’ریڈیو کا ڈھکن‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK

ہم جنھیں ووٹ دے کر اسمبلی کا رکن بناتے ہیں، وہ ہمیں ماموں بناتے ہیں۔

ایک ریڈیو پر کسی دل جلے کی یہ بات سن کر مجھے فلم ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ یاد آ گئی۔ منا بھائی نے فلم میں بھلے چنگے لوگوں کا علاج کر کے ان کا حشر کردیا تھا۔ بالی وڈ کی فلموں نے بھلی چنگی زبان کا حشر کر دیا ہے۔

فلموں کے ڈائیلاگ سن کر ایف ایم ریڈیو کے میزبانوں نے پنگا لینا سیکھا، باتونی کی جگہ پکاؤ متعارف کرایا، احمق کی جگہ ڈھکن کہنا شروع کیا اور یوں گانوں کے ساتھ زبان کا بینڈ بجایا جا رہا ہے۔

زیڈ اے بخاری نے اپنی سرگذشت میں بیان کیا ہے کہ ہندوستان میں جب ریڈیو کا آغاز ہوا تو انھیں معیاری زبان بولنے والے لوگوں کی تلاش میں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے۔ کبھی زبان دانوں کے قدموں میں بیٹھنا پڑا اور کبھی سیڑھیاں چڑھنا پڑیں۔

ان کے دور میں ریڈیو پر پطرس بخاری، میرا جی، اسرار الحق مجاز، ن م راشد، حفیظ ہوشیار پوری، کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی جیسے ادیب اور شاعر ملازم تھے۔ خواجہ حسن نظامی، ڈاکٹر ذاکر حسین، منشی پریم چند، مرزا فرحت اللہ بیگ اور رشید احمد صدیقی ریڈیو پر باقاعدگی سے تقاریر کرنے آتے تھے۔

اور اب؟

نوجوان شاعر فرخ اظہار ایک ریڈیو چینل سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ زمانے گئے جب ریڈیو پر بھرتی کے لیے سب سے پہلے زبان اور تلفظ دیکھا جاتا تھا۔ اب اس کا نمبر سب سے آخری ہے۔ ریڈیو پر بولی جانے والی زبان عامیانہ سے سوقیانہ ہوتی جا رہی ہے۔ ریڈیو جوکی اگر پروگرام میں ’ہٹ گئی‘ اور ’بجا دی‘ جیسے الفاظ نہ کہے تو پروڈیوسر کہتا ہے، شو ٹھنڈا گیا۔

فرخ اظہار کہتے ہیں کہ چوبیس گھنٹے ٹرانسمشن چلانا آسان کام نہیں۔گھنٹے پورے کرنے کےلیے ہر طرح کے لوگ بھرتی کر لیے جاتے ہیں۔ ریڈیو میزبان جزوقتی ملازم ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ریڈیو کو دینے کے لیے کم وقت ہوتا ہے، زبان کی اصلاح کے لیے وقت کہاں سے لائیں۔

آفتاب اقبال اپنے ٹی وی پروگرام میں زبان کی اصلاح کے لیے چند قیمتی منٹ صرف کرتے ہیں۔ یہ ایک گراں قدر کوشش ہے۔ لیکن ان پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ چار چھ منٹ کی اصلاح سے پہلے اور بعد میں پینتیس چالیس منٹ تک بھانڈوں کی گفتگو سب کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔

آفتاب اقبال کے چینل میں نصرت امین ایک سینیئر پوزیشن پر کام کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ زبان کو لسانیات کے ماہرین کی اقلیت نہیں، کم پڑھے لکھے لوگوں اکثریت بدلتی ہے۔ درست لفظ موسِم ہے لیکن جنھیں نہیں معلوم وہ موسم بولتے ہیں اور اب اسی کا چلن ہے۔ شِمالی اور شُمالی، آصَف اور آصِف ایسی ہی مثالیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ زبان کا ارتقا پسماندہ طبقے میں ہوتا ہے۔ اور یہ شعوری نہیں ہوتا۔ الیکٹرونک میڈیا کی ترقی سے فرق یہ پڑا ہے کہ پہلے سو سال میں زبان میں جتنی تبدیلیاں ہوتی تھیں، وہ اب بیس سال میں ہو جاتی ہیں۔ پنگا اور ڈھکن جیسے الفاظ پڑھے لکھے لوگ نہیں گھڑ سکتے۔

ممتاز ادیب اور براڈکاسٹر آغا ناصر کہتے ہیں کہ ان کے دور میں بھی نئے الفاظ گھڑے جاتے تھے لیکن اس کے لیے طویل سوچ بچار کیا جاتا تھا۔ ایک قصہ انھوں نے اپنا سنایا:

’ایک وقت تھا کہ ریڈیو کے تمام اسٹیشنوں پر ایک ساتھ نشریات کے لیے کہا جاتا تھا کہ نیشنل ہُک اپ پر ٹرانسمشن ہو رہی ہے۔ آغا ناصر نے نیشنل ہک اپ کے لیے ’قومی نشریاتی رابطہ‘ کی اصطلاح تخلیق کی۔ پہلی بار یہ آن ایئر ہوا تو لاہور سے وقار عظیم کا فون آیا کہ قومی کے ساتھ نشریاتی لکھ کر آپ نے گرامر کی غلطی کی ہے۔ آغا صاحب نے جواب دیا کہ یہ گرامر کا معاملہ نہیں بلکہ ناؤن یعنی اسم وضع کیاگیا ہے۔ ان کی دلیل مان لی گئی۔‘

میں جاننا چاہتا ہوں کہ ’حوالگی‘ گھڑنے والے کے پاس کیا دلیل ہے؟

آغا ناصر نے اپنا کریئر 50 کی دہائی میں شروع کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اس دور میں ہر سٹیشن پر زبان کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے زبان داں رکھے جاتے تھے۔ کراچی میں ارم لکھنوی اور شمس زبیری، لاہور میں صوفی تبسم اور ناصر کاظمی جیسے کارکن تھے۔ ریڈیو پاکستان کے سربراہ زیڈ اے بخاری تھے۔ ذرائع ابلاغ کے سربراہ شاعر ادیب ہوتے تھے۔ جنگ کے ایڈیٹر سید محمد تقی تھے۔ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر فیض احمد فیض تھے۔ وہ انگریزی، عربی، فارسی یعنی کئی زبانیں جانتے تھے اور ان کی اپنی زبان شیریں تھی۔

سینیئر نیوز پروڈیوسر مبشر علی زیدی نے اپنے گریبان میں جھانکا۔ خشک، پھیکی لیکن گز بھر لمبی زبان دکھائی دی۔

اسی بارے میں