’سلمان حادثے کے وقت گاڑی نہیں چلا رہے تھے‘

سلمان خان تصویر کے کاپی رائٹ colors
Image caption سلمان خان پر الزام ہے کہ وہ نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہے تھے

بالی وڈ کے اداکار سلمان خان کے ڈرائیور اشوک سنگھ نے 2002 میں سڑک کنارے سوئے افراد کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ حادثے کے وقت گاڑی سلمان نہیں چلا رہے تھے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اشوک سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ حادثے کے وقت گاڑی وہ خود چلا رہے تھے۔

اس سے قبل گذشتہ ہفتے اسی معاملے کی سماعت کے دوران خود سلمان خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس دن وہ گاڑی نہیں چلارہے تھے۔

28 ستمبر 2002 کو ایک لینڈ كروزر جیپ ممبئی کے علاقے باندرہ میں ایک بیکری کے باہر واقع فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے لوگوں پر چڑھ گئی تھی۔

اس حادثے میں ایک شخص ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

اس کار کو مبینہ طور پر سلمان خان چلا رہے تھے۔

سلمان خان پر الزام ہے کہ وہ نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہے تھے لیکن سلمان خان نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ نہ ہی نشے میں تھے اور نہ ہی گاڑی چلارہے تھے۔

انھوں نے اس الزام کو بھی غلط بتایا ہے کہ وہ حادثے کے بعد وہاں سے بھاگ گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سلمان خان کا کہنا ہے کہ حادثے وقت وہ نہ نشے میں تھے نہ گاڑی چلارہے تھے

سلمان خان نے عدالت کو یہ بتایا تھا کہ انہوں نے ہی اپنے ڈرائیور سے کہا تھا کہ وہ پولیس کو اطلاع دیں۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا ہے وہ پندرہ منٹ تک وہیں تھے۔

جوہو علاقے کے جے ڈبلو میریٹ ہوٹل کے ایک ملازم نےگزشتہ برس نو اکتوبر کو اس معاملے کی ایک سنوائی کے دوران بتایا تھا کہ ڈرائیور کی سیٹ پر سلمان خان بیٹھے تھے یعنی حادثے کے وقت گاڑی سلمان خان ہی چلارہے تھے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ پارکنگ سٹاف کے طور پر انہوں نے دیکھا تھا کہ جب لینڈ کروزر ہوٹل سے نکلی تھی تو اسے سلمان خان ہی چلارہے تھے جبکہ ان کے باڈی گارڈ ان کی دائیں طرف بیٹھے تھے اور گلوکار کمال خان پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔

لیکن سلمان خان کا کہنا ہے کہ ان کی طرف والا دروازہ لاک ہوگیا تھا اس لیے وہ ڈرائیور کی سیٹ سے گزر کر گاڑی سے اترے تھے۔

اس معاملے سے متعلق بعض دستاویزات گم ہوگئے تھے لیکن ان کے مل جانے کے بعد گذشتہ برس 24 ستمبر کو معاملے کی از سر نو سماعت شروع ہوئی تھی۔

اس معاملے میں پہلے سلمان خان پر لاپرواہی سے گاڑی چلانے کا مقدمہ چل رہا تھا لیکن اب ان پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

اس کیس میں اگر سلمان خان قصوروار پائے جاتے ہیں تو انہیں 10 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں