ایمی جیکسن: لیورپول سے بالی وڈ تک کا سفر

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایمی جيکسن بھارت میں جہاں جاتی ہیں ان کے مداح انھیں گھیر لیتے ہیں

پانچ سال قبل ایمی جیکسن ایک ایسی برطانوی نوجوان تھیں جنھیں اداکاری کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور نہ ہندی زبان سے واقف تھیں۔

آج وہ ہندوستانی سنیما کی سٹار ہیں اور وہ دو طرح کی زندگی جی رہی ہیں۔

ایک برطانیہ میں جہاں انھیں کم ہی لوگ جانتے ہیں اور دوسری ہندوستان میں جہاں ان کے مداح ان کو گھیر لیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا: ’مجھے یاد آتا ہے کہ ایک دن میں جب بیدار ہوئی تو ایک فون آیا۔ میرے والد نے کہا کہ تمہارے لیے فون ہے۔ ایک ڈائرکٹر نے فون کیا تھا۔‘

جیکسن کو بھارتی ہدایتکار اے ایل وجے نے ایک مقابلۂ حسن میں دیکھا تھا۔ اور وہ فون انھی کا تھا جو کہ ایمی جیکسن کی اداکاری کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔

جیکسن اسے یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’آپ کو علم نہیں کہ آپ کو ایسے فون سے کیا توقعات وابستہ کرنی چاہیے اس لیے میں بہت پرامید نہیں تھی لیکن چند دنوں بعد وہ ہدایتکار مجھ سے ملنے بھارت سے لندن پہنچے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایمی نے 16 سال کی عمر میں اپنے فلمی کیريئر کا بھارت سے آغاز کیا

ایمی اس وقت اپنے عنفوان شباب پر تھیں اس لیے وہ لیورپول سے اپنے والدین کے ساتھ بھارت گئیں۔

انھوں نے کہا: ’اس سے قبل میں لندن بھی صرف دو بار ہی گئی تھی۔ ہم لوگوں نے ایک دو مناظر پر نگاہ ڈالی۔ انھوں نے مجھے سکرپٹ سنائی اور کردار کے بارے میں بتایا۔ میں کسی فلم کی کاسٹنگ کے لیے کبھی نہیں گئی تھی اس لیے سب کچھ بالکال ہی نیا تھا۔

’کئی گھنٹوں کے بعد انھوں نے کہا کہ وہ مجھے اپنی فلم میں مجھے شامل کرنا چاہتے ہیں اور دو ہفتے بعد ہم چنئی میں تھے۔‘

جیکسن کے لیے یہ سفر انتہائی ڈرامائی تھا حالانکہ وہ پہلی گوری (سفیدفام) نہیں تھیں جو ہندوستانی سنیما میں قدم رکھ رہی تھیں۔

تجزیہ نگار انیل سینانن بتاتے ہیں کہ ’زیادہ تر ہندوستانی گورے رنگ کو خوبصورتی کا مترادف سمجھتے ہیں۔ اور یہ سب باکس آفس کے لیے ہوتا ہے کیونکہ فلم دیکھنے والوں میں مردوں کی اکثریت ہوتی ہے۔ وہ سفید رنگ، بھورے بال، اور عام طور پر سبز آنکھوں جیسے نقشے کو خوبصورتی کا مترادف سمجھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایمی جیکسن بالی وڈ میں اداکاری کرنے والی پہلی سفید فام نہیں ہیں

ان کے مطابق ’اگر آپ خوبصورت ہیں یعنی گوری ہیں تو آپ نصف جنگ جیت چکی ہے اور اداکاری تو کام کرتے ہوئے سیکھی جاتی ہے۔‘

جیکسن کی پہلی فلم ’مدراس پٹٹینم‘ ہے جو سنہ 1940 کی دہائی میں مبنی ایک داستان عشق ہے اور جیکسن اس میں ایک گورنر کی بیٹی کا کردار نبھا رہی ہیں۔

اس سے قبل انھوں نے سکول میں ڈرامہ کر رکھا تھا لیکن وہ صرف ایک دن کے ایکٹنگ کے ورکشاپ کے بعد ہی فلموں میں اداکاری کرنے کے لیے اتر آئیں۔

