’دھرم سنکٹ میں‘ فلم پر سینسربورڈ کی پہل اور تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Viacom 18 Motion Pictures
Image caption پریش راول نے اس سے قبل فلم او مائی گاڈ میں ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا تھا جو بھگوان پر مقدمہ کرتا ہے

بھارتی سینسر بورڈ سی بی ایف سی نے آنے والی فلم ’دھرم سنکٹ میں‘ یعنی مذہب بحران کا شکار کی سکریننگ کے لیے مذہبی رہنماؤں کو مدعو کیا ہے۔

پریش راول اور نصیرالدین شاہ جیسے معروف اداکاروں کی فنکاری سے مزین اس فلم کی کہانی حساس موضوع پر مبنی ہے۔ یہ فلم 10 اپریل کو ریلیز ہورہی ہے اور اطلاعات کے مطابق فلم میں سادھو سنتوں پر طنز کیا گیا ہے۔

سنسر بورڈ کے اس فیصلے کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سینسر بورڈ نے کسی تنازع سے بچنے کے لیے ایک مولوی اور ایک پنڈت کو بلانے کا انتظام کیا ہے لیکن ان اس فیصلے پر ہی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

فلم ’دھرم سنکٹ میں‘ کی کہانی ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جسے اس کی عمر کا اچھا خاصہ عرصہ گزر جانے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک مسلم گھر میں پیدا ہوا تھا اور ایک ہندو نے اسے گود لیا تھا۔

اپنی مذہبی شناخت کی کشمکش میں مبتلا یہ شخص کیسے دو مذاہب کے درمیان پھنس جاتا ہے، فلم میں اسی کشمکش کی عکاسی کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ raindrop media
Image caption نصیر الدین شاہ نے اس فلم میں ایک مذہبی رہنما کا کردار ادا کیا ہے

سینسر بورڈ پہلے بھی ’پی کے‘، ’او مائی گاڈ‘ اور ’ایم ایس جي‘ جیسی فلموں کے تعلق سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔

سینسر بورڈ کی اس پہل کی تنقید کرتے ہوئے بالی وڈ کے معروف اداکار پریش راول نے کہا: ’کسی فلم کو سرٹیفیکیٹ دینے کے لیے مذہبی شخصیات کا بلایا جانا بے حد خطرناک رجحان ہے۔‘

دوسری جانب اس فلم میں ایک اہم کردار ادا کرنے والے معروف اداکار نصیر الدین شاہ نے کہا: ’یہ ایک مضحکہ خیز خیال ہے اور میرے لیے تو یہ بے تكے پن سے بھی بڑھ کر ہے۔‘

جہاں فنکاروں نے اس معاملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے وہیں سینسر بورڈ کی جانب سے کسی نے بھی اس بارے میں کسی قسم کی بات کرنے سے انکار کر دیا۔

ان کے خیال میں کہیں ان کے اظہار خیال پر ہی کوئی نیا تنازع نہ پیدا ہو جائے۔

اس سے قبل سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے راج امیت کمار کی فلم ’ان فریڈم‘ پر یہ کہتے ہوئے بھارت میں پابندی عائد کر دی ہے کہ اس فلم میں ہم جنس پرستی کی حمایت ہے اور اس سے دو مذہبی برادریوں میں اشتعال پیدا ہو سکتا ہے۔