پولینڈ میں پولانسکی کے مقدمے کی سماعت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولانسکی کی حالیہ دنوں پولینڈ میں رہائش کی خبروں آنے کے بعد امریکہ نے ان کی حوالگی کا مطالبہ تیز کر دیا ہے

آسکر ایوارڈ یافتہ فلمساز رومن پولانسکی ایک 13 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے ایک مقدمے میں اپنی امریکہ حوالگی کے سلسلے میں پولینڈ کی ایک عدالت میں پیش ہوئے۔

پولانسکی 36 سالہ پرانے جنسی زیادتی کے اس مقدمے میں امریکہ کو مطلوب ہیں۔

پولانسکی سنہ 1978 میں اس مقدمے میں سزا سنائے جانے سے پہلے امریکہ سے فرار ہو گئے تھے اور اب وہ فرانس میں رہتے ہیں۔

پولانسکی کی حالیہ دنوں پولینڈ میں رہائش کی خبریں آنے کے بعد امریکہ نے ان کی حوالگی کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔

اس مقدے کا فیصلہ اپریل سے پہلے آنے کی امید نہیں ہے۔

پولانسکی کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ پولینڈ میں رواں موسم گرما میں اپنی فلم کی شوٹنگ شروع کرنے سے پہلے اس مقدمے سے اپنا نام کلیئرکرنا چاہتے ہیں۔

اس مقدمے کی سماعت کراکو کی ایک عدالت کے بند کمرے میں ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رومن پولنسکی نے ’چائنا ٹاؤن‘، ’روسمیری بےبی‘، ’دی پیانسٹ‘اور ’دی ریپلشن‘ جیسی کلاسک فلمیں بنائی ہیں

پولینڈ کی عدالت کے جج نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ حوالگی کے مطالبے سے متعلق اس مقدمے میں بدھ کو فیصلہ سنائے جانے کی امید کم ہی ہے۔

اس مقدمے کی آئندہ سماعت اپریل میں ہونی ہے۔ اگر عدالت اس درخواست کو منظوری کر لیتی تو معاملہ پولینڈ کے وزیرِ انصاف کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

81 سالہ پولانسکی کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ انھیں امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

وارسا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم ایسٹن کا کہنا ہے کہ پولینڈ میں متعدد افراد کا خیال ہے کہ پولینڈ کی عدالت امریکہ کی اس درخواست کو منظور کرنے میں ہچکچائے گی۔

دسمبر سنہ 2009 میں سوئٹزرلینڈ میں پولانسکی کو ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کیے جانے کے نو مہینے بعد سنہ 2010 میں سوئس حکام نے امریکہ کی جانب سے پولانسکی کی حوالگی سے متعلق وارنٹ کو خارج کردیا تھا۔

پولانسکی کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات سے متعلق ٹائم لائن کچھ اس طرح ہے۔

سنہ 1977 میں پولانسکی پر امریکہ میں ایک 13 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا گیا۔ اس کے علاوہ ان پر نابالغوں کو نشے کی دوائیاں دینے اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

سنہ 1978 میں پولانسکی اس ڈر سے کہ امریکہ میں انھیں طویل قید کی سزا سنائی جاسکتی وہ پہلے برطانیہ آئے اور اس کے بعد فرانس چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولانسکی کے پاس فرانس کی شہریت بھی ہے اور امریکہ حوالگی سے متعلق محدود معاہدے کے تحت انھیں تحفظ بھی حاصل ہے

پولانسکی کے پاس فرانس کی شہریت بھی ہے اور امریکہ حوالگی سے متعلق محدود معاہدے کے تحت انھیں تحفظ بھی حاصل ہے۔

سنہ 2009 میں امریکہ نے پولانسکی کے خلاف مقدمات خارج کرنے کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا اور اسی برس امریکہ حوالگی سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے سوئس حکام نے پہلے انھیں سوئٹزرلینڈ سے گرفتار کر کے انھیں گھر میں نظر بند کردیا تھا۔

سنہ 2010 میں سوئٹزرلینڈ کے حکام نے پولانسکی کو امریکہ کے حوالے کرنے سے متعلق درخواست مسترد کرتے انھیں نظربندی سے آزاد کردیا تھا۔

سنہ 2014 میں امریکہ کی درخواست پر پولانسکی پر پولینڈ میں مقدمہ چلایا گیا۔

پولانسکی کی پرورش پولینڈ میں ہوئی اور انھوں نے اپنی فلمی کریئر کی شروعات بھی وہیں سے کی۔ ان کا شمار پولینڈ کے عظیم فن کاروں میں ہوتا ہے۔

رومن پولنسکی نے ’چائنا ٹاؤن‘، ’روسمیری بےبی‘، ’دی پیانسٹ‘اور ’دی ریپلشن‘ جیسی کلاسک فلمیں بنائی ہیں۔

پولانسکی نے سنہ 1977 میں امریکہ میں رہتے ہوئے 13 سالہ بچی کے ساتھ سیکس کرنے کا اعتراف کر لیا تھا لیکن پھر سنہ 1978 میں جیل بھیجے جانے سے پہلے ہی پولانسکی امریکہ سے فرار ہو گئے اور پھر کبھی امریکہ واپس نہیں گئے۔

اسی بارے میں