انھوں نے یاد کرتے ہوئے کہا: ’فلم کے سیٹ پر پہلا دن بگولے کی طرح تھا، وہاں سینکڑوں افراد تھے۔ اور یکایک بیچ سمندر میں پھینک دیا جانا اپنے آپ میں تجربہ ہوتا ہے۔

’یہ ایک ایسی چیز ہے جسے میں اپنے پوتے پوتیوں کو دکھاؤں گی کہ میں جب 16 سال کی تھی تو فلموں آ گئی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وہ اب شنکر کی فلم آئی میں آ رہی ہیں

اس فلم سے وہ بھارت میں یکایک مشہور ہو گئیں۔ لیکن وہ اپنے شہر لیورپول میں صرف ایمی جیکسن تھیں۔

وہ کہتی ہیں: ’ہندوستان میں بات بالکل مختلف ہے۔ میری اپنی بال سنوارنے والی اور میک ٹیم ہے۔ میرے اسسٹنٹ ہیں اور میرے دو محافظ بھی ہیں جو کہ میرے لیے بہت عجیب بات ہے۔

’میرے خیال میں ایک اداکارہ کی زندگی کا یہ حصہ ہیں لیکن میں نے کھبی نہیں سوچا تھا کہ یہ میرے ساتھ ہوگا۔ گھر واپس آنا میرے لیے اطمینان بخش تھا کہ میں اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ایک عام انسان ہوں لیکن وہاں بہت مشکل ہے۔ مجھے یہ تضاد پسند ہے۔‘

جیکسن کا کہنا ہے کہ اس انڈسٹری کو فتح کرنے کے لیے زبان کا سیکھنا ترجیحات میں شامل ہے۔ در حقیقت تین زبانیں ہندی، تمل اور تیلگو۔ ہندی وہ تھوڑا بہت جان گئی ہیں لیکن جنوبی ہندوستان میں بولی جانے والی تمل اور تیلگو وہ سیکھ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آئی فلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھارت کی اب تک کی سب سے مہنگی فلم ہے

بہرحال انیل سینانن کہتے ہیں کہ ’زبان کا علم لازمی نہیں کیونکہ بیرونی ادکاراؤں کے مکالموں کو عام طور پر ڈب کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بالی وڈ میں کامیابی کے لیے ادکاری کا فن آنا سب سے کم ضروری چیزوں میں شامل ہے۔‘

جیکسن کی تازہ فلم ’آئی‘ ہندوستان میں بننے والے سب سے مہنگی فلم ہے۔

جیکسن کہتی ہیں: ’ہدایتکار شنکر بڑی فلمیں بناتے ہیں اور یہ بھی ان سے مختلف نہیں۔ میں فلم میں ہیروئن کا کردار نبھا رہی ہوں۔ یہ فلم محبت پر مبنی ہے اور اس میں ایک اچھا پیغام بھی ہے۔ اس میں رومانس، ایکشن، جوش سب ایک ساتھ موجود ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تجزیہ نگار انیل سینانن بتاتے ہیں کہ ’زیادہ تر ہندوستانی گورے رنگ کو خوبصورتی کا مترادف سمجھتے ہیں

جیکسن کہتی ہیں کہ اس کے لیے جہاں وہ رقص کی تربیت لے رہی ہیں وہیں زبان بھی سیکھ رہی ہیں۔ اور چند ہی برسوں میں ان کی زندگی میں زبردست تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’مجھے یہ پتہ نہیں کہ دوسرے دن کیا ہوگا۔ اسی طرح یہ انڈسٹری چلتی ہے۔ اس سال مجھے یکے بعد ديگرے پانچ فلمیں ملی ہیں۔ مجھے یہ جان کر اچھا لگتا ہے کہ مداح مجھے قبول کر رہے ہیں اور میں جو کررہی ہوں اسے وہ پسند کرتے ہیں۔

’جب میں رات میں بستر میں جاتی ہوں تو خود سے کہتی ہوں کیا واقعی ایسا ہو رہا ہے۔ کیا میں جلد ہی بیدار تو ہیں ہو جاؤں گی۔ مجھے خود کو چٹکی کاٹنا پڑتا ہے کیونکہ یہ سب بالکل غیر متوقہ ہو رہا ہے۔‘

اسی بارے میں