انجلینا جولی کی سرطان سے بچنے کے لیے مزید سرجری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انجیلنا جولی بہت سے رفاحی کام میں حصہ لیتی رہی ہیں

اداکارہ انجلینا جولی نے کہا ہے کہ انھوں نے ’اووریز‘ یعنی بیضہ دانی اور ’فلیپیئن ٹیوب‘ یعنی بیض کی نالیوں کے سرطان سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کے تحت انھیں جسم سے نکلوا دیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون میں انھوں نے لکھا ہے کہ انھوں نے گذشتہ ہفتے سرجری کروائی ہے کیونکہ ان میں ایک ایسی جین ہے جس سے بیضہ دانی کے کینسر کا 50 فیصد خطرہ ہے۔

انجلینا جولی نے دو سال پہلے چھاتی کے سرطان کی سرجری کروائی تھی۔

انھوں نے اس وقت بھی نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ان کی ماں دس سال تک کینسر کا مقابلہ کرتے ہوئے 56 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

’لیکن سچ یہ ہے کہ مجھے بیماری کا جین وراثت میں ملا جس نے چھاتی اور اوریز کے سرطان کے خطرہ کو تیزی سے بڑھا دیا ہے۔‘

انجلینا جولی نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے کرنا آسان نہیں۔ ’لیکن یہ ممکن ہے کہ آپ صحت کے مسائل کا کنٹرول سنبھالیں اور ان کا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کریں۔‘

دو ہفتے قبل انجلینا جولی نے جو ہالی ووڈ کے اداکار بریڈ پٹ کی بیوی ہیں، اپنی بیضہ دانی اور بیض کی نالیاں نکلوا دی تھیں۔

اخبار میں چھپنے والے مضمون جس کا عنوان تھا ’انجلینا جولی پٹ: سرجری کی ڈائری‘میں انھوں نے کہا کہ خون کے ٹیسٹ میں کچھ ایسی چیزیں نظر آئیں جو کہ سرطان کا آغاز ہو سکتا تھا اور مجھے بتایا گیا کہ میں فوری طور پر سرجن سے ملوں۔‘

’میں بھی اسی مرحلے سے گزری جس میں میرے خیال میں ہزاروں دوسری خواتین گزرتی ہیں۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ آرام سے رہوں، مضبوط رہوں اور میرے پاس ایسا سوچنے کا کوئی جواز نہیں کہ میں اپنے بچوں کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتی اور اپنے بچوں کے بچوں سے نہیں ملوں گی۔‘

’میں نے فرانس میں اپنے شوہر کو فون کیا جو کہ چند گھنٹوں میں جہاز پر تھا۔ زندگی میں اس طرح کے لمحات کی خوبصورت بات یہ ہوتی ہے کہ ان میں بہت شفافیت ہوتی ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں اور کیا ضروری ہے۔ یہ عجیب کیفیت پیدا کرتا ہے اور یہ پر سکون ہے۔‘

مزید ٹیسٹ کے بعد پتہ چلا کہ انجلینا جولی کو ٹیومر تو نہیں ہے لیکن پھر بھی انھوں نے ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد بیضہ دانی نکلوانے کا فیصلہ کیا۔ ان کی ماں، نانی اور خالہ کی موت اسی بیماری سے ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انجلینا جولی ہالی ووڈ کے مشہور اداکار بریڈ پِٹ کی بیوی ہیں

انجلینا جولی لکھتی ہیں کہ ’میرے ڈاکٹروں نے کہا کہ مجھے میری خواتین رشتہ داروں کے سرطان کے بعد تقریباً ایک دہائی پہلے ہی حفاظتی بچاؤ کے لیے سرجری کروا لینی چاہیے تھی۔‘

انجلینا جولی میں ایک ’خراب‘ بی آر سی اے 1 ہے جو چھاتی یا بیضہ دانی کے سرطان کا امکان بڑھا دیتی ہے۔

ان کے ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر وہ سرجری نہیں کرواتی تو ان میں چھاتی کے سرطان کے 87 فیصد اور بیضہ دانی کے سرطان کے 50 فیصد امکانات ہیں۔

لیکن سرجری کا مطلب نہیں کہ سرطان پھر نہیں ہو سکتا۔ سب ٹشوز کو نکالنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

مرد اور عورت دونوں میں جنھیں یہ بی آر سی اے 1 جین ورثے میں ملتی ہے 50:50 فیصد امکان ہوتا ہے کہ وہ اسے اپنے بچوں میں منتقل کریں۔

’میری ماں کے بیضے کے سرطان کی تشخیص 49 برس کی عمر میں ہوئی جبکہ میں 39 کی ہوں۔‘

انھوں نے سرجری کے طریقے کے متعلق لکھا کہ یہ ’چھاتی کی سرجری سے کم پیچیدہ ہے لیکن اس کے اثرات زیادہ شدید ہیں۔ اس سے عورت کا ہیض زبردستی بند ہو جاتا ہے۔‘

جولی جو کہ اقوامِ متحدہ کی سفیر اور ڈائریکٹر ہیں اب اپنے ہارمونز بدلوائیں گی۔

’میں اور بچے پیدا نہیں کر سکوں گی، اور میں کچھ جسمانی تبدیلیوں کی بھی توقع کر رہی ہوں۔ لیکن میں جو بھی آئے اس کے لیے تیار ہوں، اس لیے نہیں کہ میں مضبوط ہوں بلکہ اس لیے کہ یہ زندگی کا حصہ ہے۔ اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔‘

اوویریئن کیسنر ایکشن کے خیراتی ادارے نے انجلینا جولی کے فیصلے اور بہادری کی تعریف کی ہے۔

اسی بارے میں