنچ ہوتی ہے اور وہ دو گھنٹے میں ختم ہو جاتی ہے اور اسے بار بار دیکھا جا سکتا ہے۔‘

Image caption ژالے سرحدی کا پسندیدہ ڈائیلاگ ہے: ’ڈاکٹر نہیں بنی تو کیا ہوا ۔۔۔ بیولوجی تو پوری آتی ہے مجھے‘

تاہم انھوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ٹی وی پر کام کرنے کو خیر باد کہنے کی نیت رکھتی ہیں۔ ’ٹیلی وژن میں کبھی بھی نہیں چھوڑ سکتی۔ ہمارے ڈرامے پوری دنیا میں مشہور ہیں اس لیے میں اسے کبھی کمتر نہیں سمجھ سکتی۔‘

علی سفینہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے ڈرامہ سیریل ’ٹاکے کی آئے گی بارات‘ سے بہت شہرت ملی۔

انھوں نے کہا کہ فلم میں بھی ان کا کردار ڈرامے کے ’ٹاکے‘ کے کردار سے مماثلت رکھتا ہے۔ علی سفینہ نے بتایا کہ وہ فلم میں ایک کار چور ہیں۔

فلم جلیبی میں کار چور کا کردار ادا کرنے والے علی نے کہا ’فلم کا تجربہ ایک رولر کوسٹر کی طرح تھا ۔۔۔ جس میں کئی موڑ آئے جن سے ہم بہت تیزی سے نکلے اور اب فلم کے منتظر ہیں۔‘

پاکستان میں فلم انڈسٹری کے مستقبل سے متعلق ژالے سرحدی نے کہا کہ پاکستان میں فلم کا مستقبل بہت شاندار ہے۔

’فلم بنانے والوں کے لیے اور ان کے لیے جنھیں سینما کا بے حد شوق ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ نئے آنے والوں کے لیے یہ اچھا قدم ہے۔ اچھی کاسٹ، اچھی ٹیم، اچھے سکرپٹ کے ساتھ اب کسی بھی موضوع پر فلم بنائی جا سکتی ہے۔‘

ژالے نے کہا کہ ’ضروری نہیں ہم انڈیا سے یا ہالی وڈ سے یا کسی سے مقابلہ کریں۔ ہم اپنی حدود میں رہ کر کام کر سکتے ہیں اور نئے ٹیلینٹ کو اجاگر کریں۔‘

اسی بارے میں