کیا بھارت میں اردو زبان مر رہی ہے؟

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں اس وقت جب ایک اردو میلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے تو ہمارے پاس یہ دیکھنے کا ایک موقع ہے کہ اردو ہماری زندگی میں کہاں کھڑی ہے۔

کیا اردو زبان کو ’غزل‘ گائیکی میں ہی قید کر دیا گیا ہے؟ وہ غزلیں جنھیں دھیمی روشنی اور دھوئیں والے کمرے میں چمکیلے کپڑے پہنے گلوکار گاتے ہیں۔

یہ کہنا کتنا فیشن ایبل ہو گیا ہے کہ مجھے اردو سے محبت ہے، خاص طور پر ’غالب جی‘ سے، جبکہ لوگ دہلی کے اس مشہور شاعر کے بجائے شیکسپیئر یا ورڈزورتھ کو زیادہ یاد کرتے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشہور ہونے کا راستہ بالی وڈ سے ہو کر ہی جاتا ہے۔ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اس زبان کو آخر ہوا کیا جب یہ اپنے ہی رسم الخط سے الگ ہو گئی۔

اگرچہ ان سوالات کے جواب کوئی بہت آسان نہیں ہے لیکن اردو کا مرثیہ پڑھنا بھی اتنا ہی مشکل ہے۔

ایک طویل عرصے سے دن میں خواب دیکھنے والے لوگ اردو اور اس سے منسلک زندگی کی روایت کے ختم ہو جانے کی بات کر رہے ہیں۔

اردو میں کتابیں

Image caption یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشہور ہونے کا راستہ بالی وڈ سے ہو کر ہی جاتا ہے

یہاں تک کہ ہندی، اردو کی بحث بھی اردو والا بمقابلہ ہندی والا کی بحث میں بٹ کر رہ گئی ہے جیسے کسی اکھاڑے میں کوئی نورا کشتی چل رہی ہو۔

بھارت کی اشاعت کی صنعت بھی ایک نظر تو قارئین کی پسند اور ان کی چاہتوں پر رکھتی ہے لیکن دوسری طرف اسے منافعے کے بارے میں بھی سوچنا پڑتا ہے۔

وہ اردو کے حوالے سے مقبول جذبات کو ابھارنے میں بھی کبھی پیچھے نہیں رہی۔

اشاعت کی صنعت میں پینگوئن اور ہارپر كولنز جیسی نامور کمپنیوں نے بھی اردو میں کتابیں چھاپنا شروع کر دی ہیں۔

مقبولیت

’بلافٹ‘ جیسے چھوٹے کھلاڑیوں نے بھی ’جاسوسی دنیا‘ کا ترجمہ پیش کیا ہے۔ اردو میں اس کے جاسوسی قصے کافی مقبول ہوئے ہیں۔

اگرچہ اردو کے مصنف منٹو کی تخلیقات دیوناگری یا پھر انگریزی تراجم کی شکل میں پڑھی جا سکتی ہیں لیکن وہ اردو شاعری ہی ہے جو مقبولیت میں سرفہرست ہے۔

یہ دیکھنا اچھا لگتا ہے کہ پورے برصغیر میں لوگ اردو ادب کے وسیع خزانے کی خوب چھان بین کر رہے ہیں۔

اردو کا سہارا

Image caption بھارتی وزیر خزانہ کا اپنی بجٹ تقریر میں اردو شاعری کے اشعار پڑھنا روایت کا حصہ سمجھا جاتا تھا

چاہے وہ میر یا مومن جیسے نام ہوں یا پھر اقبال یا فیض جیسے انقلابی شاعر ہوں یا ساحر لدھیانوی یا کیفی اعظمی جیسے نغمہ نگار ہوں۔ اردو کے چاہنے والے اپنی پسند اور جذبات کے مطابق کچھ نہ کچھ منتخب کر ہی لیتے ہیں۔

بلاگ اور ویب سائٹیں اس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جب کوئی بات نہ سوجھے تو ارکانِ پارلیمنٹ کو اردو کا سہارا لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ حالیہ دور تک وزیر خزانہ کا اپنی بجٹ تقریر میں اردو شاعری کے اشعار پڑھنا روایت کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔

’انقلاب زندہ باد‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھگت سنگھ اور ان کے انقلابی ساتھیوں نے ’انقلاب زندہ باد‘ کے اردو نعرے کو مقبول بنایا

یہاں تک کہ بھارت کے مشہور خلاباز سے اس وقت کے وزیر اعظم نے جب پوچھا کہ خلا سے بھارت کیسا دکھائی دیتا ہے تو انھوں نے کہا تھا، ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔‘

ہندوستان کے دور دراز کے علاقوں میں آج بھی تحریکوں کے سرگرم ارکان اپنی آواز ’انقلاب زندہ باد ‘ کے نعرے کے ساتھ ہی اٹھاتے ہیں۔ اردو کا یہ نعرہ علامہ اقبال نے پہلی بار پیش کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پورے ملک میں پھیل گیا تھا۔

مختلف طرح کے لوگوں میں اردو کا اتنی خوبصورتی سے استعمال کرنے کی اس سے بہترین مثال کہیں اور نہیں ملتی۔

فیض کی نظم

بھگت سنگھ اور ان کے انقلابی ساتھیوں نے ’انقلاب زندہ باد‘ نعرے کو مقبول بنایا۔

پہلی بار اسے ایک نثر کے طور پر ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن سنہ 1928 میں اردو کے جذباتی شاعر حسرت موہانی نے اسے کلکتہ میں مزدوروں کی ایک ریلی میں نعرے کے طور پر گایا تھا۔

بالکل اسی طرح فیض احمد فیض کی نظم ’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے / بول زباں اب تک تیری ہے،‘ ایشیا کے ایک بڑے حصے میں احتجاج کا گیت بن گیا۔

Image caption فیض کی نظم ’بول کے لب آزاد ہیں تیرے ‘ کو جنوبی ایشیا میں احتجاج کا گیت سمجھا جاتا ہے

ہندوستان میں اردو

’نوجوان خاتون سے‘ نامی نظم میں مجاز کا اپنی عمر کی عورتوں کو جھڑكي دینا بھارت میں خواتین کی تحریک کا نعرہ بن گیا تھا:

’ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن تو اس انچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

موجودہ دور میں اردو کے نئے جنم کے لیے بہت کچھ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ’پنرجنم‘ کا مطلب کسی کا گزر جانا بھی ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں اردو کبھی مری ہی نہیں۔

کچھ گنے چنے لوگوں کو بھلے ہی یہ محسوس ہوتا رہا ہو۔ ہاں، یہ سچ ہے کہ اس کے فروغ کو کبھی روزگار کے مواقع سے منسلک نہیں کیا گیا۔

دل اور روح

یہ بھی سچ ہے کہ حکومت نے اپنے مفادات کو بچانے کے لیے محض خانہ پری کے نام پر پیسے خرچ کیے ہیں۔

بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو شعر و شاعری کی تعریف کے نام پر سر ہلاتے ہیں کیونکہ ان کے معنی سمجھنے کی بجائے شاید انھیں یہی آسان لگتا ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اردو مر گئی یا پھر مر رہی ہے۔ تمام منفی باتوں کے باوجود اردو نہ صرف زندہ ہے بلکہ موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔

اردو آج بھارت کے دل اور اس کی روح کی زبان ہے۔

اسی بارے میں