دبئی: تیسرے ہم ایوارڈز کی تقریب

Image caption ہم ٹی وی کی انتظامیہ کےمطابق وہ صرف دو نامزد افراد ہی کودُبئی لائے ہیں

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ہم کے تیسرے سالانہ ایوارڈز کی تقریب جو دبئی میں منعقد کی گئی تھی، اس لحاظ سے منفرد رہی کہ یہ پہلاموقع ہے جب کسی پاکستانی ٹی وی چینل کے ایوارڈز کی تقریب ملک سے باہرمنعقد کی گئی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ ٹی وی کے اکثرستارے حتیٰ کہ جو ایوارڈ کے لیے نامزد بھی تھےاس تقریب میں شامل نہ ہو سکے۔

ہم ٹی وی کی انتظامیہ کےمطابق وہ صرف دو نامزد افراد ہی کو دُبئی لائے ہیں۔

شاہد یہی وجہ تھی کہ بہت پہلے ہی یہ واضع اندازہ ہو گیا تھا کہ اس مرتبہ کونسا ایوارڈ کس کو ملےگا۔

تاہم ہم ٹی وی اس تقریب کے تقریباً 1500 ٹکٹ جن کی قیمت ڈیڑھ سو سے 1500 درہم تک تھی کو مکمل فروخت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

تقریب کی بات کریں تو اس بار سیٹ اور پروڈکشن پچھلے دونوں ایوارڈز سے بہت بہتر تھی۔

البتہ اداکاروں کی پرفارمنس بہرحال کوئی خاص تاثر نہ چھوڑ سکی۔

Image caption سالہا سال سے بہترین تخلیقی کام پیش کرنے پر انور مقصود کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا

سب سے بڑا اعتراض جوگذشتہ تین سالوں سے کیا جا رہا تھا کہ پاکستانی ٹی وی کے ایوارڈز کی تقریب میں بالی وُوڈ کے گانوں پر کیوں رقص کیاجاتا ہے جس کا اس سال بھی انتظامیہ کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

احسن خان اور صباقمر ہوں یا شہروز سبزواری اور سائرہ شہروز یا پھرمہوش حیات ان سب ہی نے بھارتی گانوں پر رقص کیا۔

مہوش حیات سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اپنے آئٹم نمبر ’ بلی‘ پر رقص کریں گی مگر انھوں نے ایسا صرف 40 سیکنڈ کے لیے ہی کیا۔

اس تقریب کی سب سے خاص بات بھارتی گلوکارہ سُنیدھی چوہان کی پرفارمنس تھی جنھوں نے حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔

اس بار ٹی وی اور فنونِ لطیفہ کے دیگر کئی شعبوں میں سالہا سال سے بہترین تخلیقی کام پیش کرنے پر انور مقصود کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا جسے وصول کرکے انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں ملک کے حالات پر طنز کے نشتر چلائے۔

موسیقی کے شعبے میں گراں قدر خدمات پر عابدہ پروین کو بھی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیاگیا جبکہ ثمینہ پیرزادہ کو ٹی وی کے شعبے میں بیش بہاخدمات پر ایکسیلنس ان ٹی وی ایوارڈ سےنوازاگیا۔

Image caption بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ماہرہ خان کو دیا گیا

ڈرامہ سیریلز میں ہم ٹی وی کا ڈرامہ ’صدقےتمہارے‘ اس مرتبہ بازی لےگیا۔

’صدقے تمھارے‘ نے پاپولر کیٹیگری میں کُل سات ایوارڈز اپنے نام کیے جن میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جو ماہرہ خان کو دیا گیا، بہترین معاون اداکار ریحان شیخ قرار پائے۔

بہترین جوڑی کا ایوارڈ اسی ڈرامے کی جوڑی عدنان ملک اور ماہرہ خان کو ملا اور بہترین منفی کردار اور سب سے زیادہ متاثر کُن کردار کے ایوارڈز بھی اسی ڈرامے کے حصے میں آئے جو سمیعہ ممتاز کودیےگئے۔

صدقے تمھارے نے بہترین سیریل ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مصنف کا اور بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ بھی حاصل کیا جو اس کے مصنف خلیل الرحمان اور ہدایت کار احتشام الدین کو دیا گیا اور ڈرامے نے بہترین اوریجنل ساؤنڈ ٹریک کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔

پاپولر چوائس یا عوام کے ووٹوں کے ذریعے چنے جانے والی ایوارڈز کی اس کیٹیگری میں میکائل ذوالفقار کو بہترین اداکار کا ایوارڈ ان کے ڈرامہ ’محبت صبح کا ستارہ‘ میں اداکاری پر دیا گیا جبکہ اسی ڈرامے کے لیے منشا پاشا کو بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔

جیوری کی جانب سے دیے جانے والے ایوارڈز میں ’بنٹی آئی لو یو‘ کو بہترین ڈرامہ قرار دیا گیا جبکہ اسی ڈرامے کی اداکارہ صبا قمر کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔

Image caption احسن خان اور صباقمر ہوں یا شہروز سبزواری اور سائرہ شہروز یا پھرمہوش حیات ان سب ہی نے بھارتی گانوں پر رقص کیا

جیوری کی جانب سے بہترین اداکار کا ایوارڈ احسن خان کو ڈرامہ سیریل ’موسم‘ کے لیے دیا گیا۔

سوپ ڈراموں کی کیٹیگری میں زرنش کو ’سسرال میرا‘ کے لیے بہترین اداکارہ جبکہ بہترین معاون اداکار کی کیٹیگری میں دانش تیمور اور عمران اسلم کو مشترکہ ایوارڈ ملا جو انھیں بالترتیب ’تیرے گناہ گار‘ اور ’سسرال میرا‘ میں اداکاری کے لیے دیا گیا۔

حریم فاروق اور عدنان ملک بہترین ابھرتے ہوئے فنکار کا ایوارڈ اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔

تیسرے ہم ایوارڈز میں بہترین ٹیلی فلم ’میں ککو اور وہ؟ ‘ قرار پائی جبکہ بہترین مزاحیہ ڈرامہ ’ اف میری فیملی‘ قرار پایا۔

فیشن کے شعبے میں شہزاد نور اور سبل چوہدری کو بہترین ماڈل کے طور پر چنا گیا۔

موسیقی کے شعبے میں فرحان سعید کے گانے ’روئیاں‘ کو بہترین گانا اور بہترین میوزک ویڈیو شہاب قمر کے بنائے ہوئے ’غلطی میں‘ کو ایوارڈ دیا گیا ہے۔