’دماغ کا دہی‘

Image caption دہلی والوں کا کہنا ہے کہ اردو ان کی زبان ہے اور اسے خراب کرنے کا حق بھی ان کا ہی ہے

ایک دور تھا کہ پاکستانی معاشرے میں مذہبی رواداری نام کی ایک کیفیت پائی جاتی تھی اور غیر شیعہ حضرات بھی مجلس عزا میں چلے جاتے تھے۔ غم حسین تو سب کو ہے لیکن مجلس میں شرکت کی ایک اور وجہ بھی ہوا کرتی تھی۔

جن دنوں میں ایک ڈائجسٹ میں کام کرتا تھا، اس کے ایڈیٹر انور فراز بتاتے تھے کہ وہ محرم میں نصیر الاجتہادی کی مجلس ڈھونڈتے پھرتے تھے۔ وہ علامہ صاحب کی زبان کے عاشق تھے۔ ان کا خطاب سن کر اپنا تلفظ ٹھیک کرتے تھے۔

’زبان کی واٹ‘

اب نہ مذہبی رواداری رہی، نہ سیکھنے کا شوق، نہ تلفظ کی فکر۔ اردو دانوں کے شہر کراچی کے سو میں سے ننانوے افراد غلطی بولنے میں غلطی کرتے ہیں اور کسی کو غلطی کا احساس تک نہیں۔

ایسے میں کون شکوہ کرے کہ الیکٹرونک میڈیا کی وجہ سے زبان بگڑ رہی ہے۔ کسی کو کہہ کر دیکھیں اور دیکھیں کہ وہ کتنا بگڑتا ہے۔

اتفاق سے میں یہ بات عباس عالم کے سامنے کہہ بیٹھا۔ وہ کسی ٹی وی چینل میں نہیں، ایک اشتہار ساز ادارے میں بڑے عہدے پر کام کرتے ہیں۔ ٹی وی کے اشتہاروں کی کاپی بھی لکھتے ہیں۔

عباس عالم نے کہا کہ ہر طبقے کی زبان الگ ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کی وجہ سے کچھ لوگوں کو زبان بگڑنے کا احساس ہوتا ہو لیکن کچھ لوگوں کی زبان بہتر بھی ہو رہی ہے۔ آپ کسی واقعے کے بعد ٹی وی پر عام لوگوں کو اظہار خیال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان میں دیہاتی اور مزدور بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کی زبان ٹی وی دیکھ کر بہتر ہوئی ہوگی۔

عباس عالم نے یہ بھی کہا کہ زبان کا رونا ہر زمانے میں رویا جاتا ہے۔ نجی چینلوں کی آمد سے پہلے ہمارے بزرگ افسوس کرتے تھے کہ ڈائجسٹ نوجوان نسل کی زبان خراب کر رہے ہیں۔

’اب آپ ان ڈائجسٹوں کو پڑھ کر دیکھیں، ان کی زبان اجلی معلوم ہوگی۔ کوئی دور تھا کہ نظیر اکبر آبادی اور اس کے بعد داغ کی زبان کو بازاری قرار دیا گیا۔ آج دونوں کو استاد تسلیم کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اخبارات سے زیادہ الیکٹرانک میڈیا کو اردو زبان خراب کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے

استادوں کی بات آئی تو میں نے دہلی یونیورسٹی کے استاد پروفیسر خالد علوی سے پوچھا کہ ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے؟ ہم تو صرف پاکستان کا حال جانتے ہیں۔ پروفیسر صاحب بکھر گئے۔ کہنے لگے، اردو دہلی کی زبان ہے، اسے ہم ہی بگاڑیں گے، آپ کون ہوتے ہیں؟

پروفیسر صاحب نے دلچسپ بات بتائی کہ آج کل ہندوستان میں ’خلافت‘ کا لفظ ’مخالفت‘ کے معنوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یعنی نریندر مودی کی ’خلافت‘ کے باوجود اروند کیجری وال دلی کا الیکشن جیت گئے۔ اچھا ہوا کہ مولانا محمد علی جوہر ہندوستان میں دفن نہ ہوئے ورنہ کیا پتا کفن پھاڑ کے اٹھ کھڑے ہوتے۔

الیکٹرونک میڈیا سے ہندی بھی محفوظ نہیں۔ رپورٹر یہ نہیں کہتا کہ بارش کی وجہ سے یا بارش کے کارن ٹریفک جام ہوگیا۔ اس کے بجائے کہا جاتا ہے، بارش کے چلتے ٹریفک جام ہوگیا۔ یہ کون سی زبان ہے؟

Image caption ’ہوسکتا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کی وجہ سے کچھ لوگوں کو زبان بگڑنے کا احساس ہوتا ہو لیکن کچھ لوگوں کی زبان بہتر بھی ہو رہی ہے‘

پروفیسر صاحب نے بتایا کہ ہندوستان میں ہنگلش کا چرچا ہے اور ٹی وی پر اسی زبان کا چلن ہے۔ اس میں ہندی کم ہے یا غلط سلط ہے اور انگلش زیادہ ہے۔ ہاں، انگلش بولنے میں کوئی غلطی نہیں کرتا۔ بعضے چینل کے اینکر اور رپورٹر تو اتنی اچھی انگریزی بولتے ہیں کہ انگریزوں کو مات دیتے ہیں۔

انگریزی تو پاکستان والوں کی بھی اچھی ہے لیکن انگریزی چینل کوئی نہیں چلا۔ دو چینل بند ہوئے اور ایک نے چولا بدل کے اردو کے در دولت پر گھٹنے ٹیکے۔

کراچی سے نکلنے والے ایک روزنامے کے ایڈیٹر طاہر نجمی کا کہنا ہے کہ ٹی وی کی براہ راست نشریات بھی بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔ لائیو بریکنگ نیوز چلتی ہے تو عوام تو گھبراتے ہی ہیں، اینکر اور رپورٹر بھی اکثر گھبرائے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اس گھبراہٹ میں حقائق کے علاوہ زبان کی غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔

طاہر نجمی کہتے ہیں کہ بعض اوقات پریس کانفرنس یا جلسے میں خطاب کرنے والوں کی زبان بے لگام ہوجاتی ہے۔ ہمارا رپورٹر خبر لکھتا ہے تو کچھ خود ایڈٹ کرتا ہے اور کچھ سب ایڈیٹر کر دیتا ہے۔ برا ہو ٹی وی چینلوں کی لائیو نشریات کا کہ جس کی وجہ سے اوئے اوئے بھی گلیمرائز ہوگیا ہے۔

سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر نے ایک بار کسی رکن کی بحث سے تنگ آ کر کہہ دیا تھا کہ’دماغ کا دہی نہ بنائیں‘۔ ٹی وی چینلوں نے وہ ہی دہی ڈبا پیک کر کے گھر گھر پہنچا دیا اور اب یہ محاورہ وہاں بھی چل پڑا ہے جہاں دہی نہیں جمتا۔

اسی بارے میں