’ٹاپ گیئر‘ کی فرنٹ سیٹ پر اب کون؟

ٹاپ گیئر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جیریمی کلارکسن تو چلے گئے ہیں لیکن رچرڈ ہیمنڈ اور جیمز مے نے ابھی تک نہیں بتایا کہ ان کا کیا منصوبہ ہے

بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جیرمی کلارکسن سنہ 2016 میں ’ٹاپ گیئر‘ پروگرام پیش نہیں کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اب ان کی جگہ ڈرائیونگ سیٹ پر کون بیٹھے گا؟

پیش ہے چند ناموں کی فہرست جن کے متعلق چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔

جوڈی کڈ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جوڈی ٹاپ گیئر میں شمولیت سے ہمیشہ انکار کرتی رہی ہیں

ماڈل جوڈی کڈ سابق ریسنگ ڈرائیور ہیں جو آج کل چینل 5 پر ’ کلاسک کار شو‘ پیش کر رہی ہیں۔

انھوں نے گذشتہ برس دی ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں ہمیشہ ہائی آکٹین کی ہر چیز پسند کرتی ہوں۔‘

پروگرام کی ایک بڑی مداح کی حیثیت سے جوڈی نے 2010 کے خصوصی پروگرام میں حصہ بھی لیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ٹاپ گیئر کی فہرست میں لیے جانے والے پہلے ناموں میں شامل ہوں۔

تاہم گذشتہ برس انھوں نے اس شو میں کسی مستقل کردار سے انکار کیا تھا۔ انھوں نے ریڈیو ٹائمز کو بتایا تھا کہ میں ان لڑکوں میں شامل نہیں ہو سکتی۔ خدایا کبھی نہیں۔‘

جان بشپ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جان بشپ ایک ہر دلعزیز مزاحیہ اداکار ہیں

’ریڈ نوز ڈے‘ والے دن مزاحیہ اداکار جان بشپ نے جیرمی کلارکسن کی معطلی پر ان کا مذاق اڑایا تھا۔

ناظرین سے غربت زدہ یوگنڈا کے لیے مالی امداد مانگتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں کہہ رہا کہ میں خوراک کے لیے کسی کو مکہ مار دوں گا، یہ کلارکسن کا کام ہے۔‘

جان بشپ کا بے ادب اور گستاخانہ مزاح اور ان کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھانپنے والی آنکھ انھیں ٹاپ گیئر کے بے ترتیب کہانی سنانے کے طریقے کے لیے ایک مضبوط امیدوار بناتی ہے۔

شو میں برداشت کا چیلنج بھی ان کے لیے مسئلہ نہیں ہو گا۔ ایک مرتبہ انھوں نے فلاحی تنظیم این ایس پی سی سی کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم میں آسٹریلیا سے لیورپول تک سائیکل چلائی تھی۔

سوزی پیری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سوزی پیری کو پہلے بھی ٹاپ گیئر کی میزبانی کے لیے کہا گیا تھا

سوزی پیری فارمولا 1 کی کوریج سنہ 2013 سے کر رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ بی بی سی کی ’موٹوجی پی موٹر ریسنگ‘ کی 13 سال تک نامہ نگار تھیں۔

یقیناً وہ اپنا کام جانتی ہیں اور یہ بات بھی سامنے آ چکی ہے کہ انھیں اس شو کی میزبانی کرنے کے لیے پہلے بھی کہا گیا تھا۔

انھوں نے گذشتہ برس روزنامہ ٹیلی گراف کو بتایا تھا کہ ’کئی سال پہلے جب ٹی وی جیرمی، جیمز اور رچرڈ کے ساتھ ٹاپ گیئر کو پیش کرنے جا رہا تھا تو میری بات بھی اس میں شمولیت کے لیے سیریز کے پروڈیوسر سے ہوئی تھی۔‘

مجھے یاد ہے کہ ’میں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کی بجائے یہ سوچا تھا کہ میرے پاس اس کا تجربہ نہیں ہے اور یہ شاید اچھا خیال نہ ہو۔‘

’جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ شاید میں نے غلطی کی تھی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے اگلے 15 سال کام نہیں کیا۔ مجھے اس کا افسوس نہیں ہے لیکن شاید وہ ایک برا فیصلہ تھا۔‘

ایڈریئن چائلز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایڈریئن کو فٹبال کا تو پتہ ہے لیکن کاروں کے متعلق وہ زیادہ نہیں جانتے

ایڈریئن کا حال ہی میں آئی ٹی وی کے ساتھ معاہدہ ختم ہوا ہے اور وہ یقیناً ٹی وی میں کوئی بڑی نوکری ڈھونڈ رہے ہوں گے۔

وہ سپورٹس کے بہت اچھے براڈکاسٹر ہیں لیکن ان کی زیادہ تر شہرت کاروں کے علم کی نہیں بلکہ فٹ بال کے تجزیوں کی وجہ سے ہے۔

لیکن بی بی سی کے سربراہان اس بات کو بھی مدِ نظر رکھیں گے کہ ایک مرتبہ انھیں آئی ٹی وی پر اپنے اس جملے کی وجہ سے معافی مانگنی پڑی تھی کہ ’پولینڈ کی فٹبال ٹیم کے سبھی مداح بلڈرز ہیں۔‘

اور ٹاپ گیئر کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ اس کو اہلیت ہی سمجھا جائے۔

وکی بٹلر ہینڈرسن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وکی بٹلر ہینڈرسن کو کلارکسن کی دوست سمجھا جاتا ہے

جب ان کی عمر کے دوسرے بچوں پر ڈورین ڈورین کی کشش حاوی تھی اس وقت وکی بٹلر ہینڈرسن ’والکس ویگن گولف جی ٹی آئی ایم 11‘ کے عشق میں مبتلا ہو گئی تھیں۔

انھوں نے 12 برس کی عمر سے ہی 100 سی سی کی چھوٹی گاڑیوں کی ریس میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ وہ سنہ 2002 میں مساراتی ریس جیتنے والی پہلی خاتون بنیں۔

ان کے چینل 5 کے پروگرام ’فِفتھ گیئر‘ سے پہلے انھیں متعدد مرتبہ ٹاپ گیئر پروگرام میں مدعو کیا گیا تھا۔ ففتھ گیئر بعد میں بند کر دیا گیا۔

بٹلر جیرمی کلارکسن کی دوست بھی ہیں جس کا مطلب ہے کہ جیرمی ٹاپ گیئر کے پروڈیوسرز سے ان کی سفارش بھی کر سکتے ہیں۔

کرس ایونز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرس ایونز کے پاس نایاب کاروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے

اگرچہ کرس ایونز نے ٹاپ گیئر میں شمولیت سے انکار کیا ہے لیکن یہ کلارکسن کے نکالے جانے سے پہلے تھا۔

وہ بی بی سی کے ریڈیو 2 کے پریزنٹر ہیں اور کاروں کے دیوانے ہیں، جن کے پاس برطانیہ میں بہترین کاروں کا ایک مجموعہ ہے جس میں 12 ملین پاؤنڈ کی مالیت کی 1963 کی فراری 250 جی ٹو او بھی شامل ہے۔

انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ ٹاپ گیئر کے لیے موزوں انتخاب ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنے پروگرام میں سامعین کو بتایا کہ ’میں نے جو ٹوئٹر اور مختلف سوشل میڈیا پر دیکھا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ اس بارے میں لوگوں کی رائے آدھی آدھی منقسم ہے کہ میرا شو میں شامل ہونے کا خیال ٹھیک ہے کہ نہیں۔‘

انھوں نے کہا ویسے تو ٹی وی اور ریڈیو میں ففٹی ففٹی پیار اور نفرت کو بہتر سمجھا جاتا ہے، ’لیکن میں ’نہیں‘ والے کیمپ میں ہوں۔ اس لیے اگر یہ (خیال) ہٹ بھی ہو میں اپنے آپ کو ’نہیں‘ کا ووٹ ہی دوں گا، اس لیے یہ کبھی نہیں ہو گا۔‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ بی بی سی اگلے کچھ مہینوں میں ان کی سوچ بدلنے کی کوشش کرے۔

اسی بارے میں