’عمران خان، سپر ماڈل، ٹرک ڈرائیور اور دہشتگرد‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فلمی میلے کی جان فلم ’ود آؤٹ شیپرڈز‘ تھی جس میں دوسرے کرداروں کے علاوہ عمران خان کی زندگی کے کچھ مناظر دکھائے گئے جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں

اسلام آباد میں نیشنل کونسل آف آرٹس کے آڈیٹوریم میں ایک فلمی میلے کا انعقاد کیا گیا جسے منتظمین نے شہر کی تاریخ کا پہلا دستاویزی فلمی میلہ قرار دیا۔

اس میلے کا اہتمام فیس فلمز اور بائی پولر فلمز نے کیا تھا۔

یہ میلہ چینی صدر کی پاکستان آمد کے موقعے پر دارالحکومت میں سخت سکیورٹی میں منعقد کیا گیا۔ اس دوران اسلام آباد کی ’ناکہ بندی‘ کا یہ عالم تھا کہ پولینڈ کے سفیر میلے میں شرکت کے لیے آئے تو انھیں آدھا گھنٹہ ایک ناکے پر گزارنا پڑا جس کی وجہ سے وہ پولش فلم کا تعارف نہ پیش کر سکے۔

میلے میں پانچ فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں، جن میں ’قراقرم بائی نائسا،‘ ’لکی ایرانی سرکس،‘ ’کے ٹو اینڈ دی انویزیبل فٹ مین،‘ ’لائیوز ورتھ لونگ‘ اور ’ودآؤٹ شیپرڈز‘ شامل تھیں۔ ان سب فلموں میں پاکستانی معاشرے کو درپیش مختلف مسائل کا احاطہ کیا گیا تھا۔

ودآؤٹ شیپرڈز کو بلا خوفِ تردید اس میلے کی جان سمجھا جا سکتا ہے، اور اسے شائقین کی ایک بڑی تعداد نے بڑی محویت سے دیکھا اور سراہا۔ اس فلم میں چھ کہانیاں بیک وقت چلتی ہیں، جن کے کردار پاکستان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، اور اپنے مخصوص حالات سے پاکستان کو درپیش مسائل اجاگر کرتے ہیں۔

ان کرداروں میں عمران خان، سپر ماڈل ونیزا، بلوچستان کا ایک ٹرک ڈرائیور، ایک سابق طالبان جنگجو، گلوکار اریب اظہر اور ایک پشتون خاتون صحافی لائبہ یوسفزئی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عمران خان نے مرغابی کو نشانہ بنایا تو ان کا بیٹا چلا اٹھا

ہدایت کار اور سینیماٹوگرافر عمران بابر کی اس فلم میں عمران خان کی زندگی کی کچھ پسِ پردہ مناظر دکھائے گئے ہیں جو دیکھنے والوں کے دلچسپی کا باعث ہوں گے۔ ایک سین میں عمران خان اپنے بیٹوں کے ہمراہ مرغابی کا شکار کھیلنے جاتے ہیں۔ جب وہ بندوق سے ایک مرغابی کو مار گراتے ہیں تو ان کا بڑا بیٹا قاسم مرغابی کے خون میں لت پت بدن کو دیکھ کر بار بار کراہت کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس کے گوشت کو کبھی ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔

اس پر عمران خان اسے سمجھاتے ہیں کہ اگر کسی جانور کو پہلے مارا نہ جائے تو اس کا گوشت کیسے کھاؤ گے؟

بلوچستان کے ٹرک ڈرائیور کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے جو منڈی سے مال اٹھا کر نامساعد حالات میں سینکڑوں کلومیٹر کے دشوار گزار سفر پر نکل کھڑے ہوتے ہیں، لیکن اس دوران اپنے گھر اور بچوں کو بری طرح یاد کرتے ہیں۔

سابق طالبان جنگجو اپنی کہانی میں اپنی تربیت اور جنگی معرکوں کا ذکر کرتے ہیں۔ تاہم ایک موقعے پر جب طالبان نے ان کی درخواست کے باوجود ہتھیار پھینکنے والے نہتے لوگوں کو گولی چلا کر مار ڈالا تو وہ طالبان سے نالاں ہو گئے اور اس کے بعد سے انھوں نے طالبان سے راہیں الگ کر لیں۔

اس فلم میں پاکستانی معاشرے میں موجود درگاہوں والے صوفی اسلام اور شدت پسند اسلام کی بھی عکاسی کی گئی ہے۔

’کے ٹو اینڈ دی انویزیبل فٹ مین‘ میں کوہ پیمائی کی مہموں کی کامیابی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے پورٹروں کی کٹھن زندگی دکھائی گئی ہے۔ فلم کی نمائش کے بعد برازیلی فلم ساز یارا لی نے شائقین کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انھیں پاکستان میں فلم بنا کر بہت اچھا لگا اور یہاں انھیں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کے ٹو کے بندہ ہائے مزدور کے تلخ اوقات

انعم عباس کی فلم ’لکی ایرانی سرکس‘ کو بھی خاصا سراہا گیا۔ اس مختصر فلم میں اس مشہور سرکس میں کرتب دکھانے والوں کی زندگیاں پیش کی گئی ہیں۔

شائقین نے پولینڈ کی فلم ’قراقرم بائی نائسا‘ کو بھی خاصی دلچسپی سے دیکھا۔ فلم کے بعد پولینڈ کے سفیر نے کہا کہ پولش فلم ساز پیٹرائکی رومن نے کئی حصوں پر مبنی یہ دستاویزی فلم 1969 میں بنائی گئی تھی۔ نمائش میں اس سیریز کا ایک حصہ ’آخری گاؤں‘ دکھایا گیا۔ یہ کے ٹو کے دامن میں رہنے والے بلتیوں کے ایک گاؤں کی کہانی ہے، جو نزدیک ترین سڑک، دکان، اور دوسری سہولیات سے پانچ دن کے پیدل فاصلے پر واقع ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ اپنے شدید ماحول کا مقابلہ کرتے ہوئے خوش و خرم رہتے ہیں۔

میلے کی خاص بات یہ تھی کہ ہر فلم کی نمائش کے بعد فلم ساز سٹیج پر آ کر لوگوں کے سوالوں کے جواب دیتے تھے اور فلم بنانے کے پیچھے اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فلمی میلے کی ایک منتظم انعم عباس نے کہا کہ یہ میلہ صرف ابتدا ہے اور مستقبل میں ایک اسے ایک مستقل سلسلے کی حیثیت دے دی جائے گی۔

اسی بارے میں