ٹاپ گیئر کی یاد آئے گی: جیرمی کلارکسن

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بی بی سی کے کاروں سے متعلق مقبول پروگرام ’ٹاپ گیئر‘ کے سابقہ میزبان جیرمی کلارکسن کہتے ہیں کہ وہ ٹاپ گیئر کی کمی محسوس کریں گے۔

بی بی سی کی جانب سے معطل کیے جانے کے بعد یہ جیرمی کلارکسن کا پہلا بیان ہے۔ انھوں نے برطانوی اخبار ’دی سن‘ میں اپنے ہفتہ وار کالم میں لکھا کہ ’یہ احساس بہت زیادہ نہیں ہے لیکن پھر بھی میں وہاں اپنی موجودگی کی کمی محسوس کروں گا۔‘

خیال رہے کہ 54 سالہ کلارکسن کا شمار چینل کے مقبول ترین میزبانوں میں ہوتا تھا۔ تاہم پروگرام کے ایک پروڈیوسر سے ’لڑائی‘ کے بعد انھیں بی بی سی انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ ماہ معطل کر دیا گیا تھا اور بعد میں انتظامیہ نے ان کے لائسینس کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بی بی سی نے آخری وارننگ دی ہے

ٹاپ گئیر کی فرنٹ سیٹ پر اب کون

اپنے کالم میں جیرمی کلارکسن نے اپنے ان مداحوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے برطانیہ اور برطانیہ سے باہر انھیں کو بحال کرنے کے لیے ایک درخواست پر دستخط کیے تھے۔

بی بی سی کا موٹر شو ’ٹاپ گیئر‘ ماضی میں بھی تنازعات کی زد میں آ چکا ہے۔

کلارکسن پر سنہ 2012 میں فلمائے گئے ایک پروگرام کے دوران بچوں کا معروف گیت ’اینی مینی مائنی مو‘ پڑھتے ہوئے نسل پرستانہ لفظ کے استعمال کا الزام لگا تھا۔

سنہ 2012 میں ہی لندن میں بھارت کے ہائی کمیشن نے شکایت کی تھی کہ ’ٹاپ گیئر‘ نامی پروگرام کا بھارت میں کیا جانے والا شو توہین آمیز تھا۔

اس سے پہلے اپریل سنہ 2011 میں ٹاپ گیئر کے ایک پروگرام پر اس وقت تنقید کی گئی جب اس میں میکسیکو کے لوگوں کو سُست اور ناکارہ جبکہ میکسیکو کے کھانوں کو بدمزہ قرار دیا گیا۔

اس سے زیادہ ان کی جانب سے گذشتہ ماہ پیش انے والے اس واقعے کے حوالے سے مزید کچھ نہیں کہا گیا۔

خیال رہے کہ کلارکسن کو بی بی سی کی جانب سے 10 مارچ کو معطل کیا گیا تھا۔

دی سن میں ان کے ہفتہ وار کالم میں عارضی طور پر وقفہ آیا تھا تاہم اخبار کی انتظامیہ نے قارئین کو یقین دہانی کروائی تھی کہ کلارکسن چھٹیوں پر ہیں اور انھیں بے دخل نہیں کیا جا رہا۔

اسی بارے میں