مہیش بھٹ سینسر بورڈ کے رویے سے ناراض

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مہیش بھٹ نے سینسر بورڈ کے رویے کے خلاف عدالت میں جانے کا فیصلہ بھی کیا ہے

بالی وڈ کے فلم ساز مہیش بھٹ سینسر بورڈ کے رویے سے کافی خفا ہیں اور ان کے خیال میں اس سے فلم کی تخلیق پر اچھے اثرات نہیں پڑے ہیں۔

حال میں سینسر بورڈ نے گلوکار وکاس جوشی کے ایک نغمے سے’بامبے‘ لفظ کو حذف کرنے کا کہا ہے۔

اس کے علاوہ سینسر بورڈ نے کچھ الفاظ کی فہرست بناتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ان الفظ کا استعمال فلموں اور گانوں میں نہیں کیا جا سکتا ہے۔

مہیش بھٹ نے سینسر بورڈ کے رویے کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مکیش بھٹ نے کہا کہ’سینسر شپ جیسا پوری دنیا میں نہیں ہو رہا ہے تو یہاں کیوں اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

’حکومت تبدیل ہونے کے ساتھ ہی سینسر بورڈ کے صدر بدل جاتے ہیں۔ حکومت کا ہی کوئی نمائندہ ہی نیا سربراہ بنتا ہے اور پھر شروع ہوتا ہے نیا کھیل جس میں سنیما والے سب سے آسان نشانہ ہوتے ہیں اور پہلا حملہ ان پر ہی کیا جاتا ہے۔

مہیش بھٹ نے وزیراعظم مودی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ’جو ہر سطح پر ہم اتنے آگے بڑھ گئے ہیں تو پھر سنیما کی دنیا کو پیچھے کیوں لے کر جا رہے ہیں۔‘

بھارت میں اس وقت سینسر بورڈ خبروں میں ہے اور سنیچر کو ہی اس نے اداکارہ انوشكا شرما کی فلم ’این ایچ 10‘ کو بالآخر ریلیز کی اجازت دے دی۔

لیکن سینسر بورڈ نےبعض مناظر اور مکالموں پر قینچی چلانے کے بعد ہی یہ اجازت دی۔

بہر حال انوشكا شرما اجازت ملنے پر مطمئن ہیں تو انھیں قینچی چلائے جانے پر قدرے افسوس بھی ہے۔

اسی بارے میں